حکومت اخترمینگل کے نکات پراقدامات کرے منورحسن

مسئلہ بلوچستان کے حل میں چند حکومتی شخصیات رکاوٹ ہیں، حکومت ہٹ دھرمی چھوڑ دے

صدرسپریم کورٹ کوپچھاڑنے کے بجائے مسئلہ بلوچستان کے حل میں کردار ادا کریں، لیاقت بلوچ. فوٹو: فائل

KARACHI:
جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن نے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل اورنواب زادہ طلال بگٹی کابلوچستان کے مسئلے کے حل کیلیے میدان میں آنا خوش آئند ہے۔


حکومت ہٹ دھرمی چھوڑ کر اختر مینگل کے 6 نکات اورطلال بگٹی کی تجاویزکی روشنی میں فوری اقدامات کرے، بلوچستان میں امن ملکی سالمیت کے لیے نہایت ضروری ہے لیکن چند حکومتی شخصیات اور صوبائی حکومت کے کچھ لوگ اس مسئلے کوحل نہیں ہونے دے رہے، اگرفوج کاکوئی ادارہ لوگوں کولاپتہ کرنے میں ملوث نہیں اوران کی قید میں کوئی فرد نہیں تو پھرلاپتہ افراد کا سراغ کیوں نہیں لگایا جاسکا۔

منورحسن نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ بلوچ قیادت کے مطالبات پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کردے تاکہ صوبے کے عوام کااعتماد بحال ہو۔آئی ایس آئی اورایم آئی کا اولین فرض ہے کہ وہ اغواکیے گئے لوگوں کا پتہ چلاکرانھیں بازیاب کرائے تاکہ ان پرلگائے گئے الزامات کوجھوٹا ثابت کیاجاسکے۔ دریں اثنا سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے منصورہ میں عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری اپنی ذات کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کو پچھاڑنے کے بجائے بلوچستان کے حالات ٹھیک کرنے کے لیے عملی سیاسی کردارادا کرکے بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال کریں۔

Recommended Stories

Load Next Story