حیدر آباد میں یونیورسٹی کا قیام

ہمارا ملک تعلیمی اداروں کی کمی کے حوالے سے ایک انتہائی پسماندہ ملک ہے۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

SUKKUR:
قیام پاکستان کے 67 سال بعد سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں ایک یونیورسٹی کے قیام کی سبیل ہوئی ہے اور یہ کارنامہ حکومت کا نہیں بلکہ ایک نجی ادارے کے مالک کا ہے۔ متحدہ کے سربراہ چونکہ حیدر آباد میں یونیورسٹی کے قیام کا ایک عرصے سے مطالبہ کر رہے تھے غالباً اسی پس منظر میں اس یونیورسٹی کا نام الطاف حسین یونیورسٹی رکھا گیا ہے۔ ہمارا ملک تعلیمی اداروں کی کمی کے حوالے سے ایک انتہائی پسماندہ ملک ہے۔ شعبہ تعلیم کا تعلق اہم قومی اداروں میں ہوتا ہے کیونکہ تعلیمی ترقی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کرسکتا ہے نہ پرامن ہوسکتا ہے نہ مہذب کہلا سکتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے۔

اگر ہم اپنے اردگرد کے ملکوں ہی پر نظر ڈالیں تو پتہ چل جائے گا کہ تعلیمی اداروں کی کمی کے حوالے سے ہم کس پاتال میں کھڑے ہیں اور حکمرانوں نے تعلیم کے شعبے میں کس قدر سنگین نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ایک نجی ادارے کی طرف سے سندھ کے دوسرے بڑے شہر میں یونیورسٹی کی تعمیر کیا حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں۔

سندھ میں عشروں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور پاکستانی سیاست میں پیپلز پارٹی ایک روشن خیال جماعت کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہے مگر اس نے تعلیم کے حوالے سے انتہائی نااہلی اور غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔بدقسمتی سے دیہی سندھ کا تعلیم کے حوالے سے یہ حال ہے کہ ہزاروں گھوسٹ اساتذہ اور اسٹاف گھروں میں بیٹھ کر سرکاری خزانے سے تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں اور تعلیمی اداروں میں وڈیروں کے مویشی جگالی کر رہے ہیں۔

آج ہمارا ملک دہشت گردی کے جس ہولناک عذاب میں گرفتار ہے اس کے خاتمے کے لیے اگرچہ آپریشن کیے جا رہے ہیں لیکن آپریشن کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتے۔ خاص طور پر دہشت گردی کے مسئلے کا حل محض آپریشن نہیں بلکہ تعلیم کو عام اور لازمی کرنا بھی اس مسئلے کا ایک اہم اور دیرپا حل ہے۔ دہشت گردی پاکستان کے جن علاقوں میں پھل پھول رہی ہے وہ علاقے تعلیم اور جائز روزگار سے محروم ہیں اور اہل علم اہل دانش ہمیشہ اس بات پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ دہشت گردی اور سنگین جرائم کی اصل وجہ جہالت اور بے روزگاری ہے اور ہمارے قبائلی اور جاگیردارانہ معاشروں کا حال یہ ہے کہ یہاں پولیو کے قطرے پلانے والے ہیلتھ ورکرز کو قتل کیا جاتا ہے اور ساری دنیا ہماری اس جہالت پر خندہ زن ہے اور ہمارے ملک کو دور جاہلیت کی ایک یادگار کہہ رہی ہے۔


اس حوالے سے پہلے میڈیا میں بعض افسوسناک خبریں بھی چلتی رہی ہیں کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کو اس لیے نظرانداز کیا جاتا رہا کہ اگر یہ یونیورسٹی بن گئی تو اس پر ایک مخصوص زبان بولنے والوں کی اجارہ داری قائم ہوجائے گی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ملک میں خاص طور پر کراچی اور سندھ کے دوسرے بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں میں صرف ایک زبان بولنے والے زیر تعلیم نہیں بلکہ ہر تعلیمی ادارے میں مختلف زبانیں بولنے والے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبا زیر تعلیم ہیں۔ حتیٰ کہ کراچی میں اردو کالج اور اردو یونیورسٹی جیسے ایک لسانی نام رکھنے والے تعلیمی اداروں میں بھی مختلف زبانیں بولنے والے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبا زیر تعلیم ہیں۔ ان زندہ حقائق کے باوجود حیدرآباد میں قائم ہونے والی یونیورسٹی کی اس حوالے سے مخالفت کرنا کہ یہ ایک لسانی یونیورسٹی بن جائے گی ایک احمقانہ خدشے کے علاوہ کچھ نہیں۔

تعلیمی اداروں میں امن و امان کے حوالے سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں اس کی بڑی وجہ تعلیمی اداروں میں موجود سیاسی جماعتوں کے ونگز ہیں۔ یہ رجحان ہمارے ملک میں اس لیے فروغ پاتا رہا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں جو عموماً عوامی حمایت سے محروم رہتی ہیں ان ونگز کی حمایت سے سیاست کرنا چاہتی ہیں جس طرح وڈیرے اور جاگیردار غنڈوں اور قاتلوں کی مدد سے عوام خصوصاً ہاریوں کسانوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ رجحان جس طرح وڈیرہ شاہی میں قابل مذمت اور قابل نفرت ہے شعبہ تعلیم میں بھی قابل مذمت اور قابل نفرت ہے، ان تمام آلائشوں کی جڑیں ہمارے نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام میں پیوست ہیں۔ اور جب تک اس ملک سے نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہمارے معاشرے میں یہ آلائشیں نہ صرف باقی رہیں گی بلکہ ان میں اضافہ ہوتا رہے گا اس کا مثبت اور منطقی حل یہی ہے کہ تعلیم کو عام اور لازمی کیا جائے۔

حیدر آباد میں یونیورسٹی کے قیام کی خوشی میں 7 فروری کو متحدہ کے زیر اہتمام ایک رنگا رنگ جشن کا اہتمام کیا گیا جو غالباً سارے شہر میں منایا گیا بلاشبہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کا قیام ایک ایسا مثبت اور خوش آیند عمل ہے کہ اس پر اہل حیدرآباد کو خوشیاں منانا چاہیے۔ پچھلے دنوں شکارپور میں پیش آنے والے سانحے کی وجہ سے اگرچہ پورے سندھ میں ماحول سوگوار ہے لیکن حیدرآباد میں یونیورسٹی کا قیام دراصل جہل کے ان اندھیروں میں، جو پشاور اور شکارپور جیسے سانحات کو جنم دیتے ہیں، روشنی کی ایک چشم کشاء کرن کی حیثیت رکھتی ہے ساتھ ہی ساتھ تعلیم کے دشمنوں کے ناپاک ارادوں پر اوس کی بھی۔
Load Next Story