رشوت خوری اور میڈیکل کالج میں جعلی داخلہ دلانے پر پروفیسر کو 7 سال قید
سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ اسپتال نیوکراچی ڈاکٹر حسین نوازکو بھی 5سال قید اور 5لاکھ روپے جرمانے کی سزا
دونوں مجرموں کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید ایک سال جیل میں رہنا ہوگا۔ فوٹو: فائل
انسداد بدعنوانی کی صوبائی عدالت کی جج گلشن آرا چانڈیو نے رشوت خوری کے الزام میں ملوث کامرس اینڈ آرٹس ڈگری کالج کورنگی کے پروفیسر صلاح الدین کو جرم ثابت ہونے پر7برس قید جبکہ سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی ڈاکٹر حسین نواز کو 5برس قید اور فی کس 5لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔
دونوں مجرموں کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید ایک سال جیل میں رہنا ہوگا، دونوں مجرم ضمانت پر تھے، فاضل عدالت نے ضمانت منسوخ کرکے انھیں جیل بھیج دیا، استغاثہ کے مطابق مجرموں نے یکم جنوری 2007 کو طالبہ سمبل بی بی کو میڈیکل کالج میں داخلہ دلانے کی مد میں 2 لاکھ روپے رشوت اور 30ہزار روپے فیس کی مد میں وصول کیے، میڈیکل کالج میں جعلی رول نمبر الاٹ کرکے داخلہ دلایا، چند ماہ بعد سالانہ امتحان میں انکشاف ہوا کہ اس کا کوئی داخلہ نہیں ہوا۔
دوبارہ رابطہ کرنے پر پروفیسر نے کہا کہ ایف ایس سی میں نمبر کم تھے لہٰذا 20ہزار روپے دیں نمبر بڑھا دیں گے، اگلے سال اسے داخلہ دلایا جائے گا، طالبہ نے اینٹی کرپشن پولیس کو درخواست دی26اگست کو مقامی ہوٹل پر اینٹی کرپشن پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی سربراہی میں چھاپہ مار کر مجرم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ،اس کی نشاندہی پر ڈاکٹر کو بھی گرفتار کیا تھا، بعدازاں عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔
دونوں مجرموں کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید ایک سال جیل میں رہنا ہوگا، دونوں مجرم ضمانت پر تھے، فاضل عدالت نے ضمانت منسوخ کرکے انھیں جیل بھیج دیا، استغاثہ کے مطابق مجرموں نے یکم جنوری 2007 کو طالبہ سمبل بی بی کو میڈیکل کالج میں داخلہ دلانے کی مد میں 2 لاکھ روپے رشوت اور 30ہزار روپے فیس کی مد میں وصول کیے، میڈیکل کالج میں جعلی رول نمبر الاٹ کرکے داخلہ دلایا، چند ماہ بعد سالانہ امتحان میں انکشاف ہوا کہ اس کا کوئی داخلہ نہیں ہوا۔
دوبارہ رابطہ کرنے پر پروفیسر نے کہا کہ ایف ایس سی میں نمبر کم تھے لہٰذا 20ہزار روپے دیں نمبر بڑھا دیں گے، اگلے سال اسے داخلہ دلایا جائے گا، طالبہ نے اینٹی کرپشن پولیس کو درخواست دی26اگست کو مقامی ہوٹل پر اینٹی کرپشن پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی سربراہی میں چھاپہ مار کر مجرم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ،اس کی نشاندہی پر ڈاکٹر کو بھی گرفتار کیا تھا، بعدازاں عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔