ملک میں ہاکی کے کھیل کا مستقبل روشن ہے اختر رسول
قومی ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز اورچیمپئنزٹرافی کے فائنل میں پہنچ کے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں ہاکی کا مستقبل روشن ہے۔
3 مارچ کو وزیراعظم سے ملاقات میں مالی مسائل حل ہونے کا امکان ہے، صدر پی ایچ ایف۔ فوٹو: فائل
پی ایچ ایف کے صدر اولمپئن اختر رسول نے کہا ہے کہ قومی ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز اور پھر چیمپئنزٹرافی کے فائنل میں رسائی حاصل کرکے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں ہاکی کا مستقبل روشن ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ایک مرتبہ پھر 3 مارچ کو متوقع ملاقات میں مالی مسائل حل ہونے کا امکان ہے، قومی کھیل کے فروغ کے لیے پاکستان کسٹمزکی طرح دیگر قومی و نجی اداروں سمیت حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، انھوں نے ان خیالات کا اظہار 5ویں قائداعظم گولڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ شدید مالی بحران کا شکارفیڈریشن محدود وسائل کے ساتھ قومی کھیل کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، تاہم حکومت کو فوری طوپر 50 کروڑ روپے فراہم کرنا ہوں گے تاکہ انٹر نیشنل ایونٹس میں شرکت کو یقینی بنایا جائے جبکہ کھلاڑیوں کے مسائل کا حل بھی حکومتی گرانٹ سے ہی مشروط ہے۔
انھوں نے کہا قومی کھیل کی بقا صرف پی ایچ ایف ہی کی ذمے داری نہیں، دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں، اس حوالے سے وزیر اعظم سمیت تمام ذمہ داران کو اچھا کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہے، چیف کلکٹر طارق ہدیٰ نے کہا کہ پاکستان کسٹمز ماضی کی طرح قومی کھیل کے فروغ میں اپنا کردارادا کرے گا، ایونٹس کے انعقاد کے ساتھ بنیادی سطح سے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے ملک بھر میں ہاکی اکیڈمیز کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ پاکستان کسٹمز ہاکی ٹیم کی تشکیل نو بھی کی جائے گی۔
وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ایک مرتبہ پھر 3 مارچ کو متوقع ملاقات میں مالی مسائل حل ہونے کا امکان ہے، قومی کھیل کے فروغ کے لیے پاکستان کسٹمزکی طرح دیگر قومی و نجی اداروں سمیت حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، انھوں نے ان خیالات کا اظہار 5ویں قائداعظم گولڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ شدید مالی بحران کا شکارفیڈریشن محدود وسائل کے ساتھ قومی کھیل کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، تاہم حکومت کو فوری طوپر 50 کروڑ روپے فراہم کرنا ہوں گے تاکہ انٹر نیشنل ایونٹس میں شرکت کو یقینی بنایا جائے جبکہ کھلاڑیوں کے مسائل کا حل بھی حکومتی گرانٹ سے ہی مشروط ہے۔
انھوں نے کہا قومی کھیل کی بقا صرف پی ایچ ایف ہی کی ذمے داری نہیں، دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں، اس حوالے سے وزیر اعظم سمیت تمام ذمہ داران کو اچھا کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہے، چیف کلکٹر طارق ہدیٰ نے کہا کہ پاکستان کسٹمز ماضی کی طرح قومی کھیل کے فروغ میں اپنا کردارادا کرے گا، ایونٹس کے انعقاد کے ساتھ بنیادی سطح سے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے ملک بھر میں ہاکی اکیڈمیز کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ پاکستان کسٹمز ہاکی ٹیم کی تشکیل نو بھی کی جائے گی۔