متحدہ کی سندھ حکومت میں واپسی سے کچھ پی پی وزرا پریشان

مکیش چائولہ، جام مہتاب اور دوست محمد راہموں اپنے سابقہ قلم دان لینے کیلیے سرگرم ہوگئے

وزیراعلیٰ نے سندھ کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا، متحدہ کی شمولیت پر بات کا امکان۔ فوٹو: فائل

متحدہ قومی موومنٹ کی سندھ حکومت میں متوقع واپسی کی اطلاعات کے پیش نظر پیپلز پارٹی سے وابستہ کچھ وزرا اپنی وزارتیں بچانے کی کوششیں میں مصروف ہوگئے ہیں، جبکہ جن وزراکو ایم کیو ایم کی حکومت چھوڑنے کے باعث خالی ہونے والی وزارتوں کے قلم دان الاٹ کیے گئے تھے ان میں سے کچھ اپنے سابقہ قلم دان حاصل کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کی سندھ حکومت میں واپسی کی صورت میں پیپلز پارٹی کو اپنے کچھ وزرا کی قربانی دینی پڑ ے گی کیونکہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی وزرا یا کابینہ کے ارکان کی تعداد 18 سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے جبکہ اس وقت صوبائی کابینہ کے اراکین کی تعداد 18 ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے جتنے وزرا کو سندھ کابینہ کا رکن بنایا جاتا ہے اتنے ہی پیپلز پارٹی کے وزرا سے وزارتیں خالی کرائی جائیں گی۔


ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو وزرا ایم کیو ایم کی متوقع واپسی سے پریشانی کا شکار ہیں ان میں مکیش کمار چائولہ، جام مہتاب ڈہر اور دوست محمد راہموں بھی شامل ہیں۔ ان وزرا کے پاس موجود اکثر قلم دان ایم کیوایم کے حکومت چھوڑنے کے باعث خالی ہوئے تھے۔ جام مہتاب ڈہر کے پاس وزارت صحت کا قلم دان ہے جو ایم کیو ایم کی حکومت چھوڑنے کے وقت ڈاکٹر صغیر نے خالی کیا تھا۔ اس سے قبل جام مہتاب کے پاس محکمہ خوراک کا قلم دان تھا لیکن انھیں بعد میں صحت کا قلمدان دے دیا گیا جبکہ اس وقت محکمہ خوراک کا قلم دان وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے پاس ہے۔

صوبائی وزیر مکیش کمار چائولہ کے پاس محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قلم دان ہے، اس سے پہلے ان کے پاس محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا قلم دان تھا جو بعد میں گیانچند ایسرانی کو دے دیا گیا جبکہ دوست محمد راہموں کے پاس موجود محکموں میںمحکمہ اوقاف بھی شامل ہے، مذکورہ دونوں محکموں کے قلم دان بھی ایم کیوایم کی حکومت میں موجودگی کے دوران ان کے وزرا کے پاس تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ کابینہ کا اجلاس منگل کوطلب کیا ہے، امکان ہے کہ سینیٹ انتخابات سمیت ایم کیوایم کی سندھ حکومت میں متوقع شمولیت پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
Load Next Story