ورلڈ کپ منتظمین کے لیے منافع کا سودا ثابت ہوگا

20 کروڑڈالر آمدنی متوقع، آئندہ 6ہفتوں میں10 لاکھ سے زائد شائقین میدان آئیں گے

20 کروڑڈالر آمدنی متوقع،آئندہ 6ہفتوں میں10 لاکھ سے زائد شائقین میدان آئیں گے فوٹو : فائل

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں شروع ہونے والے 11 ویں ورلڈ کپ میں منتظمین کو 20 کروڑ ڈالر کا منافع ہوگا، بھارت کی میزبانی میں منعقدہ2011 کے میگا ایونٹ میں32 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی،اگلے 6 ہفتوں میں 10 لاکھ سے زیادہ شائقین میزبان ممالک کے میدانوں کا رخ کریں گے۔


تفصیلات کے مطابق وقت کا بڑا فرق ہونے کے باوجود آئندہ 6 ہفتوں میں 2 ارب سے زیادہ لوگ میچز دیکھیں گے، ورلڈ کپ میزبان ممالک کیلیے منافع بخش کاروبار بھی ہے، ورلڈ کپ میں کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ تو میدان اور ٹی وی اسکرینزکے سامنے بیٹھے ہوئے شائقین و ناظرین ہی ہوں گے، البتہ میزبان ممالک کو کئی دیگر مالی فوائد بھی حاصل ہیں،یونیورسٹی آف نیوساؤتھ ویلز کے بزنس اسکول سے منسلک ٹم ہارکورٹ کے بقول سیاحت کے ادارے 'ٹورازم آسٹریلیا' کی نظر میں ورلڈ کپ ملک کے لیے بہت اچھا ثابت ہوگا، اس کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ کرکٹ کے شائقین کے پاس بھی خرچ کرنے کو بہت پیسہ ہوگا،کھیلوں کے ذریعے سفارتکاری کے پروگرام کے تحت آسٹریلوی حکومت کا تجارتی کمیشن ورلڈ کپ کے دنوں میں کئی کاروباری تقریبات منعقد کرے گا۔

ان کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہے،ٹم ہارکورٹ نے مزید کہاکہ نیوزی لینڈ کے ساتھ ملک کر کھیلوں کی مشترکہ میزبانی کے حوالے سے آسٹریلیا کا ریکارڈ بہت اچھا رہا ہے،اگرچہ ورلڈ کپ کے منتظین ان مقابلوں سے ہونے والی متوقع آمدنی کے بارے میں زیادہ پیش گوئیاں نہیں کر رہے، البتہ اندازہ ہے کہ اگلے 6 ہفتوں میں 10 لاکھ سے زیادہ شائقین میزبان میدانوں کا رخ کریں گے، سڈنی میں ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے کہا کہ بھارت سے ہمارا تنازع حل ہو رہا ہے، ہم اس معاملے میں آگے بڑھ رہے ہیں، بطور کھلاڑی ہمارا کام میدان میں اچھا کھیل پیش کرنا ہے، البتہ ہمیشہ کچھ ایسی باتیں ہوتی رہیں گی جن پر تمام لوگوں کا اتفاق نہیں ہوگا۔
Load Next Story