فوجی عدالتوں کے قانونی عمل کا آغاز
یہ عدالتیں دہشت گردوں اورطاقتور مافیا کےدھمکی آمیز رویےسےقطعی آزاد ہوں گی اور مقدمات کا فیصلہ جلد اور بروقت کریں گی۔
وہ قوتیں جو دہشت گردوں کے لیے نرم رویہ رکھتی ہیں انھیں بھی یہ سوچنا چاہیے کہ اس طرح کا رویہ ملکی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ فوٹو:فائل
DERA ISMAIL KHAN:
قومی ایکشن پلان کے تحت قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں کو وزارت داخلہ کی جانب سے 12 مقدمات موصول ہوگئے ہیں' اس سے یہ واضح ہو گیا کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق فوجی عدالتوں کے تحت قانونی عمل کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ان 12مقدمات کی جلد سماعت ہوگی۔ صوبائی ایپکس کمیٹیوں نے مقدمات وزارت داخلہ کو بھجوائے جہاں سے چھان بین کے بعد انھیں فوج کو بھجوایا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں کو بھجوائے گئے مقدمات خطرناک دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔
ابتدائی طور پر ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جن میں پنجاب اور صوبہ خیبر پی کے میں تین تین' سندھ میں دو جب کہ بلوچستان میں ایک فوجی عدالت قائم کی گئی ہے۔ عسکری ذرایع کا کہنا ہے کہ بعد میں عدالتوں کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔حکومتی اہلکار کے مطابق حکومت اور عدلیہ مل کر عدالتی نظام میں موجود سقم اور کمزوریاں دور کرنے کے لیے تمام تر اقدامات کریں گی۔ملک بھر میں جس طرح دہشت گردی کا عفریت سرایت کر چکا تھا اور یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ اس کا مقابلہ نہ کیا گیا تو ملکی سلامتی اور بقا دائو پر لگ جائے گی لہٰذا وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔
قومی ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کو پھانسی کی سزائیں بھی دی گئیں جو کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کے لیے واضح پیغام تھا کہ انھیں اب کہیں جائے پناہ نہ ملے گی اور انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ شکایات سننے میں آ رہی تھیں کہ دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار بہت سے ملزمان کے مقدمات سول عدالتوں میں طویل عرصے تک چلتے رہتے اور وہ ناکافی شہادتوں اور عدم ثبوت کی بنا پر ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں جس سے وہ دوبارہ دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں اس طرح دہشت گردی کا جن قابو میں نہیں آ رہا۔ لہٰذا بعض حلقوں کی جانب سے سیکیورٹی اداروں پر یہ الزامات لگائے جاتے رہے کہ وہ اپنے فرائض با احسن انجام نہیں دے رہے اور دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
ان حالات کے تناظر میں یہ ضروری ہو چکا تھا کہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں لہٰذا عسکری وسیاسی قیادت نے قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ عدالتیں دہشت گردوں اور طاقتور مافیا کے دھمکی آمیز رویے سے قطعی آزاد ہوں گی، اور مقدمات کا فیصلہ جلد اور بروقت کریں گی، اس طرح مجرموں کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کے کیے کی سزا دی جا سکے گی۔
بعض حلقے فوجی عدالتوں کے قیام پر اعتراضات اٹھا رہے اور اسے سول عدالتوں کے اختیارات کم کرنے سے تشبیہہ دے رہے ہیں مگر یہ نہیں بتا رہے کہ دہشت گردی کا آخر حل کیا ہے اور اس سے کیسے نجات ممکن ہے۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے تو حکومت نے یہ بھی کر کے دیکھ لیے مگر انتہا پسند تنظیموں نے ان مذاکرات سے امن کا راستہ تلاش کرنے کے بجائے انھیں حکومت کی کمزوری سمجھتے ہوئے دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ حکومت کو دبائو میں لا کر مرضی کی شرائط منوانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔
اس موقع پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہہ کر خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی کہ اگر انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کیا گیا تو بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہو گا اور اس کے باوجود انتہا پسندوں کو دبانے میں کامیابی نہیں ہو گی۔ مگر بالآخر فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کر کے ان تمام خدشات کو دور کر دیا اور اس میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے دکھا دیا کہ اگر عزم پختہ ہو تو بڑی سے بڑی برائی کا خاتمہ کرنا مشکل نہیں۔ انتہا پسند قوتوں کی حامی جماعتوں کو بھی نظر آ رہا ہے کہ اب طاقت کے زور پر اپنی بات منوانا ممکن نہیں رہا لہٰذا اپنی ناکامی کی خفت کو مٹانے کے لیے وہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت پر اتر آئی ہیں۔
انھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب مرض حد سے بڑھ جائے تو مریض کی جان بچانے کے لیے آپریشن ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اب جو دہشت گرد ملکی امن و امان کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں انھیں ان کے کیے کی سزا دینا لازم ہو چکا ہے۔ حکومت بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ فوجی عدالتوں کا استعمال سیاسی سطح پر نہیں کیا جائے گا اس کا خالصتاً استعمال دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف ہی ہوگا۔
اس وقت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عسکری و سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہے اور اس نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ جب تک اس ملک میں دہشت گرد موجود ہیں ان کے خلاف بھرپور آپریشن کا عمل جاری رہے گا۔ وزیراعظم بارہا اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف ہے اور اس ملک میں ہر ممکن طور پر امن چاہتی ہے۔ وہ قوتیں جو دہشت گردوں کے لیے نرم رویہ رکھتی ہیں انھیں بھی یہ سوچنا چاہیے کہ اس طرح کا رویہ ملکی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ لہٰذا انھیں مخالفانہ رویہ ترک کر کے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ اس ملک میں ایک بار پھر امن کا بول بالا ہو سکے۔
قومی ایکشن پلان کے تحت قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں کو وزارت داخلہ کی جانب سے 12 مقدمات موصول ہوگئے ہیں' اس سے یہ واضح ہو گیا کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق فوجی عدالتوں کے تحت قانونی عمل کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ان 12مقدمات کی جلد سماعت ہوگی۔ صوبائی ایپکس کمیٹیوں نے مقدمات وزارت داخلہ کو بھجوائے جہاں سے چھان بین کے بعد انھیں فوج کو بھجوایا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں کو بھجوائے گئے مقدمات خطرناک دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔
ابتدائی طور پر ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جن میں پنجاب اور صوبہ خیبر پی کے میں تین تین' سندھ میں دو جب کہ بلوچستان میں ایک فوجی عدالت قائم کی گئی ہے۔ عسکری ذرایع کا کہنا ہے کہ بعد میں عدالتوں کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔حکومتی اہلکار کے مطابق حکومت اور عدلیہ مل کر عدالتی نظام میں موجود سقم اور کمزوریاں دور کرنے کے لیے تمام تر اقدامات کریں گی۔ملک بھر میں جس طرح دہشت گردی کا عفریت سرایت کر چکا تھا اور یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ اس کا مقابلہ نہ کیا گیا تو ملکی سلامتی اور بقا دائو پر لگ جائے گی لہٰذا وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔
قومی ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کو پھانسی کی سزائیں بھی دی گئیں جو کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کے لیے واضح پیغام تھا کہ انھیں اب کہیں جائے پناہ نہ ملے گی اور انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ شکایات سننے میں آ رہی تھیں کہ دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار بہت سے ملزمان کے مقدمات سول عدالتوں میں طویل عرصے تک چلتے رہتے اور وہ ناکافی شہادتوں اور عدم ثبوت کی بنا پر ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں جس سے وہ دوبارہ دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں اس طرح دہشت گردی کا جن قابو میں نہیں آ رہا۔ لہٰذا بعض حلقوں کی جانب سے سیکیورٹی اداروں پر یہ الزامات لگائے جاتے رہے کہ وہ اپنے فرائض با احسن انجام نہیں دے رہے اور دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
ان حالات کے تناظر میں یہ ضروری ہو چکا تھا کہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں لہٰذا عسکری وسیاسی قیادت نے قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ عدالتیں دہشت گردوں اور طاقتور مافیا کے دھمکی آمیز رویے سے قطعی آزاد ہوں گی، اور مقدمات کا فیصلہ جلد اور بروقت کریں گی، اس طرح مجرموں کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کے کیے کی سزا دی جا سکے گی۔
بعض حلقے فوجی عدالتوں کے قیام پر اعتراضات اٹھا رہے اور اسے سول عدالتوں کے اختیارات کم کرنے سے تشبیہہ دے رہے ہیں مگر یہ نہیں بتا رہے کہ دہشت گردی کا آخر حل کیا ہے اور اس سے کیسے نجات ممکن ہے۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے تو حکومت نے یہ بھی کر کے دیکھ لیے مگر انتہا پسند تنظیموں نے ان مذاکرات سے امن کا راستہ تلاش کرنے کے بجائے انھیں حکومت کی کمزوری سمجھتے ہوئے دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ حکومت کو دبائو میں لا کر مرضی کی شرائط منوانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔
اس موقع پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہہ کر خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی کہ اگر انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کیا گیا تو بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہو گا اور اس کے باوجود انتہا پسندوں کو دبانے میں کامیابی نہیں ہو گی۔ مگر بالآخر فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کر کے ان تمام خدشات کو دور کر دیا اور اس میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے دکھا دیا کہ اگر عزم پختہ ہو تو بڑی سے بڑی برائی کا خاتمہ کرنا مشکل نہیں۔ انتہا پسند قوتوں کی حامی جماعتوں کو بھی نظر آ رہا ہے کہ اب طاقت کے زور پر اپنی بات منوانا ممکن نہیں رہا لہٰذا اپنی ناکامی کی خفت کو مٹانے کے لیے وہ فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت پر اتر آئی ہیں۔
انھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب مرض حد سے بڑھ جائے تو مریض کی جان بچانے کے لیے آپریشن ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اب جو دہشت گرد ملکی امن و امان کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں انھیں ان کے کیے کی سزا دینا لازم ہو چکا ہے۔ حکومت بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ فوجی عدالتوں کا استعمال سیاسی سطح پر نہیں کیا جائے گا اس کا خالصتاً استعمال دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف ہی ہوگا۔
اس وقت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عسکری و سیاسی قیادت ایک صفحے پر ہے اور اس نے یہ تہیہ کر رکھا ہے کہ جب تک اس ملک میں دہشت گرد موجود ہیں ان کے خلاف بھرپور آپریشن کا عمل جاری رہے گا۔ وزیراعظم بارہا اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف ہے اور اس ملک میں ہر ممکن طور پر امن چاہتی ہے۔ وہ قوتیں جو دہشت گردوں کے لیے نرم رویہ رکھتی ہیں انھیں بھی یہ سوچنا چاہیے کہ اس طرح کا رویہ ملکی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ لہٰذا انھیں مخالفانہ رویہ ترک کر کے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ اس ملک میں ایک بار پھر امن کا بول بالا ہو سکے۔