غیر ملکیوں کے بینک اکائونٹس کی مانیٹرنگ

ہمارا المیہ یہ ہے کہ کئی برس تک دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور مجرمانہ عناصر کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑاتے رہے

چوہدری نثارعلی خان کی ہدایت کے مطابق جن غیر ملکیوں کے بینک اکاؤنٹس کا پتہ چلایا گیا ہے ، نہ صرف ان کی نشاندہی کی جائے بلکہ اس بات کا بھی تعین کیا جائے، فوٹو:فائل

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کی ہدایت کے مطابق جن غیر ملکیوں کے بینک اکاؤنٹس کا پتہ چلایا گیا ہے ، نہ صرف ان کی نشاندہی کی جائے بلکہ اس بات کا بھی تعین کیا جائے کہ اکاؤنٹ کس طرح کھولا گیا اور ذرایع آمدن کیا ہیں۔

یہ بات ایک بریفنگ میں بتائی گئی جو وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں منعقدہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے جائزہ اجلاس میں نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر نے وزارت داخلہ میں منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس میں دی ۔ لیکن یہ انکشاف درحقیقت دہشت گردی کی بین الاقوامی فنڈنگ کی موصولہ اطلاعات ، اس کے غلط استعمال اور خفیہ میکنزم سے پیدا شدہ گمبھیر صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ کئی برس تک دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور مجرمانہ عناصر کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑاتے رہے اور غیر فعال ریاستی ایکشن اور حکومتوں کی چشم پوشی اور غیر دانشمندانہ طرز حکمرانی کے باعث مدرسوں کا روایتی علمی اور تدریسی ٹرینڈ بدلا اور دہشتگردی کی نرسریوں نے جنم لینا شروع کیا، یہ وہ حادثہ ہے۔

جس کی پرورش برسوں ہوتی رہی جب کہ حکمراں ریت میں سر چھپائے اداروں کی بے سر و سامانی کا تماشا دیکھتے رہے۔ اب سیاسی اور سماجی ملکی زلزلوں نے سب کچھ بدل دیا ہے اس لیے دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں شفافیت اور سرعت کے ساتھ نتیجہ خیزی ناگزیر ہے، حکومت کے ہر اچھے اور مثبت قدم کا جو بھی نتیجہ نکلے عوام اس سے ضرور باخبر رہیں۔ اس وقت عالمی دہشتگردی کے تسلسل میں فنڈنگ کا زہر سرائیت کرچکا ہے اور اس کی کئی شکلیں ہیں، جب کہ تیسری دنیا کی حکومتیں زرپرستی اور داخلی مالی سیاست کے گھناؤنے بھنور ہیں ، کہا جاتا ہے کہ جب پیسہ ہی سیاست کا محور بن جائے تو دہشتگرد سمیت سیاست دانوں کے منہ سے پارلیمانی الفاظ کے خوبصورت پھول نہیں جھڑتے بلکہ اقربا پروری، سفارش ، دولت ،کمیشن اور رشوت کے گیت سنائی دیتے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے سینٹ انتخابات رکوانے سے متعلق درخواست کی ایک حالیہ سماعت کے دوران کیسے بلیغ پیرائے میں قرار دیا کہ سینٹ انتخابات سے لگتا ہے آئین پر عمل نہیں ہو رہا۔ امیدواروں کی اسکروٹنی کا طریقہ موجود نہیں ۔ ایسا تب ہوتا ہے جب قانون کی حکمرانی کی جگہ مفادات کی بادشاہی سے لطف اٹھایا جا رہا ہو۔ یوں وزیر داخلہ کی ہدایت اپنے احسن مقصد کے اعتبار سے لائق غور ہے اور ایسے تمام غیر ملکی بینک اکاؤنٹس کی باریک بینی سے چھان بین کی جائے۔ تاہم اس عمل میں قومی مفادات اور عالمی میڈیا کے فال آؤٹ کا بھی ادراک کیا جائے، تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو کوئی دوسرا رنگ نہ دیا جا سکے۔


اجلاس میں بتایا گیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور انھیں کسی دوسری مناسب جگہ بھیجنے کے منصوبہ پر کام جاری ہے اور صوبوں کو نئے کیمپس اور مطلوبہ انفرااسٹرکچر کی نشاندہی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔آئی ڈی پیز کی بحالی و آبادکاری بلاشبہ بھاری ذمے داری ہے جسے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ مذکورہ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ابتک لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال کے 3265مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں سے2065کی گرفتاریاں کرکے1281آلات ضبط کر لیے گئے جب کہ نفرت انگیز تقاریر اور مواد کے حوالے سے547مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ جائزہ اجلاس ہفتہ وار بنیادوں پر منعقد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کے درپیش مسائل کو حل کرنے میں پیش رفت اور موثر نگرانی کی جاسکے۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام اہم عمارتوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے' ریڈ کیٹیگری کی عمارتوں کی سیکیورٹی میں کوئی خامی نہیں رہنی چاہیے' اسلام آباد کے دس میڈیا ہاؤسز میں خصوصی الرٹ سسٹم لگا دیا گیا ہے ' نادرا خطرناک ملزمان کا ڈیٹا صوبوں سے شیئر کرے ' ملکی مفادات کے منافی سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں پر پابندی کا طریقہ کار واضح ہونا چاہیے تا کہ نظام کی خامیوں سے کوئی تنظیم فائدہ نہ اٹھا سکے۔

ادھر دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی اقتصادی معاونت اور منصوبوں سے متعلق فنڈز وزارت خارجہ کے ذریعے آتے ہیں تاہم نجی اداروں کو ''غیر رسمی چینلز'' سے ملنے والی امداد کی سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ دہشت گردوں کی ممکنہ مالی معاونت کا سدباب کیاجا سکے۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں سعودی عرب کاکردار گرانقدر ہے۔

سعودی عرب نے وضاحت کی ہے وہ حکومت کی منظوری سے فنڈ دیتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کا اطلاق ہر ملک سے ملنے والی امداد پر ہوگا ، نجی اداروں اور افراد کے لیے غیرملکی امداد نیشنل ایکشن پلان کے تحت قبول کریں گے۔ اطلاع ہے کہ غالباً اسی پالیسی کے تحت وفاقی حکومت نے150سے زائد غیرفعال این جی اوز کے لائسنس منسوخ کرنے کا بر وقت فیصلہ بھی کیا ہے جب کہ155سے زائد این جی اوز نے لائسنسز کی تجدید کے لیے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو درخواستیں جمع کروا دی ہیں ۔

بہر حال ان سارے اقدامات کا ماحصل دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ دہشتگردی ایک منضبط اور مادر وطن پر تھوپی گئی جنگ ہے جس کا کوئی ایک مستقل چہرہ نہیں ، جب کہ ضرورت دہشت گردی کے پورے ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے ملیامیٹ کرنے کی ہے۔
Load Next Story