عمران الطاف پلیز کول ڈاؤن

سیاست میں اختلافات حرف آخر نہیں ہوتے نہ ہی کوئی ایشوایسا نہیں ہوتا کہ جس کا حل گفت وشنید سے نہ نکل سکے۔

ایم کیوایم اور تحریک انصاف پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ تحمل اوربرداشت اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف الزامات لگانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں، فوٹو : فائل

اس وقت ملک کوگوناگوں مسائل کا سامنا ہے، جس میں اولین مسئلہ دہشتگردی کے عفریت کا سرکچلنے کا ہے،آرمی پبلک اسکول کے سانحے میں شہید ہونے والے بچوں نے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو یکجا کردیا،سب اختلافات بھلا کراکیسویں ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کواختیار دیا گیا کہ وہ دہشت گردوں کوکیفرکردار تک پہنچائیں، قومی یکجہتی کی یہ فضا قائم ہوئے کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ کراچی میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے حوالے سے عدالت میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ سامنے آنے پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے ایم کیوایم کو ہدف تنقید بنایا، جواب میں متحدہ کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا، بات سے بات نکلتی چلی گئی،اوربات کا بتنگڑ بن گیا۔ متحدہ اور پی ٹی آئی کے رہنما خم ٹھونک کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے، الزامات درالزامات اورجوابی گولہ باری کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔

ماضی قریب میں بھی ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پرالزامات لگاتی رہی ہیں۔ سیاسی بیان بیازی توچلتی رہتی ہے لیکن اس وقت صورتحال زیادہ پریشان کن ہوجاتی ہے کہ جب لیڈر ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالتے ہیں، غصے میں زبان پر قابو نہیں رکھ پاتے،جس سے سیاسی فضا مزید مکدرہوجاتی ہے۔لیڈرکبھی یہ بات نہیں سوچتے کہ کارکن اپنے سیاسی قائدین سے والہانہ وابستگی رکھتے ہیں، ان کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں،ایسی جذباتی فضا میں وہ کوئی بھی انتہائی اقدام اٹھاسکتے ہیں، جس کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کے کارکنان میں تصادم اورجانی ومالی نقصان کا اندیشہ موجود رہتا ہے ۔


پہلے تو سیاسی قیادت کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ آخر اپنے جذبات کوقابو میں کیوں نہیں رکھ پاتے، سیاسی قائدین کوچاہیے کہ وہ تحمل، برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کریں تاکہ ملک کی سیاسی فضا مکدر نہ ہو ، سیاستدانوں کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ان کی آپس کی لڑائی کا فائدہ کوئی اور اٹھاسکتا ہے ۔ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں مقبول عوامی جماعتیں ہیں جنھیں عوام نے بھرپورمینڈیٹ دیا ہے کہ وہ ان کے مسائل حل کرائیں ، اگر دونوں پارٹیوں کے رہنما اس طرح کا طرزعمل اختیارکریں گے تو عوام میں مایوسی کا عنصر پھیلے گا جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں ۔

سیاست میں اختلافات حرف آخر نہیں ہوتے نہ ہی کوئی ایشوایسا نہیں ہوتا کہ جس کا حل گفت وشنید سے نہ نکل سکے،حیرت ہے کہ دونوں جماعتوں میں ''سیزفائر'' کرانے کے لیے نہ تو دیگر قومی جماعتوں کے رہنما ابھی تک آگے آئے ہیں اور نہ ہی فریقین نے اس سلسلے میں کسی دانش مندی کا ثبوت دیا ہے ۔ ہم پہلے ہی سیاسی واقتصادی مسائل کا شکار ہیں ۔ کراچی جہاں پر دونوں جماعتوں کا سیاسی ووٹ بینک موجود ہے، اس ساری سیاسی محاذآرائی میں الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو بھی صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے سخت سست بیانات کو براہ راست نشر کرنے اور من وعن شایع کرنے سے بھی گریزکرنا چاہیے تاکہ تصادم کی فضا نہ بنے ۔

اس ساری صورتحال میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا کیس پس منظر میں چلاگیا ہے جب کہ لواحقین انصاف کے طلبگارہیں ۔یقیناً ہماری عدالتیں آزاد ہیں وہ سانحے کے اصل مجرموں کو قرار واقعی سزاسنائیں گی ۔ایم کیوایم اور تحریک انصاف پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ تحمل اوربرداشت اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف الزامات لگانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں تاکہ سیاسی کشیدگی کا خاتمہ ہو اور دونوں پارٹیاں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں ۔
Load Next Story