ملائشین ’’تبنگ حاجی‘‘ طرز پرمالیاتی اداروں کے قیام پر کام شروع

تبنگ حاجی میں حج کے خواہشمند شہری60 روپے کے مساوی رقم سے کھاتہ کھول سکتا ہیں،ذرائع

نئی حج پالیسی کے تحت رواں سال حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہشمندوں کی دومرحلوں میں قرعہ اندازی کی جائے گی، ذرائع۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں ملائشین ''تبنگ حاجی'' کی طرز پرحجاج کے لیے مالیاتی ادارے قائم کرنے کی سفارشات پر کام کا آغاز ہوگیا ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ملائشیا میں قائم تبنگ حاجی نامی مالیاتی ادارے میں حج ادا کرنے کا خواہشمند ہرشہری صرف پاکستان کے60 روپے کے مساوی رقم سے کھاتہ کھول سکتا ہے اور اس ادارے میں عوام کی سرمایہ کاری وبچت کی مالیت16 ارب ڈالر سے تجاوز ہوچکی ہے۔ اس ادارے میں86 لاکھ ملائشین رجسٹرڈ ہیں اور ادارے کوگزشتہ سال 1 ارب ڈالر مالیت کا منافع ہوا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزارت حج کے پالیسی سازوں نے پاکستانی حجاج کوکم سے کم معاوضے پربہترین سہولتوں کی فراہمی کی غرض سے ملائشیا کی طرز پرحجاج کے لیے مالیاتی ادارے کا قیام وقت کی اہم ضرورت قراردیا ہے۔ مجوزہ مالیاتی ادارہ حکومتی سطح پرقائم کیا جاسکتا ہے جبکہ اسٹاک ایکس چینج یا نجی شعبہ بھی اس میں اشتراکیت کرسکتا ہے۔ مجوزہ ادارے کے قیام سے پاکستان میں نہ صرف بچت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ حکومت پاکستان کی مجوزہ گارنٹی کے سبب عام آدمی کا سرمایہ بھی محفوظ ہوسکے گا۔


ذرائع نے بتایا کہ وزارت مذہبی امور نے نئی حج پالیسی پرکام تقریبا مکمل کرلیا ہے۔ توقع ہے حکومت مارچ کے وسط میں نئی حج پالیسی کا اعلان کردے، ذرائع نے بتایا کہ نئی حج پالیسی کے تحت رواں سال حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہشمندوں کی دومرحلوں میں قرعہ اندازی کی جائے گی، پہلے مرحلے میں ٹوکن رقم وصول کی جائے گی اور درخواست گزاروں کو آن لائن رجسٹریشن کی سہولت دی جائے گی۔ سعودی عرب میں تعینات ڈائریکٹر حج ابوعاکف نے بتایا کہ پاکستانی حجاج کی موثر تربیت نہ ہونے کی وجہ سے مناسک حج کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے لہٰذا حجاج کوبہترین خدمات وسہولتوں کی فراہمی کے لیے پاکستان میں بھی ملائیشیا کی طرز پر مالیاتی ادارے قیام ممکن ہے۔

انہوں نے بتایاکہ پاکستانی حجاج کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے مناسک درست طور پر ادا نہیں کرپاتے، اور اکثر مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ملائیشیا سمیت متعدد اسلامی ممالک میں حج کی ایک ہفتے یا زائد کی تربیت کی جاتی ہے۔ حج اور عمرہ کی مناسب تربیت کا ادارہ قائم کیا جانا ضروری ہے۔ ابوعاکف کا کہنا تھا کہ گزشتہ 4 سال کے دوران سرکاری اسکیم میں جانے والے حجاج کے لیے انتظامات بہتر کیے ہیں۔ حجاج کی رہائش عزیزیہ منتقل کردی ہے اور موثر بس سروس فراہم کی جارہی ہے جبکہ منی سے مزدلفہ کے لیے ٹرین بک کرائی جاتی ہے۔

نجی حج آپریٹرز سے متعلق سوال پرابوعاکف نے بتایاکہ پرائیویٹ حج آپریٹر فی حاجی 2 لاکھ روپے کماتے ہیں، حالانکہ فی حاجی کے عمومی اخراجات کی مالیت صرف1.5 سے2 لاکھ روپے ہے۔ پرائیویٹ حج آپریٹرز کے خلاف شکایات نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی ممکن نہیں حالانکہ حجاج کی شکایات کے لیے جدید کال سینٹر قائم ہے جہاں درج ہونے والی شکایات 24 گھنٹوں میں سیکریٹری مذہبی امور تک پہنچ جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں حج ایک صنعتی شعبہ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے، رواں سال پاکستانی عازمین کے لیے وی آئی پی بس سروس فراہم کرنے کی حکمت عملی وضح کرلی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا سعودی عرب کے مختلف شہروں میں مقیم 4 ہزار پاکستانی ہرسال حجاج کی خدمت کی غرض سے آتے ہیں جنہیں وزارت مذہبی امور کی جانب سے نہ تو رہائش فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے مذکورہ4 ہزار حج رضاکاروں کو وزارت مذہبی امور کی جانب سے صرف خدمت کی سند عطا کی جاتی ہے۔
Load Next Story