اسکول کریکر حملے شرپسندوں کا سراغ لگایا جائے

ملک دشمن عناصر مستقبل کے معماروں کو تعلیم کے حصول سے روکنے کے لیے سرگرم ہیں

کراچی و دیگرمیٹروپولیٹن شہروں میں جہاں مختلف بہیمانہ جرائم ، بھتہ خوری اور دیگر سیاسی جماعتوں کی چپقلش بھی جاری رہتی ہے، فوٹو:فائل

ملک دشمن عناصر مستقبل کے معماروں کو تعلیم کے حصول سے روکنے کے لیے سرگرم ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اسکول کی عمارتوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنانے کے بعد اب سندھ کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی حب کراچی میں بھی منگل کی صبح شرپسندوں نے کریکر سے حملہ کیا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔


تاہم دہشت گردوں کی دیدہ دلیری کہ فرار ہوتے ہوئے پمفلٹ بھی پھینکے جن میں پھانسیوں کا عمل بند کرنے اور پولیس مقابلے روکنے کے لیے تنبیہہ کی گئی ہے، پمفلٹ میں واضح دھمکی دی گئی ہے کہ طلبا سے خالی اسکولوں پر حملے تنبیہہ ہیں، ہم اپنے جنگی اہداف کو اتنا وسیع کردیں گے کہ تمھارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔ دہشت گرد جانتے ہیں تعلیم کسی بھی قوم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور وہ اپنی شرپسندانہ حرکتوں سے ملک کے معماروں کو تعلیمی اداروں سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس امر کی جانب بھی توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے کہ طالبان کا نام استعمال کر کے کہیں کچھ اور شرپسند اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا تو نہیں چاہتے ۔

کراچی و دیگرمیٹروپولیٹن شہروں میں جہاں مختلف بہیمانہ جرائم ، بھتہ خوری اور دیگر سیاسی جماعتوں کی چپقلش بھی جاری رہتی ہے محض طالبان کے خدشے پر فوکس کرنے کے بجائے دیگر اطراف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جعلی کریکر حملے کسی اور مقصد کا بھی شاخسانہ ہوسکتے ہیں جس کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی ہو۔ انتہاپسند دہشت گرد تعلیمی اداروں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرکے تعلیمی سرگرمیاں روکنا چاہتے ہیں۔ قومی و صوبائی حکومتیں اسکولوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔
Load Next Story