پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے بعد ٹیکس ہدف پر نظرثانی
ایف بی آر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کی اجازت سے ٹیکسوں کے ہدف میں 119ارب روپے کی کمی کردی ہے
پٹرولیم مصنوعات میں کمی کی وجہ سے وفاقی حکومت کے درآمدی بل میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی ڈیوٹی میں بھی کمی ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل
پڑولیم مصنوعات کے مقامی و عالمی نرخ میں کمی ٹیکسوں کی آمدنی میں کمی کا باعث بن گئی، مجموعی ریونیو ہدف 2 ہزار 810ارب روپے سے کم ہوکر 2ہزار 691ارب روپے ہوگیا۔
ایف بی آر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کی اجازت سے ٹیکسوں کے ہدف میں 119ارب روپے کی کمی کردی ہے اور اب یہ ہدف 2ہزار 810ارب روپے سے کم ہوکر 2ہزار 691 ارب روپے کردیا گیا ہے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس ریونیو کے ہدف میں یہ کمی پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں ہونے والی عالمی اور مقامی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی گھٹ جانے کے باعث کی ہے۔ واضح رہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کی وجہ سے وفاقی حکومت کے درآمدی بل میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی ڈیوٹی میں بھی کمی ہوئی ہے۔
ایف بی آر نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کی اجازت سے ٹیکسوں کے ہدف میں 119ارب روپے کی کمی کردی ہے اور اب یہ ہدف 2ہزار 810ارب روپے سے کم ہوکر 2ہزار 691 ارب روپے کردیا گیا ہے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس ریونیو کے ہدف میں یہ کمی پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں ہونے والی عالمی اور مقامی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی گھٹ جانے کے باعث کی ہے۔ واضح رہے کہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کی وجہ سے وفاقی حکومت کے درآمدی بل میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی ڈیوٹی میں بھی کمی ہوئی ہے۔