ایاز سومروکے بھائی کی بطور ایس پی تقرری پر جواب طلب
شولڈر پروموشن اور آؤٹ آف ٹرن ترقیوں کیخلاف فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر بھی جواب طلبی
داد شجاعت کے نام پر ترقیوں سے کوئی اہلکار متاثر ہوا ہو تو رجوع کرسکتا ہے، سپریم کورٹ۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
سپریم کورٹ نے پولیس میں شولڈر اور آؤٹ آف ٹرن ترقیوں کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے پر عمل نہ کرنے پر چیف سیکریٹری سندھ سے جامع جواب طلب کیا ہے۔
جبکہ داد شجاعت کے نام پر ترقیوں کے خلاف درخواستوں کو نمٹا کر ہدایت کی ہے کہ اگر ان ترقیوں سے کوئی اہلکار متاثر ہو تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ مقدمے کی سماعت گزشتہ روز چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدنان کریم نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پولیس نے کا نسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک کے اہلکاروں میں تمام شولڈر پروموشن واپس کی ہیں جب کہ ڈی ایس پی اور اس سے اوپر کا اختیار چیف سیکریٹری کے پاس ہے۔
انھوں نے کہا ان ترقیوں کو تحفظ دینے کے لیے آرڈنینس جاری کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا آرڈنینس میں داد شجاعت اور ڈپیوٹیشن پر آئے ہوئے پولیس اہلکاروں کو تحفظ دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی لیگل سندھ پولیس علی شیر نے بتایا شولڈر پروموشن کا کوئی کیس نہیں البتہ 46 افسر ایسے ہیں جو اسی تنخواہ پر ایک اسکیل زیادہ کے افسر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے افسران زیادہ اسکیل کے افسر کی وردی نہیں پہن سکتے۔
درخواست گزار اختر نقوی نے کہا وزیر قانون حکومت سندھ ایاز سومرو کے بھائی ریاض سومرو کو غیر قانونی طور پر ایس پی لگا دیا گیا ہے تاہم ڈی آئی جی لیگل نے اس کی تردید کی۔ عدالت نے اس پر چیف سیکریٹری سے جواب طلب کیا۔ درخواست گزار نے چیف سیکریٹری کو طلب کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کی سرزنش کی۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ نظر ثانی کمیٹی نے ڈیموٹ کرنے والے 83 اہلکاروں کو واپس ترقیاں دی ہیں۔ سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
سپریم کورٹ نے پولیس میں شولڈر اور آؤٹ آف ٹرن ترقیوں کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے پر عمل نہ کرنے پر چیف سیکریٹری سندھ سے جامع جواب طلب کیا ہے۔
جبکہ داد شجاعت کے نام پر ترقیوں کے خلاف درخواستوں کو نمٹا کر ہدایت کی ہے کہ اگر ان ترقیوں سے کوئی اہلکار متاثر ہو تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ مقدمے کی سماعت گزشتہ روز چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدنان کریم نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی پولیس نے کا نسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک کے اہلکاروں میں تمام شولڈر پروموشن واپس کی ہیں جب کہ ڈی ایس پی اور اس سے اوپر کا اختیار چیف سیکریٹری کے پاس ہے۔
انھوں نے کہا ان ترقیوں کو تحفظ دینے کے لیے آرڈنینس جاری کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا آرڈنینس میں داد شجاعت اور ڈپیوٹیشن پر آئے ہوئے پولیس اہلکاروں کو تحفظ دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی لیگل سندھ پولیس علی شیر نے بتایا شولڈر پروموشن کا کوئی کیس نہیں البتہ 46 افسر ایسے ہیں جو اسی تنخواہ پر ایک اسکیل زیادہ کے افسر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے افسران زیادہ اسکیل کے افسر کی وردی نہیں پہن سکتے۔
درخواست گزار اختر نقوی نے کہا وزیر قانون حکومت سندھ ایاز سومرو کے بھائی ریاض سومرو کو غیر قانونی طور پر ایس پی لگا دیا گیا ہے تاہم ڈی آئی جی لیگل نے اس کی تردید کی۔ عدالت نے اس پر چیف سیکریٹری سے جواب طلب کیا۔ درخواست گزار نے چیف سیکریٹری کو طلب کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کی سرزنش کی۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ نظر ثانی کمیٹی نے ڈیموٹ کرنے والے 83 اہلکاروں کو واپس ترقیاں دی ہیں۔ سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔