سوئس حکام کو خط کا حتمی مسودہ تیار صدر وزیراعظم نے منظور دیدی سپریم کورٹ آج سماعت کرے گی

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اعتراض دورکرکے خط ڈرافٹ کررہے ہیں،حکومت معاملے کے حل کی طرف بڑھ رہی ہے،قمرزمان کائرہ

وسیم سجادکی سربراہی میںقانونی ٹیم نے خط تیارکیا،عدالت کے اطمینان کے مطابق مقدمات کوغلط کہنے کاجملہ نکال دیا گیا ،ذرائع

لاہور:
سوئس حکام کوخط لکھنے کی آج آخری مہلت ہے،خط کے مسودے سے مطمئن نہ ہونے پر فردجرم عائدکرنے کیلیے وزیر اعظم کوطلب کیاجا سکتا ہے۔

وزیرقانون فاروق ایچ نائیک آج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کے سامنے سوئس حکام کولکھے جانے والے مجوزہ خط کامسودہ پیش کریںگے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میںسوئس حکام کولکھے جانے والے مجوزہ خط کے مسودے کی منظوری دی جاچکی ہے جوآج عدالت کے سامنے پیش کیاجائے گا۔خط کے مسودے پر بینچ کے عدم اطمینان کی صورت میں وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں مزیدکارروائی کافیصلہ ہوسکتاہے اورفرد جرم عائد کرنے کیلیے وزیر اعظم کو طلب کیاجا سکتا ہے۔


ادھر ذرائع نے ایکسپریس کوبتایاہے کہ عدالت کے اطمینان کے مطابق خط کے مسودے سے سوئس عدالت میں زیر التوامقدمات کے بارے میں قیاس آرائی اور ان مقدمات کو غلط کہنے کا جملہ نکال دیا گیا ہے۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے اسلام آبادمیں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سوئس حکام کیلیے خط ڈرافٹ کر رہے ہیں، وزیر قانون نئی صورتحال آج سپریم کورٹ میں پیش کریںگے، یقیناًمعاملات حل کی طرف جارہے ہیں۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے احکامات کے مطابق خط ڈرافٹ کیاگیا تھا تاہم عدلیہ نے بعض نکات پر تحفظات کااظہارکیا تھا،اب عدلیہ کے اعتراضات درست کرکے ان کی مرضی کے مطابق خط کی تیاری جاری ہے۔ جب ان سے سوال کیاگیاکہ کیا آج (جمعہ)معاملہ حل ہوجائے گا تو انھوں نے جو اب دیاکہ امیدہے کہ جوبھی صورتحال ہوگی بہتر ہوگی اورحکومت معاملے کے حل طرف بڑھ رہی ہے۔ ادھر ذرائع کے مطابق حکومت نے سوئس حکام کو خط کے مسودے کو حتمی شکل اور صدرآصف زرداری ،وزیر اعظم راجاپرویز اشرف نے خط کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔خط قانونی ماہر وسیم سجاد کی سربراہی میں حکومت کی لیگل ٹیم نے تیارکیاہے ۔ وسیم سجاد نے صدر اوروزیر اعظم سے خط کے تیسرے مسودے پر بدھ کی رات مشاورت کی تھی۔ خط کا مسودہ آج سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

Recommended Stories

Load Next Story