وزیراعظم نواز شریف اور صدر اوباما کی ٹیلفونک گفتگو
اب یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ چین کے ویٹو کرنے کی صورت میں بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں بن سکے گا۔
امریکا پاکستان کو اپنا اہم اتحادی سمجھتا ہے تو اسے بھارت کے ساتھ معاہدے کرتے ہوئے پاکستانی مفادات کا بھی خیال رکھنا اور سلامتی کونسل میں بھارت کے مستقل رکن بننے کی حمایت ترک کر دینی چاہیے، فوٹو: فائل
امریکی صدر بارک اوباما اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے درمیان جمعرات کو ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی جس میں صدر اوباما نے کہا کہ امریکا پاکستان کی طرف سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو سراہتا ہے جب کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والا بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا اہل نہیں۔ گزشتہ دنوں صدر اوباما نے بھارت کے دورے کے دوران سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے لیے بھارتی خواہش کی حمایت کی تھی جس پر پاکستان میں تشویش کی لہر کا دوڑ جانا قدرتی امر ہے۔
لہٰذا پاکستان نے امریکا اور عالمی دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ ایسا ملک جو کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی مستقل خلاف ورزی کر رہا ہے وہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا اہل نہیں۔ بھارت صرف امریکا کی حمایت کی بنا پر سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں بن سکتا، اس کے لیے لازم ہے کہ کونسل کے پانچوں ارکان اس پر متفق ہوں۔ اب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے چینی وفد میں شامل وزیر خارجہ وانگ ژی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کی تعداد میں اضافے پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا' ارکان کی تعداد بڑھانے کے بجائے سیکیورٹی کونسل میں اصلاحات کے لیے پاکستان کے موقف کی حمایت کریں گے۔ اب یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ چین کے ویٹو کرنے کی صورت میں بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں بن سکے گا۔ پاکستان کا یہ خدشہ بالکل بجا ہے کہ اگر بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بن جاتا ہے تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن بہت زیادہ بگڑ جائے گا اور نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت پاکستان کے لیے مسائل میں اضافہ کرے گا۔
امریکا پہلے ہی بھارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدے کر چکا ہے جس پر پاکستان مستقل اپنی تشویش کا اظہار کررہا ہے کہ اس طرح طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔امریکا کو یہاں اسلحہ کے معاہدے کرنے کے بجائے غربت اور دیگر معاشی مسائل کے خاتمے کی جانب توجہ دینا چاہیے۔ جب امریکا پاکستان کو اپنا اہم اتحادی سمجھتا ہے تو اسے بھارت کے ساتھ معاہدے کرتے ہوئے پاکستانی مفادات کا بھی خیال رکھنا اور سلامتی کونسل میں بھارت کے مستقل رکن بننے کی حمایت ترک کر دینی چاہیے۔ اس کے بجائے امریکا بھارت پر مسئلہ کشمیر حل کرنے پر دباؤ ڈالے تاکہ خطے میں کشیدگی کی فضا ختم اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوں۔
لہٰذا پاکستان نے امریکا اور عالمی دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ ایسا ملک جو کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی مستقل خلاف ورزی کر رہا ہے وہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا اہل نہیں۔ بھارت صرف امریکا کی حمایت کی بنا پر سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں بن سکتا، اس کے لیے لازم ہے کہ کونسل کے پانچوں ارکان اس پر متفق ہوں۔ اب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے چینی وفد میں شامل وزیر خارجہ وانگ ژی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کی تعداد میں اضافے پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا' ارکان کی تعداد بڑھانے کے بجائے سیکیورٹی کونسل میں اصلاحات کے لیے پاکستان کے موقف کی حمایت کریں گے۔ اب یہ امر واضح ہو گیا ہے کہ چین کے ویٹو کرنے کی صورت میں بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں بن سکے گا۔ پاکستان کا یہ خدشہ بالکل بجا ہے کہ اگر بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بن جاتا ہے تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن بہت زیادہ بگڑ جائے گا اور نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت پاکستان کے لیے مسائل میں اضافہ کرے گا۔
امریکا پہلے ہی بھارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدے کر چکا ہے جس پر پاکستان مستقل اپنی تشویش کا اظہار کررہا ہے کہ اس طرح طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔امریکا کو یہاں اسلحہ کے معاہدے کرنے کے بجائے غربت اور دیگر معاشی مسائل کے خاتمے کی جانب توجہ دینا چاہیے۔ جب امریکا پاکستان کو اپنا اہم اتحادی سمجھتا ہے تو اسے بھارت کے ساتھ معاہدے کرتے ہوئے پاکستانی مفادات کا بھی خیال رکھنا اور سلامتی کونسل میں بھارت کے مستقل رکن بننے کی حمایت ترک کر دینی چاہیے۔ اس کے بجائے امریکا بھارت پر مسئلہ کشمیر حل کرنے پر دباؤ ڈالے تاکہ خطے میں کشیدگی کی فضا ختم اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوں۔