ڈیفالٹرز سے رقوم کی وصولی یقینی بنائی جائے
حکومتی کوششیں اگر اسی طرح جاری رہیں تو لوڈشیڈنگ اگر ختم نہ ہوئی...
حکومتی کوششیں اگر اسی طرح جاری رہیں تو لوڈشیڈنگ اگر ختم نہ ہوئی تو بھی اس میں کافی حد تک کمی واقع ہو گی فوٹو ایکسپریس
وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے توانائی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت پٹرولیم کو بجلی کے شعبے کو ایندھن کی بلارکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی جو اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ عوام کو بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ملک بھر کے عوام واضح طور پر فرق محسوس کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ ہدایت بھی جاری کی کہ وزارت پانی و بجلی اور وزارت پٹرولیم لوڈ شیڈنگ میں کمی کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
یہ بات کافی وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ حکومتی کوششیں اگر اسی طرح جاری رہیں تو لوڈشیڈنگ اگر ختم نہ ہوئی تو بھی اس میں کافی حد تک کمی واقع ہو گی جس سے لوگوں کے معمولات زندگی میں بہتری آئے گی تاہم ان ساری کوششوں کا فائدہ اسی صورت میں ہو گا جب نہ صرف لائن لاسز پر قابو پایا جائے گا بلکہ نادھندگان سے رقوم کی وصولی بھی یقینی بنائی جائے گی کیونکہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب پوری قوم لوڈشیڈنگ کے عذاب اور ملک کا پاور سیکٹر مالی بحران کا شکار ہے اربوں روپے کے نادہندہ ملک کے متعدد صنعتی اداروں کو متعلقہ حکام کے ملی بھگت سے بلاتعطل بجلی کی فراہمی جاری ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کو ملنے والی ڈیفالٹرز کی سرکاری فہرست کے مطابق صنعتکار اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے حکام خفیہ اور غیرقانونی معاہدوں کے تحت بجلی چوری میں ملوث ہیں جس سے قومی خزانے کو ہر ماہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیفالٹرز کی بجلی فوری طور پر بند کی جائے تاکہ ان سے رقوم کی وصولی ممکن بنائی جا سکے اور ان حکام کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے جو اس طرح کی کرپشن کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس سے بجلی کی پیداوار بڑھائی جا سکے گی اور عام آدمی کی مشکلات میں کچھ کمی واقع ہو گی۔
یہ بات کافی وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ حکومتی کوششیں اگر اسی طرح جاری رہیں تو لوڈشیڈنگ اگر ختم نہ ہوئی تو بھی اس میں کافی حد تک کمی واقع ہو گی جس سے لوگوں کے معمولات زندگی میں بہتری آئے گی تاہم ان ساری کوششوں کا فائدہ اسی صورت میں ہو گا جب نہ صرف لائن لاسز پر قابو پایا جائے گا بلکہ نادھندگان سے رقوم کی وصولی بھی یقینی بنائی جائے گی کیونکہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب پوری قوم لوڈشیڈنگ کے عذاب اور ملک کا پاور سیکٹر مالی بحران کا شکار ہے اربوں روپے کے نادہندہ ملک کے متعدد صنعتی اداروں کو متعلقہ حکام کے ملی بھگت سے بلاتعطل بجلی کی فراہمی جاری ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کو ملنے والی ڈیفالٹرز کی سرکاری فہرست کے مطابق صنعتکار اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے حکام خفیہ اور غیرقانونی معاہدوں کے تحت بجلی چوری میں ملوث ہیں جس سے قومی خزانے کو ہر ماہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیفالٹرز کی بجلی فوری طور پر بند کی جائے تاکہ ان سے رقوم کی وصولی ممکن بنائی جا سکے اور ان حکام کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے جو اس طرح کی کرپشن کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس سے بجلی کی پیداوار بڑھائی جا سکے گی اور عام آدمی کی مشکلات میں کچھ کمی واقع ہو گی۔