یونس خان ورلڈکپ میں ناکامیوں سے پیچھا چھڑانے کے خواہاں
پاکستان اور بھارت کی سائیڈزمتوازن دکھائی دیتی ہیں،یونس خان
بڑااسکورکرنا چاہتا ہوں، میگا ایونٹ میں پہلی بار بھارت کو ہرا سکتے ہیں، سینئر بیٹسمین ۔ فوٹو : فائل
یونس خان ورلڈکپ میں ناکامیوں سے پیچھا چھڑانے کے خواہاں ہیں، سینئر پاکستانی بیٹسمین اب تک 3 میگا ایونٹس میں حصہ لے چکے مگر کارکردگی غیرمعمولی نہیں رہی،16میچز میں2نصف سنچریوں کی بدولت306 رنز ہی ان کے نام پر درج ہیں، یونس کو خود بھی اس کا احساس ہے۔
وہ اس مرتبہ ایک نئے عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ جب یہ ورلڈ کپ ختم ہو تو اسکور بورڈ پر انہی کے رنز نمایاں نظر آئیں۔ بی بی سی کو انٹرویو میں یونس خان نے کہا کہ میں میگا ایونٹ میں بڑا اسکور کرنا چاہتا ہوں، کوشش ہوگی کہ کارکردگی متاثر کن رہے، ماضی میں بھی جب مشکل صورتحال سے دوچار ہوا اللہ نے میری مدد کی، امید ہے کہ اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ بھارت کے خلاف ہونے والے میچ کے حوالے سے سینئر بیٹسمین نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے پاس میچ جیت کر مہم کا آغاز پُراعتماد انداز سے کرنے کا اچھا موقع ہے، پاکستان اور بھارت کی سائیڈزمتوازن دکھائی دیتی ہیں۔
ان میں نوجوان کھلاڑی بڑی تعداد میں موجود ہیں،ایسے بڑے میچز میں ان نوجوانوں پر سینئرز جتنا دباؤ نہیں ہوتا، مگربڑے میچز میں اگر تجربہ کار کرکٹرز اچھی کارکردگی نہ دکھائیں تو انھیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی ٹیم اب تک ورلڈ کپ مقابلوں میں بھارت کو شکست نہیں دے سکی اور یونس یہ روایت توڑنے کے بارے میں پُرامید ہیں، انھوں نے کہا کہ چیزیں ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں، مجھے امید ہے کہ اس مرتبہ ہم پہلی بار ورلڈ کپ میں بھارت کو ہرا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ یونس 2000 سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ اور تینوں فارمیٹس میں ملک کیلیے خدمات انجام دینے والے پلیئرز میں شامل ہیں۔2009 کا ورلڈ ٹی20 پاکستان نے انہی کی قیادت میں جیتا تھا جس کے اختتام پر یونس خان نے مختصر طرز کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تھا، وہ ٹیسٹ ٹیم میں کسی دشواری کے بغیر اپنی پوزیشن مضبوط رکھے ہوئے ہیں لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں کارکردگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔
وہ اس مرتبہ ایک نئے عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ جب یہ ورلڈ کپ ختم ہو تو اسکور بورڈ پر انہی کے رنز نمایاں نظر آئیں۔ بی بی سی کو انٹرویو میں یونس خان نے کہا کہ میں میگا ایونٹ میں بڑا اسکور کرنا چاہتا ہوں، کوشش ہوگی کہ کارکردگی متاثر کن رہے، ماضی میں بھی جب مشکل صورتحال سے دوچار ہوا اللہ نے میری مدد کی، امید ہے کہ اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ بھارت کے خلاف ہونے والے میچ کے حوالے سے سینئر بیٹسمین نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے پاس میچ جیت کر مہم کا آغاز پُراعتماد انداز سے کرنے کا اچھا موقع ہے، پاکستان اور بھارت کی سائیڈزمتوازن دکھائی دیتی ہیں۔
ان میں نوجوان کھلاڑی بڑی تعداد میں موجود ہیں،ایسے بڑے میچز میں ان نوجوانوں پر سینئرز جتنا دباؤ نہیں ہوتا، مگربڑے میچز میں اگر تجربہ کار کرکٹرز اچھی کارکردگی نہ دکھائیں تو انھیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی ٹیم اب تک ورلڈ کپ مقابلوں میں بھارت کو شکست نہیں دے سکی اور یونس یہ روایت توڑنے کے بارے میں پُرامید ہیں، انھوں نے کہا کہ چیزیں ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں، مجھے امید ہے کہ اس مرتبہ ہم پہلی بار ورلڈ کپ میں بھارت کو ہرا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ یونس 2000 سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ اور تینوں فارمیٹس میں ملک کیلیے خدمات انجام دینے والے پلیئرز میں شامل ہیں۔2009 کا ورلڈ ٹی20 پاکستان نے انہی کی قیادت میں جیتا تھا جس کے اختتام پر یونس خان نے مختصر طرز کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تھا، وہ ٹیسٹ ٹیم میں کسی دشواری کے بغیر اپنی پوزیشن مضبوط رکھے ہوئے ہیں لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں کارکردگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔