ناکامی کے بعد مزید تجربات سے گریز کیا جائے راشد لطیف

یونس کو پانچویں نمبر پر کھلایا جائے بصورت دیگر اسے ٹیم میں شامل نہ کیا جائے، سابق وکٹ کیپر

فتوحات پانے کے لیے ٹیم کاکمبی نیشن بننا بہت ضروری ہے، راشد لطیف۔ فوٹو: فائل

RAWALPINDI/ KARACHI/PESHAWAR/LAHORE:
سابق ٹیسٹ کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ عالمی کپ کے پہلے میچ میں بھارت کے ہاتھوں ہونے والی شکست کو بھول کر آئندہ مقابلوں کے لیے مزید تجربات سے گریز کیا جائے، فتوحات پانے کے لیے ٹیم کاکمبی نیشن بننا بہت ضروری ہے۔

انھوں نے عالمی کپ کے حوالے سے 'ایکسپریس نیوز' کے پروگرام جوش جگا دے میں میزبان مرزا اقبال بیگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف میچ میں ثابت کر دیا کہ دباؤ کا مقابلہ کس طرح کیا جاتا ہے، اس نے دفاعی چیمپئن کے انداز میں کھیل پر اپنی گرفت ثابت کی، دوسری جانب ہم نے اپنی قومی ٹیم سے کچھ زیادہ ہی توقعات وا بستہ کرلیں تھیں، دراصل یہ مقابلہ یکطرفہ ثابت ہوا، بہرحال ہماری ٹیم جیسی بھی ہے اس کی بھر پور سپورٹ کی جائے گی، البتہ اب وقت آگیا ہے کہ میگا ایونٹ میں بہتر کارکرد گی کے لیے ٹیم میں مزید تجربات نہ کیے جائیں، وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد کی ٹیم میں واپسی ناگزیر ہے، عمر اکمل کو اگر ٹیم میں شامل ہی کرنا ہے تو اسے بطور بیٹسمین جگہ دی جائے۔


ایک سوال پر راشد لطیف نے کہا کہ یونس خان کو اوپنر کی بجائے پانچویں پوزیشن پر بیٹنگ کرائی جائے ورنہ اسے ٹیم میں ہی شامل نہ کیا جائے، انھوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ میں کپتان مصباح الحق نے ذمے دارانہ بیٹنگ کی مگر وہ اکیلا کیا کر سکتا تھا، ہمارے بیٹسمین دباؤ برداشت نہ کر سکے اور وکٹ پر رکنے کی بجائے جلد بازی کا مظاہرہ کرکے پویلین لوٹتے رہے۔

دوسری جانب ہمارے بولرز نے بہتر بولنگ کرکے بھارت کو بھاری اسکور کرنے سے روک لیا، نوجوان بولر سہیل خان نے میچ میں 5 وکٹیں حاصل کرکے اپنی اہلیت ثابت کی، آئندہ میچوں میں وہ زیادہ پر اعتماد بولنگ کر سکتا ہے، انھوں نے کہا کہ مین آف دی میچ ویرات کوہلی نے متوقع سنچری داغ کراپنی ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ دوسری وکٹ کی شراکت میں 129 اور تیسری وکٹ کی شراکت میں بننے والے 110 رنز کی بدولت بھارت کو نفسیاتی برتری ملی جبکہ محمد شامی نے نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے پاکستان کو شکست کی طرف دھکیل دیا۔
Load Next Story