معدنی ذخائر اور ترقی کا سفر

ملک میں موجود ذخائر کا ایک حصہ گزشتہ کئی عشروں سےاستعمال ہو رہا ہےلیکن ابھی تک عوام کی بڑی اکثریت پسماندگی کا شکار ہے۔

ملک میں قیمتی ذخائر کے دریافت ہونے سے معیشت کو یقیناً بڑا سہارا ملے گا مگر معاشی انقلاب اسی وقت آ سکتا ہے جب انفرااسٹرکچر بہتر بنایا جائے۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چنیوٹ کے علاقے رجوعہ میں خام لوہے، تانبے اور سونے کے ذخائر دریافت ہونے کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کرپشن ، چوری چکاری اتنی زیادہ ہے کہ اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، جس اینٹ کو اٹھاتے ہیں نیچے سے گند نکلتا ہے، ملک میں بیروز گاری اور غربت ہے جب کہ بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے، ہمت ہارنے والا شخص نہیں ہوں، ہمارے دور میں ہی بجلی اور گیس کا بحران ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ رجوعہ میں معدنیات نکالنے میں سرمایہ کاری کریں حکومت تمام تر سہولیات فراہم کرے گی۔

یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ چنیوٹ میں خام لوہے، تانبے اور سونے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں، ماہرین کے ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ خزانے دو ہزار مربع کلومیٹر تک پھیلے ہو سکتے ہیں تاہم ابتدائی طور پر 28 مربع کلومیٹر تک ان خزانوں کی نشاندہی ہوئی ہے، یہ ذخائر انتہائی کم گہرائی میں پائے گئے ہیں۔ پاکستان میں قدرت کی طرف سے عطا کردہ ذخائر کی کمی نہیں، تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر دریافت ہو چکے ہیں، بلوچستان میں بھی وسیع پیمانے پر ذخائر کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

اب مسئلہ ان ذخائر کے جلد از جلد نکالنے اور ان کے استعمال کا ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ان ذخائر سے استفادہ کرنے کی صورت میں ملک کی کمزور معیشت کو استحکام ملے گا، وسیع پیمانے پر روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت کو ان ذخائر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ملک بھر میں صنعتوں کا جال بچھانا ہو گا، اس طرح یقیناً پاکستان میں خوشحالی کا انقلاب آ سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک میں موجود مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں میں مریض رل رہے ہیں ان کے پاس ادویات کے لیے پیسے نہیں، غربت اور بیروز گاری بہت زیادہ ہے، انفرااسٹرکچر اور سڑکیں بھی نہیں ہیں۔

ان مسائل کا ذکر کرنا ہی کافی نہیں انھیں حل کرنا بھی حکومت کی ذمے داری ہے، اگر ترقیاتی کاموں کے لیے حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے تو انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور سرکاری اداروں سے رشوت کا خاتمہ کرنے کے لیے جس نظام کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے اس پر حکومت کی جانب سے عملدرآمد ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا،موجودہ حکومت کو آئے تقریباً دو سال ہو چلے ہیں، سرکاری اداروں میں کرپشن اور رشوت کا چلن اسی طرح ہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ اس میں اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت بیانات دینے اور سہانے خواب دکھانے کے بجائے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ ملک کی تقدیر عمل ہی سے بدل سکتی ہے۔


ملک میں موجود ذخائر کا ایک حصہ گزشتہ کئی عشروں سے استعمال ہو رہا ہے لیکن ابھی تک عوام کی بڑی اکثریت پسماندگی کا شکار ہے، ماہرین کے مطابق ہر سال غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس پالیسی سامنے نہیں آئی۔ ایک جانب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ وہ اگلے تین برس میں قوم کو درپیش چیلنجز کو ختم کر دیں گے دوسری جانب وہ یہ کہہ رہے ہیں اگر وسائل ہوتے تو تین سال کے اندر بجلی بحران کا خاتمہ کر دیتے ایک بجلی گھر لگانے کے لیے بھی رقم نہیں ہے۔

حکومت اس بات کی وضاحت کرے کہ اگر اس کے پاس وسائل نہیں ہیں تو آیندہ تین سال میں بجلی کا بحران کیسے ختم ہو گا اور بجلی گھر کہاں سے لگیں گے۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو اس سے انکار ممکن نہیں کہ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی آئی اور امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے لیکن ابھی تک دہشت گردی کا خطرہ ٹلا نہیں اور حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی کئی بار یہ کہا گیا ہے کہ بے چہرہ دہشت گرد ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکے ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ملک میں قیمتی ذخائر کے دریافت ہونے سے معیشت کو یقیناً بڑا سہارا ملے گا مگر معاشی انقلاب اسی وقت آ سکتا ہے جب انفرااسٹرکچر بہتر بنایا جائے، کمزور انفرااسٹرکچر اور کرپٹ سرکاری اداروں کے ساتھ ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کھوکھلے معلوم ہوتے ہیں۔دوسری جانب حکومت ملک میں معاشی خوشحالی لانے کے لیے بہت سے اقدامات کر رہی ہے۔ چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دے چکا ہے۔

بھارت میں چونکہ امن و امان اور توانائی کی صورت حال بہتر ہے اسی لیے امریکا اور یورپ کے سرمایہ کار وہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں امن و امان کی کمزور صورت حال اور توانائی کا بحران بڑی رکاوٹ ہیں، جب تک ان مسائل کو حل نہیں کیا جاتا غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ نہیں ہو گا کیونکہ سرمایہ ہمیشہ تحفظ مانگتا ہے۔
Load Next Story