چڑیا گھر کا عمر رسیدہ شیر ’’راجو‘‘ مرگیا
2005 میں حبیب آئل ملز نے یہ شیر بلدیہ عظمیٰ کے چڑیا گھر کو تحفے میں دیا تھا
بلدیہ عظمٰی کے ایڈمنسٹریٹر ثاقب احمد سومرو نے چڑیا گھر میں جمعہ کے دن مرنے والے شیر راجو کی طبی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ فوٹو: فائل
چڑیا گھر کے عمر رسیدہ شیر راجو کی طبعی عمر پوری ہونے پر جمعہ کو 9 بجے موت واقع ہوگئی، راجو کی عمر 23 سال تھی۔
2005 میں حبیب آئل ملز نے یہ شیر بلدیہ عظمیٰ کے چڑیا گھر کو تحفے میں دیا تھا چڑیا گھر میں قیام کے دوران راجو کے دانت مرحلہ وار ٹوٹتے رہے جس سے اسے خوراک کھانے میں دشواری تھی تاہم چڑیا گھر میں راجو کو طاقت کی دوائیں بشمول وٹامن دیے جارہے تھے ایک ہفتہ قبل راجو کمزور ہونا شروع ہوا تو چڑیا گھر کی انتظامیہ نے ڈاکٹروں کے پینل کو راجو کی صحت کے حوالے سے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ڈاکٹروں کا پینل ڈاکٹر کاظم، ڈاکٹر اسما، ڈاکٹر عامر اور ڈاکٹر مہوش میر پر مشتمل تھا جو راجو کی دیکھ بھال اور حفاظتی خوراک اور دوائیں فراہم کررہا تھا مگر عمر زیادہ ہونے کے باعث وہ صحت یاب نہ ہوسکا 3 روز قبل اس نے خوراک کم کردی تھی اور جمعرات سے اس نے خوراک لینا بند کردی.
بلدیہ عظمٰی کے ایڈمنسٹریٹر ثاقب احمد سومرو نے چڑیا گھر میں جمعہ کے دن مرنے والے شیر راجو کی طبی رپورٹ طلب کرلی ہے انھوں نے چڑیا گھر کی انتظامیہ سے راجو کے علاج کی رپورٹ سمیت پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی طلب کی ہے تاکہ معلوم ہوسکے راجو کی موت کسی غفلت سے تو نہیں ہوئی۔
2005 میں حبیب آئل ملز نے یہ شیر بلدیہ عظمیٰ کے چڑیا گھر کو تحفے میں دیا تھا چڑیا گھر میں قیام کے دوران راجو کے دانت مرحلہ وار ٹوٹتے رہے جس سے اسے خوراک کھانے میں دشواری تھی تاہم چڑیا گھر میں راجو کو طاقت کی دوائیں بشمول وٹامن دیے جارہے تھے ایک ہفتہ قبل راجو کمزور ہونا شروع ہوا تو چڑیا گھر کی انتظامیہ نے ڈاکٹروں کے پینل کو راجو کی صحت کے حوالے سے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ڈاکٹروں کا پینل ڈاکٹر کاظم، ڈاکٹر اسما، ڈاکٹر عامر اور ڈاکٹر مہوش میر پر مشتمل تھا جو راجو کی دیکھ بھال اور حفاظتی خوراک اور دوائیں فراہم کررہا تھا مگر عمر زیادہ ہونے کے باعث وہ صحت یاب نہ ہوسکا 3 روز قبل اس نے خوراک کم کردی تھی اور جمعرات سے اس نے خوراک لینا بند کردی.
بلدیہ عظمٰی کے ایڈمنسٹریٹر ثاقب احمد سومرو نے چڑیا گھر میں جمعہ کے دن مرنے والے شیر راجو کی طبی رپورٹ طلب کرلی ہے انھوں نے چڑیا گھر کی انتظامیہ سے راجو کے علاج کی رپورٹ سمیت پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی طلب کی ہے تاکہ معلوم ہوسکے راجو کی موت کسی غفلت سے تو نہیں ہوئی۔