توانائی بحران نے ٹیکسٹائل سیکٹر کی 286 صنعتوں کو نگل لیا
مارچ 2013 سے لے کر اب تک 286 ٹیکسٹائل کمپنیاں اور اس سے منسلک صنعتیں توانائی بحران کے باعث بند ہوگئی ہیں۔
پاکستانی صنعتی شعبے کو 2007سے بدترین توانائی بحران کا سامنا ہے اور حکمران مختلف اقدامات، وعدوں اور دعووں کے باوجود اس میں ذرا بھی کمی نہیں لاسکے۔ فوٹو: فائل
ملک میں جاری توانائی بحران کے باعث گزشتہ1 سال 10ماہ کے دوران286 ٹیکسٹائل ملز اور اس سے متعلقہ صنعتی یونٹس بند ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) کے پاس ٹیکسٹائل اور اس سے متعلقہ انڈسٹری کی مد میں مجموعی طور پر 4 ہزار 629کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں اور مارچ 2013 سے لے کر اب تک 286 ٹیکسٹائل کمپنیاں و اس سے منسلک صنعتیں بند ہوگئی ہیں اور ان کمپنیوں و ملوں کے نام ایس ای سی پی کے رجسٹر سے خارج کردیے گئے ہیں، ان صنعتی یونٹس کے بند ہونے کی وجہ توانائی بحران ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی صنعتی شعبے کو 2007سے بدترین توانائی بحران کا سامنا ہے اور حکمران مختلف اقدامات، وعدوں اور دعووں کے باوجود اس میں ذرا بھی کمی نہیں لاسکے خصوصاً پنجاب میں ٹیکسٹائل سیکٹر توانائی بحران سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور بزنس کمیونٹی مسلسل گیس وبجلی کی بلاتعطل فراہمی کا مطالبہ کررہی ہے۔
گزشتہ دنوں ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں محمد ادریس نے بھی مطالبہ کیا کہ پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری توانائی کی کمی کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہی ہے، مسئلہ سردیوں میں بہت بڑھ جاتا ہے اور گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے انڈسٹری میں پیداواری سرگرمیاں معطل ہو رہی ہیں جس کا اثر ملکی برآمدات پر پڑے گا اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا، اس کے علاوہ جی ایس پی پلس کے فوائد بھی ضائع ہوسکتے ہیں، یہ بحران حالیہ اعلان کردہ ٹیکسٹائل پالیسی کی ناکامی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
میاں ادریس نے وزیراعظم، وفاقی وزیرخزانہ،وزیر پٹرولیم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے استدعا کی کہ پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو گیس کی فراہمی فوری بحال کی جائے۔ دوسری طرف اپٹمااور لاہورچیمبرکے عہدیداران کی جانب سے وزارت ٹیکسٹائل کی طرف سے نئی 5 سالہ ٹیکسٹائل پالیسی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کہاگیا ہے کہ ٹیکسٹائل پالیسی کے تحت صرف اسی صورت میں ایکسپورٹ بڑھائی جاسکتی ہے جب انڈسٹری کی توانائی ضروریات پوری ہوں، اس لیے حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بلا تعطل بجلی اور گیس فراہم کرے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) کے پاس ٹیکسٹائل اور اس سے متعلقہ انڈسٹری کی مد میں مجموعی طور پر 4 ہزار 629کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں اور مارچ 2013 سے لے کر اب تک 286 ٹیکسٹائل کمپنیاں و اس سے منسلک صنعتیں بند ہوگئی ہیں اور ان کمپنیوں و ملوں کے نام ایس ای سی پی کے رجسٹر سے خارج کردیے گئے ہیں، ان صنعتی یونٹس کے بند ہونے کی وجہ توانائی بحران ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی صنعتی شعبے کو 2007سے بدترین توانائی بحران کا سامنا ہے اور حکمران مختلف اقدامات، وعدوں اور دعووں کے باوجود اس میں ذرا بھی کمی نہیں لاسکے خصوصاً پنجاب میں ٹیکسٹائل سیکٹر توانائی بحران سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور بزنس کمیونٹی مسلسل گیس وبجلی کی بلاتعطل فراہمی کا مطالبہ کررہی ہے۔
گزشتہ دنوں ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں محمد ادریس نے بھی مطالبہ کیا کہ پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری توانائی کی کمی کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہی ہے، مسئلہ سردیوں میں بہت بڑھ جاتا ہے اور گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے انڈسٹری میں پیداواری سرگرمیاں معطل ہو رہی ہیں جس کا اثر ملکی برآمدات پر پڑے گا اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا، اس کے علاوہ جی ایس پی پلس کے فوائد بھی ضائع ہوسکتے ہیں، یہ بحران حالیہ اعلان کردہ ٹیکسٹائل پالیسی کی ناکامی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
میاں ادریس نے وزیراعظم، وفاقی وزیرخزانہ،وزیر پٹرولیم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے استدعا کی کہ پنجاب میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو گیس کی فراہمی فوری بحال کی جائے۔ دوسری طرف اپٹمااور لاہورچیمبرکے عہدیداران کی جانب سے وزارت ٹیکسٹائل کی طرف سے نئی 5 سالہ ٹیکسٹائل پالیسی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کہاگیا ہے کہ ٹیکسٹائل پالیسی کے تحت صرف اسی صورت میں ایکسپورٹ بڑھائی جاسکتی ہے جب انڈسٹری کی توانائی ضروریات پوری ہوں، اس لیے حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بلا تعطل بجلی اور گیس فراہم کرے۔