ماہی گیروں کے جال میں پھنسنے والی نایاب وہیل سمندر میں چھوڑ دی گئی

افریقہ کے سمندر میں پائی جانے والی لانگ مین بیکڈ وہیل مچھلی 4 میٹر لمبی اور900سوکلوگرام وزنی تھی، ماہرین

وہیل مچھلی کی جسامت دیکھ کر انھیں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ نایاب مچھلی ہے اس لیے انھوں نے ساتھی ماہی گیروں کی مدد سے مچھلی کو دوبارہ سمندر میں آزاد کردیا۔ لانچ کے کپتان (فوٹو ایکسپریس)

ABU DHABI:
افریقہ کے سمندرمیں پائی جانے والی نایاب وہیل مچھلی پاکستان کی ساحلی حدود میں ماہی گیروں کے جال میں پھنس گئی، ماہرین آبی حیات نے نایاب مچھلی کا بحیرہ عرب میں پائے جانے کو غیرمعمولی قرار دیاہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقے کھوبر سے تقریباً 122 ناٹیکل مائیل دور الاذلان نامی ماہی گیروں کی لانچ میں سوار ماہی گیروں کے جال میں لانگ مین بیکڈ وہیل مچھلی پھنس گئی بعد ازاں ماہرین کی مدد سے مچھلی کو ایک مرتبہ پھر سمندر میں زندہ چھوڑ دیا گیا تاہم ماحولیاتی تحفظ کیلیے کام کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کے مطابق نایاب وہیل مچھلی 4 میٹر لمبی جبکہ 900کلوگرام وزنی تھی۔




انھوں نے بتایا کہ یہ پہلا واقعہ ہے کہ یہ مچھلی شمالی بحیرہ عرب میں دیکھی گئی ہے، انھوں نے بتایا کہ لانگ مین بیکڈ وہیل صومالیہ اور جنوبی افریقہ میں پائی جاتی ہے جبکہ مالدیپ، کینیا اور سری لنکا میں بھی اس کی نقل و حرکت مشاہدے میں آچکی ہے، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اعلامیے کے مطابق سمندری حیات کے تحفظ کیلیے نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور افتادہ جزائر پر بسنے والے ماہی گیروں کیلیے آگاہی مہم کے نتیجے میں گزشتہ ڈھائی سال کے دوران 15 وہیل شارک، چوڑے دھانے والی 3من ٹاریز اور2 سن فش کو جال میں پھنسنے کے باوجود سمندر میں دوبارہ زندہ چھوڑا جاچکا ہے۔

لانچ کے کپتان اقرار محمد نے بتایا کہ وہیل مچھلی کی جسامت دیکھ کر انھیں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ نایاب مچھلی ہے اس لیے انھوں نے ساتھی ماہی گیروں کی مدد سے مچھلی کو دوبارہ سمندر میں آزاد کردیا۔
Load Next Story