دہری شہریت ارکان اسمبلی نے حلف نامے جمع کرانا شروع کردیے
پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو 9 اکتوبر تک اپنے حلفیہ بیانات جمع کرانا ہونگے
پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو 9 اکتوبر تک اپنے حلفیہ بیانات جمع کرانا ہونگے۔ فوٹو: فائل
ارکان اسمبلی نے دہری شہریت کے حوالے سے حلف نامے جمع کرانا شروع کردیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ایک اعلیٰ افسر افضل خان نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ ارکان نے دہری شہریت کے بارے میں اپنے حلفیہ بیان کمیشن کے پاس جمع کرانے شروع کردیے ہیں، بعض ارکان نے الیکشن کمیشن خود آ کر یہ حلفیہ بیان جمع کرایا ہے کہ ان کی شہریت پاکستان کی ہے اور ان کے پاس کوئی اور شہریت نہیں ہے۔ افسر خان کا کہنا تھا کہ ایک رکن نور عالم خان اتفاقاً میرے دفتر آئے اور میرے سامنے ہی انھوں نے حلفیہ بیان پر دستخط کرکے میرے پاس جمع کرادیا۔
پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو 9 اکتوبر تک اپنے حلفیہ بیانات جمع کرانا ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اشتیاق احمد خان نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ انھیں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سیکریٹریوں کی طرف سے جو جواب ملا ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ حلفیہ بیان حاصل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریٹ کی جانب سے اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
لاہور سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق ا لیکشن کمیشن کی ہدایت پر اراکین پنجا ب اسمبلی کی بڑی تعداد نے دستخط کرنے کے بعد حلف نامے جمع کرانا شروع کردیے ہیں، اب تک حلف نامے جمع کرانے والوں میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، ق لیگ سمیت تمام پارٹیوں کے اراکین شامل ہیں۔ حلف نامے میںتحریر ہے کہ رکن اسمبلی کی پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں ہے۔ پشاور سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے تین دن گزر جانے کے باوجود دہری شہریت سے متعلق الیکشن کمیشن کے حلف نامے کے بارے میں فیصلہ کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرلی ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع نے رابطے پر بتایا کہ اس بارے میں اسپیکر کی مشاورت ہی فیصلہ ہوگا ۔ این این آئی کے مطابق دہری شہریت کے باعث استعفے دینے والے ارکان پارلیمنٹ کو بھی غلط بیانی کرنے پر فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کے ذرائع نے این این آئی کو بتایا کہ وزیر داخلہ رحمن ملک سمیت 12 ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کاغذات نامزدگی میں اپنی دہری شہریت چھپانے پر متعلقہ سیشن ججوں کو مقدمات بھجوا دیئے گئے ہیں اور سپریم کورٹ کی طرف سے نوٹس لینے پر جو ارکان ازخود مستعفی ہو رہے ہیں ان کے خلاف بھی غلط بیانی کرنے پر فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں گے، استعفیٰ دینے والوںکو بھی تنخواہیں اور مراعات واپس کرنا ہوں گی۔
الیکشن کمیشن کے ایک اعلیٰ افسر افضل خان نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ ارکان نے دہری شہریت کے بارے میں اپنے حلفیہ بیان کمیشن کے پاس جمع کرانے شروع کردیے ہیں، بعض ارکان نے الیکشن کمیشن خود آ کر یہ حلفیہ بیان جمع کرایا ہے کہ ان کی شہریت پاکستان کی ہے اور ان کے پاس کوئی اور شہریت نہیں ہے۔ افسر خان کا کہنا تھا کہ ایک رکن نور عالم خان اتفاقاً میرے دفتر آئے اور میرے سامنے ہی انھوں نے حلفیہ بیان پر دستخط کرکے میرے پاس جمع کرادیا۔
پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو 9 اکتوبر تک اپنے حلفیہ بیانات جمع کرانا ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اشتیاق احمد خان نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ انھیں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سیکریٹریوں کی طرف سے جو جواب ملا ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ حلفیہ بیان حاصل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریٹ کی جانب سے اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
لاہور سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق ا لیکشن کمیشن کی ہدایت پر اراکین پنجا ب اسمبلی کی بڑی تعداد نے دستخط کرنے کے بعد حلف نامے جمع کرانا شروع کردیے ہیں، اب تک حلف نامے جمع کرانے والوں میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، ق لیگ سمیت تمام پارٹیوں کے اراکین شامل ہیں۔ حلف نامے میںتحریر ہے کہ رکن اسمبلی کی پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں ہے۔ پشاور سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے تین دن گزر جانے کے باوجود دہری شہریت سے متعلق الیکشن کمیشن کے حلف نامے کے بارے میں فیصلہ کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرلی ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع نے رابطے پر بتایا کہ اس بارے میں اسپیکر کی مشاورت ہی فیصلہ ہوگا ۔ این این آئی کے مطابق دہری شہریت کے باعث استعفے دینے والے ارکان پارلیمنٹ کو بھی غلط بیانی کرنے پر فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کے ذرائع نے این این آئی کو بتایا کہ وزیر داخلہ رحمن ملک سمیت 12 ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کاغذات نامزدگی میں اپنی دہری شہریت چھپانے پر متعلقہ سیشن ججوں کو مقدمات بھجوا دیئے گئے ہیں اور سپریم کورٹ کی طرف سے نوٹس لینے پر جو ارکان ازخود مستعفی ہو رہے ہیں ان کے خلاف بھی غلط بیانی کرنے پر فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں گے، استعفیٰ دینے والوںکو بھی تنخواہیں اور مراعات واپس کرنا ہوں گی۔