کراچی میں غیرقانونی فلٹر پلانٹس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع
جمشید ٹاؤن میں قائم 6 فلٹر پلانٹس میں سے3پلانٹس غیرمحفوظ اورآلودہ پانی منرل واٹر کے نام پر بوتلوں میں بھرتے پائےگئے۔
ٹاسک فورس نے جمشید ٹاؤن میں فلٹر پلانٹس کی جانچ اور6فلٹر پلانٹس کا معائنہ کیا فوٹو : ایکسپریس
ISLAMABAD:
شہر میں غیرقانونی فلٹر پلانٹس کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع ہوگیا،
کمشنر کراچی کی قائم کردہ ٹاسک فورس نے نشاندہی کی تھی کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ریورس آسموسس پلانٹس اور فلٹر پلانٹس کے ذریعے غیرمحفوظ پانی منرل واٹر کے نام پر معروف کمپنیوں کے لیبل کی بوتلوں میں بھر کے شہر بھر میں سپلائی کیا جارہا ہے۔ جس سے ایک جانب شہریوں کو پانی کی قیمت کی مد میں مالی نقصان کا سامنا ہے دوسری جانب آلودہ اور حفظان صحت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھنے سے شہریوں کی صحت بھی خطرے میں پڑرہی ہے اور مختلف قسم کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
کمشنر کراچی نے ٹاسک فورس کی نشاندہی پر فوری طور پر کریک ڈاؤن کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے ایڈیشنل کمشنر کراچی(ٹو) حاجی احمد، ٹاسک فورس کے اراکین شکیل احمد بیگ، محمد جنید، اسسٹنٹ کمشنر جمشید ٹاون محمد عارف کلہوڑ نے پاکستان کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد واعظ نے دیگر متعلقہ اسٹاف کے ہمراہ جمشید ٹاؤن کے علاقے میں فلٹر پلانٹس کی جانچ کی اور چھ فلٹر پلانٹس کا معائنہ کیا جس میں سے تین پلانٹس غیرمحفوظ اور آلودہ پانی منرل واٹر کے نام پر بوتلوں میں بھرتے پائے گئے۔ان میں سے ایک پلانٹ طارق روڈ جبکہ دو سولجر بازار کے علاقے میں کام کررہے تھے، مذکورہ پلانٹس کے پانی میں مختلف قسم کے حشرات بھی موجود تھے، اس موقع پر پی ایس کیو سی اے کے حکام نے بھی تصدیق کی کہ مذکورہ پلانٹس غیرقانونی اور غیر رجسٹرڈ ہیں اور ان پلانٹ سے مختلف قسم کے غیر رجسٹرڈ پانی کے برانڈز شہر میں سپلائی کیے جارہے ہیں جو پاکستان میں منرل واٹر کے لیے مقرر کردہ قومی معیار کے اوپر پورا نہیں اترتے، ایڈیشنل کمشنر حاجی احمد نے فوری طور پر ناقص پانی بھرنے والے پلانٹس کو سیل کرنے کے احکامات جاری کردیے۔
شہر میں غیرقانونی فلٹر پلانٹس کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع ہوگیا،
کمشنر کراچی کی قائم کردہ ٹاسک فورس نے نشاندہی کی تھی کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ریورس آسموسس پلانٹس اور فلٹر پلانٹس کے ذریعے غیرمحفوظ پانی منرل واٹر کے نام پر معروف کمپنیوں کے لیبل کی بوتلوں میں بھر کے شہر بھر میں سپلائی کیا جارہا ہے۔ جس سے ایک جانب شہریوں کو پانی کی قیمت کی مد میں مالی نقصان کا سامنا ہے دوسری جانب آلودہ اور حفظان صحت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھنے سے شہریوں کی صحت بھی خطرے میں پڑرہی ہے اور مختلف قسم کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
کمشنر کراچی نے ٹاسک فورس کی نشاندہی پر فوری طور پر کریک ڈاؤن کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے ایڈیشنل کمشنر کراچی(ٹو) حاجی احمد، ٹاسک فورس کے اراکین شکیل احمد بیگ، محمد جنید، اسسٹنٹ کمشنر جمشید ٹاون محمد عارف کلہوڑ نے پاکستان کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد واعظ نے دیگر متعلقہ اسٹاف کے ہمراہ جمشید ٹاؤن کے علاقے میں فلٹر پلانٹس کی جانچ کی اور چھ فلٹر پلانٹس کا معائنہ کیا جس میں سے تین پلانٹس غیرمحفوظ اور آلودہ پانی منرل واٹر کے نام پر بوتلوں میں بھرتے پائے گئے۔ان میں سے ایک پلانٹ طارق روڈ جبکہ دو سولجر بازار کے علاقے میں کام کررہے تھے، مذکورہ پلانٹس کے پانی میں مختلف قسم کے حشرات بھی موجود تھے، اس موقع پر پی ایس کیو سی اے کے حکام نے بھی تصدیق کی کہ مذکورہ پلانٹس غیرقانونی اور غیر رجسٹرڈ ہیں اور ان پلانٹ سے مختلف قسم کے غیر رجسٹرڈ پانی کے برانڈز شہر میں سپلائی کیے جارہے ہیں جو پاکستان میں منرل واٹر کے لیے مقرر کردہ قومی معیار کے اوپر پورا نہیں اترتے، ایڈیشنل کمشنر حاجی احمد نے فوری طور پر ناقص پانی بھرنے والے پلانٹس کو سیل کرنے کے احکامات جاری کردیے۔