پاکستان میں آج بھی اسکواش کا ٹیلنٹ موجود ہے جہانگیر خان
کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے سخت محنت اور لگن سے کام لینا ہوگا، سابق چیمپیئن
کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے سخت محنت اور لگن سے کام لینا ہوگا، جہانگر خان۔ فوٹو: فائل
اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں آج بھی ایسا ٹیلنٹ موجود ہے جو کھیل میں کھویا ہوا مقام واپس دلا سکے، حکومتی سرپرستی کے ساتھ ان باصلاحیت کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے سخت محنت اور لگن سے کام لینا ہوگا۔
سابق عالمی چیمپئن نے ان خیالات کا اظہار نمائندہ ''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، طویل عرصے تک بلا شرکت غیرے عالمی اسکواش پر حکمرانی کرنے والے جہانگیر خان نے کہا کہ قومی جونیئر ٹورنامنٹ کے دوران میں نے ذاتی طور پر ملک بھر سے آئے ہوئے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا، اس دوران یہ امر باعث مسرت رہا کہ بعض پلیئرز سے عالمی سطح پر بہتر کارکردگی کی توقع رکھی جاسکتی ہے، انھوں نے کہا کہ میں اسکواش اکیڈمی قائم کرکے ملک بھر سے ابھرتے ہوئے منتخب باصلاحیت کھلاڑیوں کو تربیت دینے کے لیے کوشاں ہوں۔
حالیہ چیمپئن شپ کے دوران سامنے آنے والے چند باصلاحیت کھلاڑیوں کا انتخاب کرلیا، جلد ہی ایک مربوط پروگرام کے تحت کوچنگ کا بھی آغاز ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ عالمی معیار کے کھلاڑی تیار کرنے میں حکومت کو بھی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اعلیٰ مقام پانے کیلیے کوشاں کھلاڑیوں کو بھی سخت محنت اور جذبے سے بھر پور ٹریننگ کرنا ہوگی، جہانگیر خان نے کہا کہ اگر ان امور پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے تو میری خواہش اور تمنا کے مطابق پاکستان سے دوبارہ عالمی اسکواش چیمپئن سامنے آنا شروع ہوسکتے ہیں۔
سابق عالمی چیمپئن نے ان خیالات کا اظہار نمائندہ ''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، طویل عرصے تک بلا شرکت غیرے عالمی اسکواش پر حکمرانی کرنے والے جہانگیر خان نے کہا کہ قومی جونیئر ٹورنامنٹ کے دوران میں نے ذاتی طور پر ملک بھر سے آئے ہوئے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا، اس دوران یہ امر باعث مسرت رہا کہ بعض پلیئرز سے عالمی سطح پر بہتر کارکردگی کی توقع رکھی جاسکتی ہے، انھوں نے کہا کہ میں اسکواش اکیڈمی قائم کرکے ملک بھر سے ابھرتے ہوئے منتخب باصلاحیت کھلاڑیوں کو تربیت دینے کے لیے کوشاں ہوں۔
حالیہ چیمپئن شپ کے دوران سامنے آنے والے چند باصلاحیت کھلاڑیوں کا انتخاب کرلیا، جلد ہی ایک مربوط پروگرام کے تحت کوچنگ کا بھی آغاز ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ عالمی معیار کے کھلاڑی تیار کرنے میں حکومت کو بھی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اعلیٰ مقام پانے کیلیے کوشاں کھلاڑیوں کو بھی سخت محنت اور جذبے سے بھر پور ٹریننگ کرنا ہوگی، جہانگیر خان نے کہا کہ اگر ان امور پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے تو میری خواہش اور تمنا کے مطابق پاکستان سے دوبارہ عالمی اسکواش چیمپئن سامنے آنا شروع ہوسکتے ہیں۔