عوام ایماندار قیادت کے منتظر ہیں
سینیٹ کے انتخابات سر پرکھڑے ہیں،سیاست کی منڈی میں خیرکے سودے ہو رہے ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
PESHAWAR:
سینیٹ کے انتخابات سر پرکھڑے ہیں،سیاست کی منڈی میں خیرکے سودے ہو رہے ہیں، میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ ایک ایک ووٹ کی بولی لگ رہی ہے۔ سینیٹ جمہوری نظام کا وہ مقدس ادارہ ہے جہاں قومی اسمبلی کی کارکردگی پر نظر ثانی کی جاتی ہے اور قومی اسمبلی کے فیصلوں کی توثیق ہوتی ہے۔
ایسے مقدس ادارے کے ارکان اگر اپنے ضمیر بیچنے کی قیمت دو دوکروڑ لیں تو جمہوریت منڈی بن جاتی ہے ہمیں نہیں معلوم کہ ''لولی لنگڑی جمہوریت آمریت سے بہتر ہوتی ہے'' کا فلسفہ پیش کرنے والوں کی نظروں سے ووٹ کے بھاؤگزر رہے ہیں یا نہیں ۔ اس ملک کے 18 کروڑ عوام کی نظروں سے یہ قابل فخر خبریں گزر رہی ہیں اور وہ حیران ہیں کہ جس جمہوریت کو سرخرو کرنے کے لیے ان سے پانچ سال میں ایک بار ووٹ لیے جاتے ہیں اور پولنگ اسٹیشنوں تک انھیں گاڑیوں میں بھر کر لے جایا جاتا ہے وہ جمہوریت سینیٹ تک پہنچتے پہنچتے اس قدر مہنگی کیسے ہوجاتی ہے۔ ہر شہر میں سیاسی اہلکاروں کی میٹنگیں ہو رہی ہیں اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر لین دین کا سلسلہ جاری ہے۔
جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی ایجاد ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کو قوت کا سرچشمہ کہنے والے اہل سیاست اور اہل دانش عوام کو ان کی قوت سے آشنا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اپنی قوت کو درست جگہ استعمال کریں ،ظلم کے خلاف استعمال کریں،بے ایمانی کے خلاف استعمال کریں،جمہوریت کی خرید وفروخت کے خلاف استعمال کریں، ووٹ کا تقدس سربازار نیلام کرنے والوں کے خلاف استعمال کریں۔
جمہوریت میں قانون اور انصاف کی برتری اور تقدس کا پرچار کرنے والوں کی نظروں سے قانون سازوں کی نیلامیوں کی خبریں گزر رہی ہیں یا نہیں۔ اگر گزر رہی ہیں تو پھر کیا وہ قانون اور انصاف کی اس بے حرمتی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ لیکن جس حمام میں سب ایک لباس میں کھڑے ہوں وہاں چور اور کوتوال کی تمیز کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام جسم فروشی کا مخالف نہیں ہوتا بلکہ وہ جسم فروشی کو قانونی حدود میں رکھنے کے لیے جسم فروشی کا لائسنس عطا کرتا ہے اور جسم فروشوں کے ذریعے پھیلنے والی ایڈز کی بیماری کو روکنے کے لیے جسم فروشوں کا مسلسل طبی معائنہ کرانے کا اہتمام کرتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ جسم فروشی زیادہ بڑی برائی ہے یا ضمیر فروشی؟ لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ دنیا کے تمام پڑھے لکھے ہی نہیں بلکہ جاہل لوگ بھی ضمیر کو انسان کا وہ سرمایہ کہتے اور سمجھتے ہیں کہ اگر یہ سرمایہ لٹ جائے تو انسان اور حیوان میں فرق ختم ہوجاتا ہے۔
جمہوریت کو سیاسی ارتقا کی تاریخ کی آخری منزل کہا جاتا ہے لیکن دیکھا یہی جاتا ہے کہ ارتقا کا سفر جاری رہتا ہے آج ہم انیسویں بیسویں اور اکیسویں صدی میں جو زمین اور آسمان کا فرق دیکھ رہے ہیں وہ اسی ارتقائی سفر کا معجزہ ہے بلا شبہ کرۂ ارض کی معلوم تاریخ میں جمہوریت ایک منفرد مقام اس لیے رکھتی ہے کہ ماضی کے شخصی اور خاندانی حکمرانیوں کے نظام کے مقابلے میں اسے عوام کی حکمرانی کا نام دیا گیا ہے اور یہ بات غلط بھی نہیں کہ اگر جمہوریت کا مطلب عوام کی حکمرانی، عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے ہو تو جمہوریت ماضی کے تمام نظاموں سے بالاتر مقام کی حامل ہوجاتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری جمہوریت اس معیار پر پوری نہیں اترتی بلکہ اس کا حال بینکوں کے ان چوکیداروں کا سا ہوکر رہ گیا ہے جو چوروں سے ملے ہوتے ہیں اور چوروں، ڈاکوؤں سے مل کر چوری کرتے ہیں ڈاکے ڈالتے ہیں، کیا ایسی جمہوریت کو ہم سیاسی اتقا کی آخری منزل کہہ سکتے ہیں؟
67 برسوں سے ملک میں جس قسم کا جمہوری نظام موجود ہے اس میں خرید وفروخت ایک بنیادی عنصر کی حیثیت سے شامل ہے ہمارے جمہوری نظام کی ان ہی خامیوں نے عوام کو اس جمہوری نظام سے اس حد تک بد ظن کردیا ہے کہ وہ ہر اس شخص کے پیچھے چل پڑتے ہیں جو اس بد بخت نظام کو بدلنے کا نعرہ لگاتا ہے۔ ہماری فلسفیانہ یا جمہوری مجبوریاں یہ ہیں کہ ہم اس نظام کو اس نظام کے اندر رہتے ہوئے بدلنا چاہتے ہیں۔ جب کہ یہ نظام کوئلے کی ایک ایسی کان بنا ہوا ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کا منہ لازماً کالا ہوجاتا ہے مغربی جمہوریت بیشتر مغربی ملکوں میں سر اٹھائے چل رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں جمہوری ایڈز کی بیماری کو بڑھنے اور پھیلنے سے روکنے کی مستقل سبیل کی جا رہی ہے اور قانون ساز ادارے قومی اسمبلی اور سینیٹ ان جمہوریتوں میں ماہر ڈاکٹروں کا کردار ادا کر رہے ہیں، اسی احتیاط کی وجہ سے ان ملکوں میں چھانگا مانگا کی منڈیاں نہیں لگتی ہیں۔ جمہوریت ان ڈاکٹروں یعنی قومی اسمبلیوں اور سینیٹ کی مسلسل دیکھ بھال کی وجہ سے ان بیماریوں سے بچی رہتی ہے جو ہماری جمہوریتوں کی جان کا روگ بنے ہوئے ہیں۔
ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں حشرات الارض کی طرح پھیلی ہوئی ہیں لیکن ان میں سے اکثریت ایڈز زدہ کی ہے جو جماعتیں ان بیماریوں سے بچی ہوئی ہیں وہ وسائل اور عقل فہم کی کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں جو جمہوری جسم میں خون کی کمی جیسی شکایت ہے۔ پچھلے دنوں لاہور سے ہمارے سیاسی رفیق عابد حسن منٹو کراچی تشریف لائے تھے۔ برادرم یوسف مستی خان کا فون آیا انھوں نے بتایا کہ منٹو صاحب اپنے خاص احباب سے ملنے کے خواہش مند ہیں میرے ہی گھر پر اس خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا ہے آپ ضرور تشریف لائیں، یوسف مستی خان، غوث بخش بزنجو کے ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور ہمیشہ ترقی پسند سیاست کے ساتھ جڑے رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو سیاست کے بازاروں میں بیچے اور خریدے نہیں جاتے خواہ ان کی قیمت دو کروڑ کے بجائے دو ارب کیوں نہ لگائی جائے۔
ہم اپنی طبیعت کی خرابی کے باوجود اس مجلس میں گئے کہ شاید کوئی ''کام کی بات'' ہو لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ عوام آج ایماندار، محب وطن اور عوام دوست جماعتوں اور رہنماؤں کی تلاش میں ہیں اور رہنما عموماً نشستند، گفتند و برخواستند کی روایت پر عمل پیرا ہیں جب تک کسی سیاسی جماعت کی قیادت فعال عوام کی مزاج شناس اور بروقت درست فیصلے کرنے کی اہل نہیں ہوتی اس وقت تک جماعت یا جماعتیں عضو معطل بنی رہتی ہیں ترقی پسندی کا مطلب برے سے برے، بدتر سے بدتر حالات میں آگے بڑھنے کا راستہ نکالنا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ اس ملک کے 18 کروڑ عوام کسی ایماندار قیادت کو ڈھونڈتے پھررہے ہیں۔ ہم ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر گپ شپ لگانے میں مصروف ہیں۔
مجھے یہ بتاتے ہوئے کہ ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہورہی ہے کہ جماعت اسلامی کے نئے امیر سراج الحق نے اپنی ذاتی صلاحیت اور متحرک شخصیت ہونے کی وجہ سے نہ صرف دیکھتے ہی دیکھتے قومی سیاست کا خود کو مرکزی کردار بنالیا بلکہ اپنی جماعت اور اپنے کارکنوں میں بھی نئی روح پھونک دی، وسائل آسمان سے نہیں اترتے اپنی صلاحیتوں سے پیدا کیے جاتے ہیں۔ ہمارے سامنے عمران خان اور طاہر القادری کی مثال موجود ہے جنھوں نے اس لوٹ مار کے نظام کے خلاف آواز اٹھائی عوام لاکھوں کی تعداد میں ان کے پیچھے چل پڑے، کیا مخلص اور ایماندار قیادت سامنے آئے تو عوام اس کا استقبال نہیں کریں گے؟ ضرور کریں گے لیکن ایسی قیادت ہو جو انھیں منزل تک پہنچائے راستے میں نہ چھوڑ دے۔
سینیٹ کے انتخابات سر پرکھڑے ہیں،سیاست کی منڈی میں خیرکے سودے ہو رہے ہیں، میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ ایک ایک ووٹ کی بولی لگ رہی ہے۔ سینیٹ جمہوری نظام کا وہ مقدس ادارہ ہے جہاں قومی اسمبلی کی کارکردگی پر نظر ثانی کی جاتی ہے اور قومی اسمبلی کے فیصلوں کی توثیق ہوتی ہے۔
ایسے مقدس ادارے کے ارکان اگر اپنے ضمیر بیچنے کی قیمت دو دوکروڑ لیں تو جمہوریت منڈی بن جاتی ہے ہمیں نہیں معلوم کہ ''لولی لنگڑی جمہوریت آمریت سے بہتر ہوتی ہے'' کا فلسفہ پیش کرنے والوں کی نظروں سے ووٹ کے بھاؤگزر رہے ہیں یا نہیں ۔ اس ملک کے 18 کروڑ عوام کی نظروں سے یہ قابل فخر خبریں گزر رہی ہیں اور وہ حیران ہیں کہ جس جمہوریت کو سرخرو کرنے کے لیے ان سے پانچ سال میں ایک بار ووٹ لیے جاتے ہیں اور پولنگ اسٹیشنوں تک انھیں گاڑیوں میں بھر کر لے جایا جاتا ہے وہ جمہوریت سینیٹ تک پہنچتے پہنچتے اس قدر مہنگی کیسے ہوجاتی ہے۔ ہر شہر میں سیاسی اہلکاروں کی میٹنگیں ہو رہی ہیں اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر لین دین کا سلسلہ جاری ہے۔
جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی ایجاد ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کو قوت کا سرچشمہ کہنے والے اہل سیاست اور اہل دانش عوام کو ان کی قوت سے آشنا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اپنی قوت کو درست جگہ استعمال کریں ،ظلم کے خلاف استعمال کریں،بے ایمانی کے خلاف استعمال کریں،جمہوریت کی خرید وفروخت کے خلاف استعمال کریں، ووٹ کا تقدس سربازار نیلام کرنے والوں کے خلاف استعمال کریں۔
جمہوریت میں قانون اور انصاف کی برتری اور تقدس کا پرچار کرنے والوں کی نظروں سے قانون سازوں کی نیلامیوں کی خبریں گزر رہی ہیں یا نہیں۔ اگر گزر رہی ہیں تو پھر کیا وہ قانون اور انصاف کی اس بے حرمتی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ لیکن جس حمام میں سب ایک لباس میں کھڑے ہوں وہاں چور اور کوتوال کی تمیز کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام جسم فروشی کا مخالف نہیں ہوتا بلکہ وہ جسم فروشی کو قانونی حدود میں رکھنے کے لیے جسم فروشی کا لائسنس عطا کرتا ہے اور جسم فروشوں کے ذریعے پھیلنے والی ایڈز کی بیماری کو روکنے کے لیے جسم فروشوں کا مسلسل طبی معائنہ کرانے کا اہتمام کرتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ جسم فروشی زیادہ بڑی برائی ہے یا ضمیر فروشی؟ لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ دنیا کے تمام پڑھے لکھے ہی نہیں بلکہ جاہل لوگ بھی ضمیر کو انسان کا وہ سرمایہ کہتے اور سمجھتے ہیں کہ اگر یہ سرمایہ لٹ جائے تو انسان اور حیوان میں فرق ختم ہوجاتا ہے۔
جمہوریت کو سیاسی ارتقا کی تاریخ کی آخری منزل کہا جاتا ہے لیکن دیکھا یہی جاتا ہے کہ ارتقا کا سفر جاری رہتا ہے آج ہم انیسویں بیسویں اور اکیسویں صدی میں جو زمین اور آسمان کا فرق دیکھ رہے ہیں وہ اسی ارتقائی سفر کا معجزہ ہے بلا شبہ کرۂ ارض کی معلوم تاریخ میں جمہوریت ایک منفرد مقام اس لیے رکھتی ہے کہ ماضی کے شخصی اور خاندانی حکمرانیوں کے نظام کے مقابلے میں اسے عوام کی حکمرانی کا نام دیا گیا ہے اور یہ بات غلط بھی نہیں کہ اگر جمہوریت کا مطلب عوام کی حکمرانی، عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے ہو تو جمہوریت ماضی کے تمام نظاموں سے بالاتر مقام کی حامل ہوجاتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری جمہوریت اس معیار پر پوری نہیں اترتی بلکہ اس کا حال بینکوں کے ان چوکیداروں کا سا ہوکر رہ گیا ہے جو چوروں سے ملے ہوتے ہیں اور چوروں، ڈاکوؤں سے مل کر چوری کرتے ہیں ڈاکے ڈالتے ہیں، کیا ایسی جمہوریت کو ہم سیاسی اتقا کی آخری منزل کہہ سکتے ہیں؟
67 برسوں سے ملک میں جس قسم کا جمہوری نظام موجود ہے اس میں خرید وفروخت ایک بنیادی عنصر کی حیثیت سے شامل ہے ہمارے جمہوری نظام کی ان ہی خامیوں نے عوام کو اس جمہوری نظام سے اس حد تک بد ظن کردیا ہے کہ وہ ہر اس شخص کے پیچھے چل پڑتے ہیں جو اس بد بخت نظام کو بدلنے کا نعرہ لگاتا ہے۔ ہماری فلسفیانہ یا جمہوری مجبوریاں یہ ہیں کہ ہم اس نظام کو اس نظام کے اندر رہتے ہوئے بدلنا چاہتے ہیں۔ جب کہ یہ نظام کوئلے کی ایک ایسی کان بنا ہوا ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کا منہ لازماً کالا ہوجاتا ہے مغربی جمہوریت بیشتر مغربی ملکوں میں سر اٹھائے چل رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں جمہوری ایڈز کی بیماری کو بڑھنے اور پھیلنے سے روکنے کی مستقل سبیل کی جا رہی ہے اور قانون ساز ادارے قومی اسمبلی اور سینیٹ ان جمہوریتوں میں ماہر ڈاکٹروں کا کردار ادا کر رہے ہیں، اسی احتیاط کی وجہ سے ان ملکوں میں چھانگا مانگا کی منڈیاں نہیں لگتی ہیں۔ جمہوریت ان ڈاکٹروں یعنی قومی اسمبلیوں اور سینیٹ کی مسلسل دیکھ بھال کی وجہ سے ان بیماریوں سے بچی رہتی ہے جو ہماری جمہوریتوں کی جان کا روگ بنے ہوئے ہیں۔
ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں حشرات الارض کی طرح پھیلی ہوئی ہیں لیکن ان میں سے اکثریت ایڈز زدہ کی ہے جو جماعتیں ان بیماریوں سے بچی ہوئی ہیں وہ وسائل اور عقل فہم کی کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں جو جمہوری جسم میں خون کی کمی جیسی شکایت ہے۔ پچھلے دنوں لاہور سے ہمارے سیاسی رفیق عابد حسن منٹو کراچی تشریف لائے تھے۔ برادرم یوسف مستی خان کا فون آیا انھوں نے بتایا کہ منٹو صاحب اپنے خاص احباب سے ملنے کے خواہش مند ہیں میرے ہی گھر پر اس خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا ہے آپ ضرور تشریف لائیں، یوسف مستی خان، غوث بخش بزنجو کے ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور ہمیشہ ترقی پسند سیاست کے ساتھ جڑے رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو سیاست کے بازاروں میں بیچے اور خریدے نہیں جاتے خواہ ان کی قیمت دو کروڑ کے بجائے دو ارب کیوں نہ لگائی جائے۔
ہم اپنی طبیعت کی خرابی کے باوجود اس مجلس میں گئے کہ شاید کوئی ''کام کی بات'' ہو لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ عوام آج ایماندار، محب وطن اور عوام دوست جماعتوں اور رہنماؤں کی تلاش میں ہیں اور رہنما عموماً نشستند، گفتند و برخواستند کی روایت پر عمل پیرا ہیں جب تک کسی سیاسی جماعت کی قیادت فعال عوام کی مزاج شناس اور بروقت درست فیصلے کرنے کی اہل نہیں ہوتی اس وقت تک جماعت یا جماعتیں عضو معطل بنی رہتی ہیں ترقی پسندی کا مطلب برے سے برے، بدتر سے بدتر حالات میں آگے بڑھنے کا راستہ نکالنا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ اس ملک کے 18 کروڑ عوام کسی ایماندار قیادت کو ڈھونڈتے پھررہے ہیں۔ ہم ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر گپ شپ لگانے میں مصروف ہیں۔
مجھے یہ بتاتے ہوئے کہ ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہورہی ہے کہ جماعت اسلامی کے نئے امیر سراج الحق نے اپنی ذاتی صلاحیت اور متحرک شخصیت ہونے کی وجہ سے نہ صرف دیکھتے ہی دیکھتے قومی سیاست کا خود کو مرکزی کردار بنالیا بلکہ اپنی جماعت اور اپنے کارکنوں میں بھی نئی روح پھونک دی، وسائل آسمان سے نہیں اترتے اپنی صلاحیتوں سے پیدا کیے جاتے ہیں۔ ہمارے سامنے عمران خان اور طاہر القادری کی مثال موجود ہے جنھوں نے اس لوٹ مار کے نظام کے خلاف آواز اٹھائی عوام لاکھوں کی تعداد میں ان کے پیچھے چل پڑے، کیا مخلص اور ایماندار قیادت سامنے آئے تو عوام اس کا استقبال نہیں کریں گے؟ ضرور کریں گے لیکن ایسی قیادت ہو جو انھیں منزل تک پہنچائے راستے میں نہ چھوڑ دے۔