الطاف حسین کی بر وقت معذرت
سیاسی بیانات کے نتیجے میں جو سیاسی کشیدگی کی فضا تحریک انصاف اورمتحدہ قومی موومنٹ کے درمیان قائم ہوگئی تھی
الطاف حسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں کسی سے جنگ نہیں کرناچاہتا،بلکہ ملک سنوارنا چاہتا ہوں۔جمہوریت کا حسن اور خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں اختلاف رائے ہوتا ہے، فوٹو: فائل
سیاسی بیانات کے نتیجے میں جو سیاسی کشیدگی کی فضا تحریک انصاف اورمتحدہ قومی موومنٹ کے درمیان قائم ہوگئی تھی۔ تلخ،تندوتیزجملوں کے تبادلے کے نتیجے میں دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم تک کے خدشات وامکانات جنم لے چکے تھے کہ ایسے میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے اپنے بیان پرمعذرت کرتے ہوئے کہا ''آئی ایم سوری شیریں مزاری''جس پر پی ٹی آئی کی رہنما نے ان کی معذرت قبول کرلی۔
اس طرح سیاسی سطح پر جوگہرے سیاہ بادل چھائے تھے وہ چھٹ گئے۔الطاف حسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں کسی سے جنگ نہیں کرناچاہتا،بلکہ ملک سنوارنا چاہتا ہوں۔جمہوریت کا حسن اور خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں اختلاف رائے ہوتا ہے،کھل کرایک دوسرے کے عمل پر تنقید بھی کی جاتی ہے،سیاسی بیان بازی بھی ہوتی ہے، سب کچھ ہوتا ہے لیکن نتیجہ آخرکار یہ نکلتا ہے کہ پھر سب اپنی اپنی اصلاح کرتے ہیں۔جمہوری روایت اوراصولوں کی پاسداری تمام سیاسی جماعتوں کا نصب العین ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے تین دہائی سے زائد عرصے تک آمر اس ملک پر مسلط رہے ۔
جس کی وجہ سے جمہوری روایت پروان نہ چڑھ سکیں ۔جمہوریت، جمہوری رویے اور طرز عمل اس انداز میں فروغ نہ پاسکے جس سے جمہوری قدریں مضبوط ہوتیں۔ پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں کا ووٹ بینک موجود ہے اور وہ بھرپورسیاسی قوت کی مالک ہیں ۔جس طرح الطاف حسین نے معذرت کی ہے، اب عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ معاملات کو مزید ٹھنڈا کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ سیاست میں میانہ روی کل سے زیادہ آج ضروری ہے۔
جمہوری رویوں کی آبیاری سیاست دانوں کو کرنی ہے، پی ٹی آئی اور متحدہ کو اس ضمن میں بہترین مثال قائم کرنی چاہیے تاکہ دونوں سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے ووٹرز کے مسائل کے حل پر اپنی توجہ مرکوزکریں، سوچئے عوام کے مسائل بے پناہ ہیں جو جاں گسل ہیں اور ابھی تک حل طلب ہیں اور وہ اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان سے حاصل کردہ ووٹوں کی لاج رکھتے ہوئے ان کو مصائب وآلام کم کرنے میں مدد دے گی ۔جمہوریت ہی میں عوام کی فلاح اور ترقی کا راز مضمر ہے۔ سیاستدانوں کو جمہوریت کے بقاء کے لیے اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس طرح سیاسی سطح پر جوگہرے سیاہ بادل چھائے تھے وہ چھٹ گئے۔الطاف حسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں کسی سے جنگ نہیں کرناچاہتا،بلکہ ملک سنوارنا چاہتا ہوں۔جمہوریت کا حسن اور خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں اختلاف رائے ہوتا ہے،کھل کرایک دوسرے کے عمل پر تنقید بھی کی جاتی ہے،سیاسی بیان بازی بھی ہوتی ہے، سب کچھ ہوتا ہے لیکن نتیجہ آخرکار یہ نکلتا ہے کہ پھر سب اپنی اپنی اصلاح کرتے ہیں۔جمہوری روایت اوراصولوں کی پاسداری تمام سیاسی جماعتوں کا نصب العین ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے تین دہائی سے زائد عرصے تک آمر اس ملک پر مسلط رہے ۔
جس کی وجہ سے جمہوری روایت پروان نہ چڑھ سکیں ۔جمہوریت، جمہوری رویے اور طرز عمل اس انداز میں فروغ نہ پاسکے جس سے جمہوری قدریں مضبوط ہوتیں۔ پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں کا ووٹ بینک موجود ہے اور وہ بھرپورسیاسی قوت کی مالک ہیں ۔جس طرح الطاف حسین نے معذرت کی ہے، اب عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ معاملات کو مزید ٹھنڈا کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں ۔ سیاست میں میانہ روی کل سے زیادہ آج ضروری ہے۔
جمہوری رویوں کی آبیاری سیاست دانوں کو کرنی ہے، پی ٹی آئی اور متحدہ کو اس ضمن میں بہترین مثال قائم کرنی چاہیے تاکہ دونوں سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے ووٹرز کے مسائل کے حل پر اپنی توجہ مرکوزکریں، سوچئے عوام کے مسائل بے پناہ ہیں جو جاں گسل ہیں اور ابھی تک حل طلب ہیں اور وہ اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان سے حاصل کردہ ووٹوں کی لاج رکھتے ہوئے ان کو مصائب وآلام کم کرنے میں مدد دے گی ۔جمہوریت ہی میں عوام کی فلاح اور ترقی کا راز مضمر ہے۔ سیاستدانوں کو جمہوریت کے بقاء کے لیے اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔