آئندہ ماہ پاک امریکا ہفتہ معاشی تعاون منایا جائیگا خرم دستگیر
آئندہ ماہ پاک امریکاہفتہ معاشی تعاون ترتیب دیاگیاہےجس کامحورتیسری پاک امریکابزنس آپرچیونیٹی کانفرنس ہے،خرم دستگیر
بزنس کانفرنس میں شرکت کیلیے کثیر تعداد میں امریکی کمپنیوں کو دعوت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔ وفاقی وزیرتجارت۔ فوٹو: فائل
وفاقی وزیر تجارت انجنئیر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ آئندہ ماہ اسلام آباد میں پاک امریکا ہفتہ معاشی تعاون ترتیب دیا گیا ہے جس کا محور تیسری پاک امریکا بزنس آپرچیونیٹی کانفرنس ہے۔
دونوں ممالک کے پرائیویٹ سیکٹرز اورمتعلقہ حکومتی نمائندوں کے مابین براہ راست رابطہ اس کانفرنس کی ترجیحات میں شامل ہے، کانفرنس میں متعدد نئے امریکی پروگراموں کا اعلان کیا جائے گا جس کے ذریعے پاک امریکا معاشی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کیلیے جی ایس پی کا معاملہ امریکی کانگریس میں زیر التواہے جس کے پیش نظر حکومت پاکستان اور امریکی حکومت نے باہمی تجارت کے فروغ کیلیے نان ٹیرف تجارتی سہولتوں کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فریم ورک ایگریمنٹ (ٹیفا)کا اجلاس بھی اسی ہفتے اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس میں گزشتہ سال واشنگٹن میں منعقد ہونے والے اجلاس کے مشترکہ ایکشن پلان پر اقدامات پر عملدرآمد کی رفتار کا جائزہ لیا جائے گا، بزنس کانفرنس میں ان سیکٹرز کی برآمدات پر خصوصی توجہ دی جائے گی جن میں امریکی مارکیٹ میںکھپت کی واضح گنجائش موجود ہے، ان سیکٹرز میں زراعت، ٹیکسٹائل، اپیرل، فٹ ویئر، لیدر، آلات جراحی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، انفرااسٹرکچر اور فارماسیوٹیکل شامل ہیں، بزنس کانفرنس میں شرکت کیلیے کثیر تعداد میں امریکی کمپنیوں کو دعوت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔
امریکا میں موجود پاکستانی کمرشل افسران ان امریکی کمپنیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ انھیں کانفرنس میں شرکت کی ترغیب دی جا سکے،کانفرنس میں شرکت کیلیے آنے والے امریکی کاروباری افراد کے متوقع مقامی پارٹنرز کا بھی تعین کیا گیا ہے اور ان کی باہمی ملاقات سے تجارتی اور معاشی تعاون کو وسعت ملے گی، کانفرنس سے پیشتر امریکی تجارتی سفارت کاروں کے پاکستان کے بڑے کاروباری مراکز کے دورے بھی ترتیب دیے گئے ہیں تاکہ انھیں پاکستان میں کاروبار سے متعلق حقائق اور مواقع سے مکمل آگہی ہواور ان کے دورے کے معنی خیز نتائج حاصل ہو سکیں۔
دونوں ممالک کے پرائیویٹ سیکٹرز اورمتعلقہ حکومتی نمائندوں کے مابین براہ راست رابطہ اس کانفرنس کی ترجیحات میں شامل ہے، کانفرنس میں متعدد نئے امریکی پروگراموں کا اعلان کیا جائے گا جس کے ذریعے پاک امریکا معاشی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کیلیے جی ایس پی کا معاملہ امریکی کانگریس میں زیر التواہے جس کے پیش نظر حکومت پاکستان اور امریکی حکومت نے باہمی تجارت کے فروغ کیلیے نان ٹیرف تجارتی سہولتوں کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فریم ورک ایگریمنٹ (ٹیفا)کا اجلاس بھی اسی ہفتے اسلام آباد میں منعقد ہوگا جس میں گزشتہ سال واشنگٹن میں منعقد ہونے والے اجلاس کے مشترکہ ایکشن پلان پر اقدامات پر عملدرآمد کی رفتار کا جائزہ لیا جائے گا، بزنس کانفرنس میں ان سیکٹرز کی برآمدات پر خصوصی توجہ دی جائے گی جن میں امریکی مارکیٹ میںکھپت کی واضح گنجائش موجود ہے، ان سیکٹرز میں زراعت، ٹیکسٹائل، اپیرل، فٹ ویئر، لیدر، آلات جراحی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، انفرااسٹرکچر اور فارماسیوٹیکل شامل ہیں، بزنس کانفرنس میں شرکت کیلیے کثیر تعداد میں امریکی کمپنیوں کو دعوت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔
امریکا میں موجود پاکستانی کمرشل افسران ان امریکی کمپنیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ انھیں کانفرنس میں شرکت کی ترغیب دی جا سکے،کانفرنس میں شرکت کیلیے آنے والے امریکی کاروباری افراد کے متوقع مقامی پارٹنرز کا بھی تعین کیا گیا ہے اور ان کی باہمی ملاقات سے تجارتی اور معاشی تعاون کو وسعت ملے گی، کانفرنس سے پیشتر امریکی تجارتی سفارت کاروں کے پاکستان کے بڑے کاروباری مراکز کے دورے بھی ترتیب دیے گئے ہیں تاکہ انھیں پاکستان میں کاروبار سے متعلق حقائق اور مواقع سے مکمل آگہی ہواور ان کے دورے کے معنی خیز نتائج حاصل ہو سکیں۔