معمولی ٹیکس کے عوض کالا دھن سفید کرانے کیلئے 2ایمنسٹی اسکیمیں منظور

1.5فیصد تک ٹیکس ادائیگی پرسیاستدان،جرنیلوںسمیت تمام شہریوںکے بیرون ملک اثاثوں اور رقوم کو قانونی حیثیت مل جائیگی

1.5فیصد تک ٹیکس ادائیگی پرسیاستدان،جرنیلوںسمیت تمام شہریوںکے بیرون ملک اثاثوں اور رقوم کو قانونی حیثیت مل جائیگی. فوٹو فائل

KARACHI:
وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے ایک سے ڈیڑھ فیصد تک ٹیکس کی ادائیگی پر سیاستدانوں،بیوروکریٹس ،ججزاورجرنیلوں سمیت بلاامتیاز تمام پاکستانیوں کے ملک اور بیرون ممالک قیمتی فلیٹس،مکانات و دیگر اثاثوں اور غیر ملکی بینکوں میں رکھی دولت کو قانونی حیثیت دینے کیلیے2 ایمنسٹی اسکیموں کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم نے یہ منظوری ایف بی آرہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پراجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔اجلاس میںوفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، سیکریٹری خزانہ ، چیئرمین ایف بی آرکے علاوہ ایف بی آر کے تمام ممبران اوردیگرمتعلقہ حکام نے شرکت کی ۔ذرائع کے مطابق منظور کی جانے و الی ٹیکس رجسٹریشن اینڈ انویسٹمنٹ اسکیم 2012کے نام سے دوایمنسٹی اسکیموںمیںٹیکس رجسٹریشن اسکیم کے تحت ٹیکس نادہندگان اکتوبر میں40 ہزارروپے ،نومبر میں50 اور دسمبر میں 60 ہزارروپے ادا کرکے ٹیکس رجسٹریشن حاصل کرسکیںگے۔

اسکیم کے دوسرے حصے کے تحت جو لوگ سرمایہ کاری کرکے اپنے کالے دھن کوسفید کرانا چاہیں گے وہ اکتوبر میں ایک فیصد ٹیکس کی ادائیگی سے ملک میں سرمایہ کاری کرکے اپنے کالے دھن کو سفید کر سکیںگے جبکہ نومبر میں1.25فیصد اوردسمبر میں 1.5فیصد ٹیکس کی ادائیگی سے سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے کالے دھن کو سفید کراسکیں گے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ منظورکردہ اسکیم کے تحت جو لوگ اپنا کالا دھن سفیدکرائیں گے ،ٹیکس رجسٹریشن نمبرحاصل کریں اور اپنے ریٹرن جمع کرائیں گے انھیں اگلے 3سال تک سہولت دی جائے گی جس کے تحت پہلے سال ٹیکس رجسٹریشن نمبر حاصل کرنے کیلیے پچھلے سال جمع کرائی جانے والی رقم اور اس پر 10فیصد اضافہ کرکے ٹیکس ادا کرسکیں گے ۔


دوسرے سال بھی اسی سسٹم کے تحت پچھلے سال جو رقم جمع کرائی گئی ہوگی اس پر دس فیصد اضافہ کرکے ٹیکس جمع کراسکیں گے ،اسی طرح تیسرے سال بھی دس فیصد اضافہ کرکے ٹیکس کی رقم جمع کرانا ہوگی ۔ایف بی آر نے موجودہ ٹیکس دہندگان کو ٹوکن ٹیکس اسکیم کے ذریعے یہ سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے ،اگر وہ بھی اپنی وہ دولت جو انھوں نے چھُپارکھی ہے ،اسے قانونی حیثیت دلواناچاہتے ہیں تو وہ صرف 100روپے ٹیکس ادا کرکے ایک کروڑ روپے مالیت تک کی خفیہ آمدنی و اثاثہ جات کو قانونی حیثیت دلواسکتے ہیں ،علاوہ ازیں ان اسکیموں کے تحت جو بھی کالا دھن سفید کرایا جائے گا ان پر قومی احتساب آرڈیننس 1999 سمیت فارن ایکسچینج مینوئیل2002،ایف آئی اے ایکٹ1974،کمپنیز آرڈیننس1984 ،پریونشن آف کرپشن ایکٹ1947،انکم ٹیکس آرڈیننس 2001سمیت وفاقی ٹیکس قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا ۔

مذکورہ قوانین کے مطابق جو کالا دھن سفید کرایاجائے گا اس کے بارے میں کبھی نیب پوچھ سکے گا نہ ایف آئی اے ،اس دولت کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہوگا ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ان دو اسکیموں کے تحت 41لاکھ ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی جائے گی ۔ وزیراعظم کو مزید بتایا گیا کہ مذکورہ 41لاکھ لوگوں میں سے 23 لاکھ امیر ترین ایسے لوگ ہیں جن کے پاس این ٹی این تک نہیں جبکہ اٹھارہ لاکھ ایسے ہیں جو انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرارہے ہیں ۔

اجلاس کے دوران نادرا حکام کی طرف سے دی جانے والی پریذنٹیشن میں بتایا گیا کہ ایک کروڑ سے زائد افراد ایسے ہیں جو تسلسل کے ساتھ بیرون ملک کا سفر کرتے ہیں ، پانچ لاکھ 84 ہزار ایسے ہیں جن کے کئی بینک اکاونٹس ہیں جبکہ 56 ہزار چار سو51 لوگ ملک کے پوش ترین علاقوں میں رہائش پذیر ہیں ، 19ہزار ایک سو اکیالیس کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں، 66 ہزار سات سو 36 ایسے ہیں جو ماہانہ ایک لاکھ روپے سے زائد مالیت کے یوٹیلٹی بلز جمع کراتے ہیں ، 13ہزار دو سو ایک امیرترین ایسے لوگ ہیں جن کے پاس ممنوعہ و غیر ممنوعہ اسلحہ لائسنس ہیں اور وہ بڑی بڑی گاڑیوں کے قافلے لے کر نقل و حرکت کرتے ہیں ، 25ہزار ایک سو33 ڈاکٹر و انجیئنرزہیں ۔ وزیراعظم کومزید بتایا گیاہے کہ 34 لاکھ لوگوںکے پاس نیشنل ٹیکس نمبر ہیں جن میں سے صرف 14لاکھ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں ، علاوہ ازیں 62 ہزار رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے صرف 21 ہزار ٹیکس جمع کرارہی ہیں ۔
Load Next Story