امریکا میں پاکستان مخالف لابی
پاکستان کے مفادات کا تقاضا ہے کہ ہماری وزارت خارجہ امریکا میں پاکستان مخالف مہم کے مقابلے کے لیے حکمت عملی تیار کرے۔
حکومت اگر نیشنل ایکشن پلان اور اس کی روح کے مطابق عمل کرے تو بہت سی ناپسندیدہ سرگرمیوں کو روکا جا سکتا ہے۔ فوٹو: فائل
امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ایڈ رائس نے اپنی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان اور امریکا میں تعلقات کی بہتری اور صحیح معنوں میں شراکت داری کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان تمام دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعلقات ختم کر کے ان کے خلاف موثر اور حقیقی کارروائی کرے اور ایسا کرنے تک پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کی جائیں اور پاکستان کی کچھ امداد روک لی جائے نیز جن پاکستانی اہلکاروں کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ہیں ان پر فوری طور پر پابندیاں عائد کی جائیں۔
امریکی ایوان نمایندگان میں امور خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین نے یہ سفارش اور تجاویز امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو لکھے گئے ایک خط میں دی ہیں۔ خط میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور وہاں ہزاروں شہری اور اہلکار اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ واضح رہے امریکا کے خارجہ امور میں غیر معمولی اہمیت رکھنے والی کمیٹی کے چیئرمین نے لکھا ہے کہ پاکستان نے القاعدہ اور طالبان کے خلاف کچھ کارروائیاں کی ہیں مگر کئی تنظیمیں جنھیں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا ان کے خلاف کوئی خاص کارروائی نہیں کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی بلکہ پاکستان پر دوغلی پالیسی جاری رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
اس خط کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ڈرافٹ کی تیاری کے لیے امریکا میں بھارتی لابی نے خصوصی کردار ادا کیا ہے۔ واضح رہے امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ایڈ رائس کے اس خط پر حزب اختلاف ریپبلکن پارٹی کے سینئر رکن ایلیٹ اینگل کے دستخط بھی ثبت ہیں۔ خط میں جان کیری کو مشورہ دیا گیا ہے کہ امریکا کو پاکستان کے معاملے میں ایک نیا رخ اپنانے کی ضرورت ہے۔ امریکا کے اندر بھارتی لابی بڑے تسلسل سے کام کر رہی ہے' پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکا میں بھارتی لابی کا زور توڑنے کے لیے جدید خطوط پر کام کرے۔
عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود امریکا میں ایسی لابی موجود ہے جو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرتی رہتی ہے۔ پاکستان کے مفادات کا تقاضا ہے کہ ہماری وزارت خارجہ امریکا میں پاکستان مخالف مہم کے مقابلے کے لیے حکمت عملی تیار کرے۔اس کے علاوہ حکومت پاکستان کا بھی فرض ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرے ۔پاکستان کا وقار اور مفادات ہر پارٹی یا تنظیم سے بالاتر رہنا چاہیے۔ حکومت اگر نیشنل ایکشن پلان اور اس کی روح کے مطابق عمل کرے تو بہت سی ناپسندیدہ سرگرمیوں کو روکا جا سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کا عالمی سطح پر امیج بہتر ہو گا۔
امریکی ایوان نمایندگان میں امور خارجہ کی کمیٹی کے چیئرمین نے یہ سفارش اور تجاویز امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو لکھے گئے ایک خط میں دی ہیں۔ خط میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور وہاں ہزاروں شہری اور اہلکار اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ واضح رہے امریکا کے خارجہ امور میں غیر معمولی اہمیت رکھنے والی کمیٹی کے چیئرمین نے لکھا ہے کہ پاکستان نے القاعدہ اور طالبان کے خلاف کچھ کارروائیاں کی ہیں مگر کئی تنظیمیں جنھیں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا ان کے خلاف کوئی خاص کارروائی نہیں کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی بلکہ پاکستان پر دوغلی پالیسی جاری رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
اس خط کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ڈرافٹ کی تیاری کے لیے امریکا میں بھارتی لابی نے خصوصی کردار ادا کیا ہے۔ واضح رہے امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین ایڈ رائس کے اس خط پر حزب اختلاف ریپبلکن پارٹی کے سینئر رکن ایلیٹ اینگل کے دستخط بھی ثبت ہیں۔ خط میں جان کیری کو مشورہ دیا گیا ہے کہ امریکا کو پاکستان کے معاملے میں ایک نیا رخ اپنانے کی ضرورت ہے۔ امریکا کے اندر بھارتی لابی بڑے تسلسل سے کام کر رہی ہے' پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکا میں بھارتی لابی کا زور توڑنے کے لیے جدید خطوط پر کام کرے۔
عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود امریکا میں ایسی لابی موجود ہے جو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرتی رہتی ہے۔ پاکستان کے مفادات کا تقاضا ہے کہ ہماری وزارت خارجہ امریکا میں پاکستان مخالف مہم کے مقابلے کے لیے حکمت عملی تیار کرے۔اس کے علاوہ حکومت پاکستان کا بھی فرض ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرے ۔پاکستان کا وقار اور مفادات ہر پارٹی یا تنظیم سے بالاتر رہنا چاہیے۔ حکومت اگر نیشنل ایکشن پلان اور اس کی روح کے مطابق عمل کرے تو بہت سی ناپسندیدہ سرگرمیوں کو روکا جا سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کا عالمی سطح پر امیج بہتر ہو گا۔