پاکستانی کوچ بھارت پر فتح سے تاریخ بدلنے کے خواہاں

کارکردگی میں تسلسل کیلیے کوشش کررہا ہوں، ثابت قدمی سے آگے بڑھنا ہوگا، وقار یونس

ہم ایک بار عالمی ٹائٹل جیت چکے، فائنل بھی کھیلے لیکن روایتی حریف کو ایک بار بھی شکست نہ دے سکے، وقار فوٹو: رائٹرز/فائل

پاکستانی کوچ وقار یونس بھارت پر فتح سے تاریخ بدلنے کے خواہاں ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ میں سفرکے فاتحانہ آغازکا عزم لیے میدان میں اتریں گے۔

ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کیلیے کوشش کررہا ہوں،میڈیا اور کراؤڈ کا دباؤ برداشت کرتے ہوئے ثابت قدمی سے منزل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ آئی سی سی کی ویب سائٹ کو انٹرویو میں وقار یونس نے کہاکہ ورلڈکپ 1992کے وقت میں پُرجوش نوجوان اور کیریئر کی بہترین فارم میں تھا لیکن تقدیر کو کوئی نہیں بدل سکتا،انجری کی وجہ سے میگا ایونٹ کا حصہ نہ بن سکا۔


ایک محرومی کا احساس ضرور ہوا لیکن کوئی پچھتاوا نہیں،بعد ازاں انگلینڈ اور آسٹریلیا سمیت کئی سیریز میں متعدد کامیابیاں سمیٹیں، انھوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں کھیلنا اور کوچنگ ہی نہیں بلکہ دیکھنا بھی پُرجوش عمل ہوتا ہے،پاکستانی عوام تو اس کھیل سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں،قوم اور ہرکھلاڑی کی خواہش ہے کہ ٹیم اچھا کھیلے، میری بھی کرکٹرز کو یہی ہدایت ہوتی ہے کہ ایک یونٹ بن کر میدان میں اترتے ہوئے اپنا بہترین کھیل پیش کریں۔ نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں،کامیابیاں قسمت سے ملتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ورلڈکپ 2011میں گرین شرٹس سے زیادہ توقعات نہ تھیں، پلیئرز نے یکجا ہوکر بھرپور محنت کی تو سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، بدقسمتی سے بھارت کیخلاف چند کمزوریوں نے فتح کا سفر دشوار کردیا، مجموعی طور پر ہم ایک بار عالمی ٹائٹل جیت چکے، فائنل بھی کھیلے لیکن روایتی حریف کو ایک بار بھی شکست نہ دے سکے۔

اس بار جیت کے ساتھ سفر کا آغاز کرنے کیلیے پُرعزم ہیں، انھوں نے کہا کہ ہر بڑے ایونٹ میں میڈیا اور کراؤڈ کا پریشر ہوتا ہے جسے برداشت کرتے ہوئے ثابت قدمی سے مقصد کی طرف آگے بڑھنااہم ہے، پوری کوشش کررہا ہوں کہ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل آئے، کھلاڑی میدان میں جائیں تو ملک کیلیے کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھیں، سب سے زیادہ توجہ اسی جذبے کے فروغ پر دی ہے۔
Load Next Story