بحیرہ روم میں سیکڑوں تارکین وطن غرقاب

دنیا میں بڑھتی ہوئی غربت اور خانہ جنگی انسانوں کی ہجرت کا بنیادی سبب ہے

المناک سمندری حادثات زیادہ تر بحر روم میں یا انڈونیشیا سے آسٹریلیا کے لیے ہجرت کرنے والوں کو پیش آتے ہیں۔ فوٹو : فائل

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم میں کشتیوں کے ایک حادثے میں 300 تارکینِ وطن ڈوب گئے ہیں، اٹلی سے ملنے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ 200 سے زاید افراد سمندری طوفان کی نذر ہوئے جب کہ بعض افراد کو ڈوبنے سے بچایا بھی گیا۔

بیروزگاری اور اپنے وطن کے بگڑے ہوئے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر ترک وطن کرنے والے ہزاروں افراد ہر سال سمندری لہروں، کوسٹ گارڈز یا سرحدی محافظوں کی فائرنگ کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور ایک ایک آدمی کے ہلاک ہونے سے ان کا پورا گھرانا تباہ ہو جاتا ہے جس کی اصل ذمے داری اس ملک کے اندرونی حالات پر عاید ہوتی ہے۔ تازہ حادثے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ تارکین وطن کی دو کشتیوں کے ٹکرانے کا نتیجہ تھا۔ جب کہ ایک روز قبل بھی اسی طرح کے ایک سمندری حادثے میں 30 کے لگ بھگ تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے۔ تارکینِ وطن کی بین الاقوامی تنظیم آئی او ایم کا کہنا ہے کہ تازہ سانحے میں ملوث دونوں کشتیاں لیبیا سے چلی تھیں اور ان کی منزل یورپ تھی، زندہ بچ جانیوالوں میں سے 9 افراد فرانسیسی زبان بولتے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق مغربی افریقہ سے ہے۔


یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اٹلی نے کچھ عرصہ قبل بحیرہ روم میں سرچ اور ریسکیو آپریشن ختم کر دیا تھا، جس پر ناقدین مسلسل یہ کہتے رہے کہ اب بحیرہ روم میں حادثوں کی صورت میں زیادہ جانی نقصان ہو گا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اطالوی بحریہ نے لوگوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ دوسری جانب حادثے سے ایک دن قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ترجمان نے یورپی یونین کو خبردار کیا تھا کہ علاقے میں سرچ اور ریسکیو آپریشن برقرار نہ رکھنا انسانی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ المناک سمندری حادثات زیادہ تر بحر روم میں یا انڈونیشیا سے آسٹریلیا کے لیے ہجرت کرنے والوں کو پیش آتے ہیں۔

دنیا میں بڑھتی ہوئی غربت اور خانہ جنگی انسانوں کی ہجرت کا بنیادی سبب ہے، بدقسمتی سے ترقی یافتہ ممالک کی ظالمانہ پالیسیوں نے افریقہ اور ایشیا کے ممالک میں غربت کو بڑھایا اور بعض ملکوں میں خانہ جنگی اور دہشت گردی کی وجہ بھی ترقی یافتہ ملکوں کی پالیسیاں ہیں، بحیرہ روم میں یہ کوئی پہلاحادثہ نہیں ہے، ترقی یافتہ ممالک کا فرض ہے کہ وہ اپنی اقتصادی پالیسیوں پر نظرثانی کریں تاکہ غریب ممالک میں معاشی استحکام آ سکے۔
Load Next Story