حکومت لاپتہ افرادکی تلاش کیلیے ٹیم بنائےپشاورہائیکورٹ

حکومت کچھ نہیں کررہی،کیاعدالت اکیلی ہی ان کیلیے لڑتی رہے گی،جسٹس دوست محمد

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے40رکنی ڈکیٹ گروہ سے متعلق شکایات کانوٹس لے لیا. فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
پشاورہائیکورٹ نے لاپتہ افرادبارے کیس کی سماعت کرتے ہوئے بازیابی کیلیے دائر درخواستوں پرصوبائی حکومت کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہاکہ آئی جی پی اورسی سی پی او پرمشتمل ماہرین کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جولاپتہ افراد کاکھوج لگائے اورتفصیلی رپورٹ پیش کرے۔


جبکہ حراستی مراکزمیں حساس اداروں کے زیرحراست افراد کوفراہم کی جانے والی سہولیات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا،چیف جسٹس دوست محمد خان اورجسٹس شاہ جہان اخونزادہ پرمشتمل دورکنی بینچ نے یہ احکامات جمعرات کے روزلاپتہ افراد کے بارے میں دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیے،چیف جسٹس نے کہاکہ 895افراد کوحراستی مراکزمنتقل کردیاگیاہے لیکن ان کی سہولیات کیلیے کچھ نہیں کیاجارہا ہے جبکہ ان افرادکے ساتھ انسانی سلوک کرنا چاہیے اسی طرح خیبرایجنسی کے رہائشی حیاء جان کی رٹ میں بتایاگیاکہ14اور16سال کی عمرکے بچوں کوحراست میں لیاگیا ہے جن کا تاحال کوئی اتاپتا نہیں۔

فاضل بینچ نے سیکریٹری ہوم سے رپورٹ طلب کرلی ایک اوردرخواست کی سماعت کے دوران فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ مرکزی اورصوبائی حکومتیں شہریوںکی حفاظت کیلیے کچھ نہیںکررہی ہے،کیا عدالت اکیلی ہی ان کیلیے لڑتی رہے گی،بعدازاںچیف جسٹس دوست محمد خان نے پشاورکے مختلف علاقوں میں40 چوروںپر مشتمل ڈکیٹ گروہ کے حوالے سے پشاورہائیکورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کوموصول ہونے والی شکایات کانوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت کوانکوائری کرنے کے احکامات جاری کیے اوررپورٹ جلد ازجلد پیش کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔
Load Next Story