نجی ایل این جی ٹرمینل رواں ماہ کے آخر تک تیار ہوجائیگا

جیٹی وپائپ لائن کا کام مکمل،فلوٹنگ اسٹوریج وایف ایس آر یو نامی جہازجلد پہنچ جائیگا

ایل این جی کی درآمد کے لیے فنانسنگ پی ایس او فراہم کرے گی جس کے لیے حکومت انتظامات کررہی ہے، عمران الحق۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں مائع قدرتی گیس کی درآمد کے لیے نجی ٹرمینل رواں ماہ کے آخر تک تیار ہوجائے گا جس کے بعد مارچ کے پہلے ہفتے سے ایل این جی کی درآمد شروع کی جاسکے گی۔

اینگرو ایلنجی ٹرمینل پرائیوٹ لمیٹڈ (ای ٹی پی ایل) کے سی ای او شیخ عمران الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایل این جی کی درآمد کے لیے جیٹی اور پائپ لائن کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، رواں ماہ کے آخر تک فلوٹنگ اسٹوریج اور ری گیسی فکیشن یونٹ (ایف ایس آر یو) بھی ٹرمینل پر پہنچ جائے گا، یہ بڑا بحری جہاز ہے جس پر ایل این جی کو قدرتی گیس میں تبدیل کرنے اور اسٹوریج کی سہولت موجود ہے، اس جہاز (ایف ایس آر یو) کی آمد کے بعد ٹرمینل ایل این جی کی درآمد اور ری گیسی فکیشن کے لیے تیار ہوگا۔


انہوں نے بتایا کہ ای ٹی پی ایل کی جانب سے وفاقی حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو بھی باضابطہ مطلع کیا جا چکا ہے کہ ایل این جی ٹرمینل رواں ماہ کے آخر تک مائع گیس ہینڈل کرنے کے لیے دستیاب ہوگا، پورٹ قاسم ٹرمینل کی مخصوص جیٹی پر لنگر انداز ہونے والا ایف ایس آر یو یومیہ 600 ملین کیوبک فٹ گیس ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حکومت پہلے سال یومیہ 200 ایم ایم سی ایف جبکہ دوسرے سال 400 ایم ایم سی ایف گیس امپورٹ کرے گی، باقی رہ جانے والی 200ایم ایم سی ایف کی اضافی گنجائش نجی شعبہ استعمال کرے گا جن میں کے ای ایس سی، آئی پی پیز اور سی این جی انڈسٹری شامل ہے۔

حکومت نے سی این جی سیکٹر کو ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دی ہے، اسی طرح حکومت پنجاب ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے چاہتی ہے جس سے ٹرمینل کی اضافی 200ایم ایم سی ایف کی اضافی گنجائش سود مند ثابت ہوگی، پاکستان میں گیس کی مجموعی پیداوار 4 بی سی ایف (بلین کیوبک فٹ ) یومیہ ہے، ایل این جی ٹرمینل کی مجموعی گنجائش بروئے کار لانے پر سسٹم میں 15فیصد درآمدی گیس شامل کی جاسکے گی جو سندھ کی قادر پور فیلڈ سے 200ایم ایم سی ایف ڈی زیادہ ہوگی، ایل این جی کی درآمد کے لیے تیار کیا جانے والا ٹرمینل سال کے 365دنوں میں 95فیصد عرصے کے لیے دستیاب ہوگا۔

عمران الحق نے کہا کہ ایل این جی کی درآمد کے لیے فنانسنگ پی ایس او فراہم کرے گی جس کے لیے حکومت انتظامات کررہی ہے، اسی طرح درآمد کی جانے والی گیس کی ایلوکیشن اور تقسیم بھی حکومت کی صوابدید پر منحصر ہے، زیادہ امکان ہے کہ درآمدی گیس سے پنجاب میں گیس کی طلب پوری کی جائے گی۔
Load Next Story