پاکستان سے میچ میں بھارتی ٹیم پر زیادہ دباؤ ہوگا پرساد
روایتی حریف کوابتدا میں ہی ہرانے سے پلیئرزکا مورال بلند ہوسکتا ہے، بولنگ کوچ
1996 میں کوارٹر فائنل کے دوران عامر سہیل کو بولڈ کرنا کبھی نہیں بھول سکتا۔ فوٹو: فائل
بھارتی بولنگ کوچ وینکٹش پرساد نے ورلڈکپ کی دفاعی مہم کو کامیاب بنانے کیلیے پاکستان کیخلاف فتح کو لازمی قرار دیدیا۔
ان کا کہنا ہے کہ گوکہ میچ میں ٹیم پر زیادہ دبائو ہوگا مگر روایتی حریف کو ابتدائی میچ میں ہرانے سے پلیئرز کا مورال بلند ہو سکتا ہے، اس کا اگلے میچز میں فائدہ ملے گا۔ ایک انٹرویو میں پرساد نے کہا کہ دفاعی چیمپئن ہونے کی وجہ سے 15 فروری کو ایڈیلیڈ میں پاکستان کیخلاف میچ میں بھارتی ٹیم پر زیادہ دبائو ہوگا لیکن میگا ایونٹ کے مقابلوں میں ناقابل شکست رہنے کا کارنامہ ہمیں مدد فراہم کرسکتا ہے،امید ہے کہ بلو شرٹس ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف 6-0 سے فتح کا ریکارڈ مزید بہتر بنا لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پڑوسی ٹیموں کے مابین مقابلہ چاہے جہاں بھی ہو برابری کی سطح پر ہوتا ہے، 15 فروری کو شیڈول میچ کی ٹکٹیں صرف20 منٹ میں فروخت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شائقین کس قدر بے چین ہیں، دونوں اطراف کے عوام کا بے پناہ لگائو پلیئرز کو زیادہ دبائو سے دوچار کردیتا ہے، البتہ اہم بات یہ ہے کہ میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پلیئر کو راتوں رات شہرت بھی مل جاتی ہے، اس لیے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی خواہش ہوگی کہ ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے قومی ہیرو کا اعزاز حاصل کریں۔
وینکٹش پرساد1996 اور 1999کے ورلڈ کپ میں پاکستان کیخلاف فتوحات میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں، انھوں نے کہاکہ میگا ایونٹ میں جب بھی پاک بھارت مقابلوں کا ذکر ہوگا تو میرا نام ضرور لیا جائے گا جو کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 1996 میں کوارٹر فائنل کے دوران عامر سہیل کو بولڈ کرنا کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ ہم دونوں میں اس سے قبل تلخ کلامی ہوئی تھی، پاکستانی اوپنر کی خواہش تھی کہ میری ہر گیند کو بائونڈری سے باہر بھیجیں اورمیں انھیں فوری آئوٹ کرنا چاہتا تھا جس میں کامیابی ملی۔
بھارتی بولنگ کوچ نے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل ٹرائنگولر سیریز میں بلو شرٹس کی ناقص کارکردگی لمحہ فکریہ ہے، ٹائٹل کا دفاع کرنے کیلیے بولرز کو صلاحیتوں سے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا، بھونیشور کمار، محمد شامی اور امیش یادیو نے اگر لائن و لینتھ پر گیندیں کیں تب ہی مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہوگا، میرے خیال میں بائونسی وکٹوں پر زیادہ تجربات کے بجائے وکٹ ٹو وکٹ بالز کرنے والے بولرز ہی کامیاب رہیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ گوکہ میچ میں ٹیم پر زیادہ دبائو ہوگا مگر روایتی حریف کو ابتدائی میچ میں ہرانے سے پلیئرز کا مورال بلند ہو سکتا ہے، اس کا اگلے میچز میں فائدہ ملے گا۔ ایک انٹرویو میں پرساد نے کہا کہ دفاعی چیمپئن ہونے کی وجہ سے 15 فروری کو ایڈیلیڈ میں پاکستان کیخلاف میچ میں بھارتی ٹیم پر زیادہ دبائو ہوگا لیکن میگا ایونٹ کے مقابلوں میں ناقابل شکست رہنے کا کارنامہ ہمیں مدد فراہم کرسکتا ہے،امید ہے کہ بلو شرٹس ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف 6-0 سے فتح کا ریکارڈ مزید بہتر بنا لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پڑوسی ٹیموں کے مابین مقابلہ چاہے جہاں بھی ہو برابری کی سطح پر ہوتا ہے، 15 فروری کو شیڈول میچ کی ٹکٹیں صرف20 منٹ میں فروخت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شائقین کس قدر بے چین ہیں، دونوں اطراف کے عوام کا بے پناہ لگائو پلیئرز کو زیادہ دبائو سے دوچار کردیتا ہے، البتہ اہم بات یہ ہے کہ میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پلیئر کو راتوں رات شہرت بھی مل جاتی ہے، اس لیے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی خواہش ہوگی کہ ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے قومی ہیرو کا اعزاز حاصل کریں۔
وینکٹش پرساد1996 اور 1999کے ورلڈ کپ میں پاکستان کیخلاف فتوحات میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں، انھوں نے کہاکہ میگا ایونٹ میں جب بھی پاک بھارت مقابلوں کا ذکر ہوگا تو میرا نام ضرور لیا جائے گا جو کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 1996 میں کوارٹر فائنل کے دوران عامر سہیل کو بولڈ کرنا کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ ہم دونوں میں اس سے قبل تلخ کلامی ہوئی تھی، پاکستانی اوپنر کی خواہش تھی کہ میری ہر گیند کو بائونڈری سے باہر بھیجیں اورمیں انھیں فوری آئوٹ کرنا چاہتا تھا جس میں کامیابی ملی۔
بھارتی بولنگ کوچ نے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل ٹرائنگولر سیریز میں بلو شرٹس کی ناقص کارکردگی لمحہ فکریہ ہے، ٹائٹل کا دفاع کرنے کیلیے بولرز کو صلاحیتوں سے بڑھ کر کچھ کرنا ہوگا، بھونیشور کمار، محمد شامی اور امیش یادیو نے اگر لائن و لینتھ پر گیندیں کیں تب ہی مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہوگا، میرے خیال میں بائونسی وکٹوں پر زیادہ تجربات کے بجائے وکٹ ٹو وکٹ بالز کرنے والے بولرز ہی کامیاب رہیں گے۔