حصص مارکیٹ میں فروخت پر دباؤ 137 پوائنٹس کمی
تیل کی عالمی قیمت بڑھنےسےآئل اورٹیکسٹائل سیکٹرکےحصص میں بہتری رونماہوئی جس سےمارکیٹ بڑی نوعیت کی مندی سےبچ گئی
تیل کی عالمی قیمت بڑھنےسےآئل اورٹیکسٹائل سیکٹرکےحصص میں بہتری رونماہوئی جس سےمارکیٹ بڑی نوعیت کی مندی سےبچ گئی، ماہرین فوٹو: آئی این پی/فائل
سیاسی افق پر غیریقینی صورتحال اورغیرملکیوں کی جانب سے سرمائے کے انخلا کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو بھی اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے 34500 پوائنٹس کی نفسیاتی حد گرگئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید10 ارب76 کروڑ روپے ڈوب گئے۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکسٹائل پالیسی پرشعبہ ٹیکسٹائل کا خیرمقدم اور تیل کی عالمی قیمت بڑھنے سے آئل اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے حصص میں بہتری رونما ہوئی جس سے مارکیٹ بڑی نوعیت کی مندی سے بچ گئی، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس137.41 پوائنٹس کمی سے 34432.89اورکے ایس ای30 انڈیکس 65.51 پوائنٹس کمی سے 22362.50 پوائنٹس جبکہ کے ایم آئی 30 انڈیکس 17.68پوائنٹس بڑھ کر55033.18 ہوگیا، کاروباری حجم 0.86 فیصد زائد رہا،26 کروڑ50 لاکھ17 ہزار 940 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 371 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں129 کے بھاؤ میں اضافہ، 222 کے دام میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکسٹائل پالیسی پرشعبہ ٹیکسٹائل کا خیرمقدم اور تیل کی عالمی قیمت بڑھنے سے آئل اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے حصص میں بہتری رونما ہوئی جس سے مارکیٹ بڑی نوعیت کی مندی سے بچ گئی، کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس137.41 پوائنٹس کمی سے 34432.89اورکے ایس ای30 انڈیکس 65.51 پوائنٹس کمی سے 22362.50 پوائنٹس جبکہ کے ایم آئی 30 انڈیکس 17.68پوائنٹس بڑھ کر55033.18 ہوگیا، کاروباری حجم 0.86 فیصد زائد رہا،26 کروڑ50 لاکھ17 ہزار 940 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 371 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں129 کے بھاؤ میں اضافہ، 222 کے دام میں کمی اور20 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔