دہشت گردی اور قومی کردار
دہشت گردی کی اس واردات سےعیاں ہوتا ہےکہ دہشت گردوں کانیٹ ورک قبائلی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ ہمارےشہروں میں متحرک ہے۔
ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں، فوٹو : اے ایف پی
KARACHI:
جمعرات کو اسلام آباد میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے آرمی پبلک اسکول پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کے پس پردہ کرداروں کے حوالے سے بریفنگ دی اور بتایا کہ سانحہ پشاور کے ذمے داروں کی شناخت ہو گئی ہے، حملے کے مرتکب 27 دہشت گردوں میں سے 9 مارے جا چکے ہیں جب کہ12 گرفتار کیے جا چکے ہیں اور6 کی تلاش جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سانحہ پشاور کی منصوبہ بندی افغان سرحد سے ملحقہ علاقے میں ہوئی جب کہ حملے کا حکم ملا فضل اللہ نے دیا۔
سانحہ پشاور کے ذمے داروں کے حوالے سے ملا فضل اللہ کا نام پہلے ہی سامنے آ چکا ہے اور اس حملے کی ذمے داری بھی ٹی ٹی پی نے قبول کر رکھی ہے۔ اس بریفنگ کے گزشتہ روز پشاور کے علاقے میں حیات آباد میں امام بار گاہ کے باہر خود کش حملہ ہو گیا۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق خود کش حملہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد ہوا ہے۔ اس سانحہ میں19 افراد شہید ہوئے ہیں۔
دہشت گردی کی اس واردات سے عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک قبائلی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ ہمارے شہروں میں متحرک ہے۔ ہمارے شہروں میں ایسے عاقبت نااندیش لوگ یا تنظیمیں موجود ہیں جو دہشت گردوں کو قیام و طعام اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کرتے ہیں، ان ملک اور عوام دشمن افراداور گروپوں کی وجہ سے ہی دہشت گرد ہلاکت خیز و اردات کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ سانحہ پشاور کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ تشویشناک بھی ہیں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے لیے راہ عمل کا تعین بھی کرتی ہیں۔
کتنے افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں قتل و غارت کرنے والے دہشت گرد پشاور میں ایک امام مسجد کے گھر میں ٹھہرے، یہ صاحب سرکاری ملازم بھی ہیں،دہشت گردوں کا دوسرا گروپ جمرود میں ایک مقامی شہری کے گھر میں تین رات تک رہا۔ یہ انکشاف ہمارے قومی کردار کے زوال کی ایک نشانی ہے۔جن لوگوں نے دہشت گردوں کو پناہ دی ،انھیں اپنے گھروں میں یا محفوظ مقامات پر رکھا ،انھیں آنے جانے کی سہولت فراہم کی، وہ کسی رعایت یا رحم کے مستحق نہیں ہیں،ایسے لوگوں کے ساتھ بے رحمی سے نمٹناچاہیے، جو لوگ معصوم اور بے گناہ انسانوں کے قاتلوں کے سہولت کار، مدد گار یا سرپرست ہیں، وہ دہشت گردوں سے بھی بڑے مجرم ہیں اور انھیں کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی کا ذمے دار بھارت کوقرار دیتی ہے، گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی بھارت کا نام لیا۔ اس میں بھی سچائی ہو گی کیونکہ بھارت کی یہ خواہش ہو گی کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار رہے لیکن ہمیں اپنے کردار اور عمل پر بھی غور کرنا ہو گا۔ کیا اسٹیبلشمنٹ اس حقیقت سے انکار کر سکتی ہے کہ دہشت گردوں کے لیڈر اور دہشت گرد پاکستانی ہیں۔ کیا ملا فضل اللہ سوات کا رہنے والا نہیں؟ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کہاں کے رہنے والے تھے؟ پاکستان میں کئی تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا۔ ان تنظیموں کے رہنما کون ہیں ،ان کا سب کو پتہ ہے۔
مسئلہ وہی ہے کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ مفادات کی اسیر اور نظریات کنفیوژن کا شکار ہے۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی کی کئی جہتیں ہیں،اس میںمذہب کے ساتھ ساتھ لسانی اور نسلی تعصبات بھی شامل ہو گئے ہیں، دہشت گرد کہیں قومیت کے تعصب کو استعمال کر رہے ہیں اور کہیں مذہب اور مسلک کو۔دوسری جانب غیر ملکی ہاتھ بھی اپنا کام کر رہا ہے۔محض بھارت کا نام لینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، اس میں مسلم ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور حکمران اشرافیہ کو اپنی روایتی سوچ سے باہر آنا ہو گا۔ نظریاتی کنفیوژن اور مفادات کو ترک کرنا ہو گا،پاکستان کی کسی فوجی یا جمہوری حکومت نے قبائلی علاقوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ پشاور شہر کے ساتھ قبائلی علاقے ہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے ہر شہر کے ساتھ قبائلی علاقہ ہے۔
یہ بھی ماننا پڑے گا کہ صوبائی حکومت اپنے زیر کنٹرول سیکیورٹی ایجنسیوں کو متحرک نہیں کر سکی۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے جہاں اعلیٰ پائے کا انٹیلی جنس نیٹ ورک ضروری ہے ،وہاں دہشت گردوں کو فوری سزائیں دینا بھی لازم ہے۔ سیاست کے لبادے میں چھپے ہوئے ان سیاستدانوں اور دینی شخصیات کو بھی بے نقاب کرنا ہو گا جو دانستہ یا نا دانستہ طور پر دہشت گردوں کے لیے مدد گار ثابت ہو رہے ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کا معاملہ نیچے سے نہیں اوپر سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں حکمرانوں کے عزم، حوصلے اور نظریاتی پختگی کا اہم کردار ہے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے آرمی پبلک اسکول پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کے پس پردہ کرداروں کے حوالے سے بریفنگ دی اور بتایا کہ سانحہ پشاور کے ذمے داروں کی شناخت ہو گئی ہے، حملے کے مرتکب 27 دہشت گردوں میں سے 9 مارے جا چکے ہیں جب کہ12 گرفتار کیے جا چکے ہیں اور6 کی تلاش جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سانحہ پشاور کی منصوبہ بندی افغان سرحد سے ملحقہ علاقے میں ہوئی جب کہ حملے کا حکم ملا فضل اللہ نے دیا۔
سانحہ پشاور کے ذمے داروں کے حوالے سے ملا فضل اللہ کا نام پہلے ہی سامنے آ چکا ہے اور اس حملے کی ذمے داری بھی ٹی ٹی پی نے قبول کر رکھی ہے۔ اس بریفنگ کے گزشتہ روز پشاور کے علاقے میں حیات آباد میں امام بار گاہ کے باہر خود کش حملہ ہو گیا۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق خود کش حملہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد ہوا ہے۔ اس سانحہ میں19 افراد شہید ہوئے ہیں۔
دہشت گردی کی اس واردات سے عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک قبائلی علاقوں میں ہی نہیں بلکہ ہمارے شہروں میں متحرک ہے۔ ہمارے شہروں میں ایسے عاقبت نااندیش لوگ یا تنظیمیں موجود ہیں جو دہشت گردوں کو قیام و طعام اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کرتے ہیں، ان ملک اور عوام دشمن افراداور گروپوں کی وجہ سے ہی دہشت گرد ہلاکت خیز و اردات کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ سانحہ پشاور کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ تشویشناک بھی ہیں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے لیے راہ عمل کا تعین بھی کرتی ہیں۔
کتنے افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں قتل و غارت کرنے والے دہشت گرد پشاور میں ایک امام مسجد کے گھر میں ٹھہرے، یہ صاحب سرکاری ملازم بھی ہیں،دہشت گردوں کا دوسرا گروپ جمرود میں ایک مقامی شہری کے گھر میں تین رات تک رہا۔ یہ انکشاف ہمارے قومی کردار کے زوال کی ایک نشانی ہے۔جن لوگوں نے دہشت گردوں کو پناہ دی ،انھیں اپنے گھروں میں یا محفوظ مقامات پر رکھا ،انھیں آنے جانے کی سہولت فراہم کی، وہ کسی رعایت یا رحم کے مستحق نہیں ہیں،ایسے لوگوں کے ساتھ بے رحمی سے نمٹناچاہیے، جو لوگ معصوم اور بے گناہ انسانوں کے قاتلوں کے سہولت کار، مدد گار یا سرپرست ہیں، وہ دہشت گردوں سے بھی بڑے مجرم ہیں اور انھیں کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی کا ذمے دار بھارت کوقرار دیتی ہے، گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی بھارت کا نام لیا۔ اس میں بھی سچائی ہو گی کیونکہ بھارت کی یہ خواہش ہو گی کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار رہے لیکن ہمیں اپنے کردار اور عمل پر بھی غور کرنا ہو گا۔ کیا اسٹیبلشمنٹ اس حقیقت سے انکار کر سکتی ہے کہ دہشت گردوں کے لیڈر اور دہشت گرد پاکستانی ہیں۔ کیا ملا فضل اللہ سوات کا رہنے والا نہیں؟ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کہاں کے رہنے والے تھے؟ پاکستان میں کئی تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا۔ ان تنظیموں کے رہنما کون ہیں ،ان کا سب کو پتہ ہے۔
مسئلہ وہی ہے کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ مفادات کی اسیر اور نظریات کنفیوژن کا شکار ہے۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی کی کئی جہتیں ہیں،اس میںمذہب کے ساتھ ساتھ لسانی اور نسلی تعصبات بھی شامل ہو گئے ہیں، دہشت گرد کہیں قومیت کے تعصب کو استعمال کر رہے ہیں اور کہیں مذہب اور مسلک کو۔دوسری جانب غیر ملکی ہاتھ بھی اپنا کام کر رہا ہے۔محض بھارت کا نام لینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، اس میں مسلم ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور حکمران اشرافیہ کو اپنی روایتی سوچ سے باہر آنا ہو گا۔ نظریاتی کنفیوژن اور مفادات کو ترک کرنا ہو گا،پاکستان کی کسی فوجی یا جمہوری حکومت نے قبائلی علاقوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ پشاور شہر کے ساتھ قبائلی علاقے ہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے ہر شہر کے ساتھ قبائلی علاقہ ہے۔
یہ بھی ماننا پڑے گا کہ صوبائی حکومت اپنے زیر کنٹرول سیکیورٹی ایجنسیوں کو متحرک نہیں کر سکی۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے جہاں اعلیٰ پائے کا انٹیلی جنس نیٹ ورک ضروری ہے ،وہاں دہشت گردوں کو فوری سزائیں دینا بھی لازم ہے۔ سیاست کے لبادے میں چھپے ہوئے ان سیاستدانوں اور دینی شخصیات کو بھی بے نقاب کرنا ہو گا جو دانستہ یا نا دانستہ طور پر دہشت گردوں کے لیے مدد گار ثابت ہو رہے ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کا معاملہ نیچے سے نہیں اوپر سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں حکمرانوں کے عزم، حوصلے اور نظریاتی پختگی کا اہم کردار ہے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔