جے آئی ٹی کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ طلب

ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم

ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم ۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی وصوبائی حکومتوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے متعلق گذشتہ ایک سال میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیموں ( جے آئی ٹی )کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی ہے ۔


چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایس ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان کو آئندہ سماعت 25اکتوبر کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے ، فاضل بینچ مسمات نصرت دلدار کی آئینی درخواست کی سماعت کررہا تھا ، درخواست گزار کے مطابق اسکا بھائی ممتاز اعوان 22اپریل 2011کو مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلا تھا لیکن واپس نہیں آیا، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اسے علم ہوا ہے کہ اس کے بھائی کو سی آئی ڈی پولیس نے حراست میںلیاتھا اور تفتیش کرکے اینٹلی جنس بیورو کے حوالے کردیا،درخواست گزار نے اندیشہ ظاہرکیا ہے کہ اس کے بھائی کی زندگی خطرے میں ہے۔

اس کا کسی سیاسی و مذہبی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ، عدالت عالیہ اسکے بھائی کو طلب کرے اور بے قصور ہونے کی صورت میں رہا کردے ، فاضل بینچ نے آبزروکیا کہ اس سے پہلے بھی جے آئی ٹیز کی کارکردگی کے متعلق رپورٹس پیش کرنے کا حکم دیا گیا لیکن اس پر عمل نہیں کیا ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت پر رپورٹ عدالت میں پیش کردی جائیگی ، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت عالیہ کی توجہ دلائی کہ درخواستگزار نے براہ راست ایس ایس پی سی آئی ڈی پر الزامات عائد کیے ہیں لیکن اس کیخلاف کارروائی نہیں ہورہی بلکہ اعلی حکام اسے بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
Load Next Story