پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شکست پر تماشائی غمگین
شائقین کا وقار یونس اور چیف سلیکٹر سمیت ٹیم پر بوجھ بننے والے کھلاڑیوں کو بھی فارغ کرنے کا مطالبہ
شائقین کا وقار یونس اور چیف سلیکٹر سمیت ٹیم پر بوجھ بننے والے کھلاڑیوں کو بھی فارغ کرنے کا مطالبہ۔ فوٹو: فائل
لاہور:
پاکستان کی بھارت کے خلاف شکست نے تماشائیوں کو غمگین کردیا، ناکامی کی ذمہ داری ٹیم منیجمنٹ کے غلط فیصلوں اور کھلاڑیوں کی غیر ضروری شاٹس کھیل کر وکٹیں گنوانے کو قرار دیدیا۔
شائقین نے وقار یونس اور چیف سلیکٹر سمیت ٹیم پر بوجھ بننے والے کھلاڑیوں کو بھی فارغ کرنے کا مطالبہ کیا، روایتی حریفوں کے درمیان مقابلے کے دوران صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں ہو کا عالم رہا، شاہراہیں سنسان جبکہ ٹریفک بھی برائے نام رہی۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ مقابلوں میں گرین شرٹس کی شکستوں کا جمود ٹوٹ نہ سکا اور اسے گذشتہ روز بھی بلو شرٹس سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ پاک، بھارت ٹاکرے کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں کرکٹ جنون عروج پر رہا۔
شاہراہیں سنسان جبکہ ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی،کرکٹ دیوانوں نے میچ دیکھنے کیلیے خصوصی انتظامات کیے، عوام نے اپنے روزمرہ کے معمولات زندگی کو پس پشت ڈال دیا، لاہور کے باسی کھانے پینے میں مشہور اور تعطیل کے روز سری پائے ، حلوہ پوری ،حریسے سمیت دیگر پکوانوں سے ناشتے کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن گذشتہ روز زندہ دلان لاہور نے گھروں میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے دکاندار ناشتے کی خریداری کیلیے آنے والوں کے منتظر دکھائی دیے۔
شہر بھر کی تمام تفریح گاہیں خالی نظر آئیں، تجارتی مراکز، ہفتہ وار سستے بازار اور سڑکیں ویران رہے، لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں بڑی اسکرینیں نصب کی گئیں، پاکستان کی کامیابی کیلیے ملک بھر میں لوگوں نے دعائیں اور منتیں مانگیں تاہم قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے اپنے روایتی کھیل کا مظاہرہ کرکے ایک بار پھر قوم کو مایوس کردیا۔ ورلڈ کپ مقابلوں میں مسلسل چھٹی شکست کی وجہ سے تماشائی قومی کرکٹرز سے خاصے نالاں ہیں اور انھوں نے شکست کی وجہ ٹیم مینجمنٹ کے غلط فیصلوں اور بیٹسمینوں کی جلد بازی میں وکٹیں گنوانے کو قرار دیا ہے۔
شائقین کا کہنا ہے کھلاڑیوں نے ایک بار پھر ناقص کھیل کا مظاہرہ کر کے ہمارے دل توڑ دیے ہیں، ہم نے اس آس کے ساتھ رات جاگ کر گزاری کہ اس بار گرین شرٹس بھارت کو ہرا کر تاریخ بدل دیں گے لیکن پاکستانی کھلاڑیوں نے جلد بازی میں اپنی وکٹیں گنوائیں۔شائقین کے مطابق سرفراز احمد کی صورت میں ریگولر وکٹ کیپر موجود تھا تو عمر اکمل کو گلوز کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی جبکہ یونس خان نے ماضی میں کبھی اوپننگ نہیں کی ، اس بار انھیں اوپنر بجھوا کر غلط فیصلہ کیا گیا ، ناراض شائقین کا کہنا تھا کہ ہمارا ورلڈ کپ بھارت کے خلاف میچ سے تھا، اب پاکستان اگلے میچ میں ویسٹ انڈیز کو ہرا بھی دیتا ہے تو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پاکستان کی بھارت کے خلاف شکست نے تماشائیوں کو غمگین کردیا، ناکامی کی ذمہ داری ٹیم منیجمنٹ کے غلط فیصلوں اور کھلاڑیوں کی غیر ضروری شاٹس کھیل کر وکٹیں گنوانے کو قرار دیدیا۔
شائقین نے وقار یونس اور چیف سلیکٹر سمیت ٹیم پر بوجھ بننے والے کھلاڑیوں کو بھی فارغ کرنے کا مطالبہ کیا، روایتی حریفوں کے درمیان مقابلے کے دوران صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں ہو کا عالم رہا، شاہراہیں سنسان جبکہ ٹریفک بھی برائے نام رہی۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ مقابلوں میں گرین شرٹس کی شکستوں کا جمود ٹوٹ نہ سکا اور اسے گذشتہ روز بھی بلو شرٹس سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ پاک، بھارت ٹاکرے کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں کرکٹ جنون عروج پر رہا۔
شاہراہیں سنسان جبکہ ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی،کرکٹ دیوانوں نے میچ دیکھنے کیلیے خصوصی انتظامات کیے، عوام نے اپنے روزمرہ کے معمولات زندگی کو پس پشت ڈال دیا، لاہور کے باسی کھانے پینے میں مشہور اور تعطیل کے روز سری پائے ، حلوہ پوری ،حریسے سمیت دیگر پکوانوں سے ناشتے کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن گذشتہ روز زندہ دلان لاہور نے گھروں میں بیٹھ کر میچ دیکھنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے دکاندار ناشتے کی خریداری کیلیے آنے والوں کے منتظر دکھائی دیے۔
شہر بھر کی تمام تفریح گاہیں خالی نظر آئیں، تجارتی مراکز، ہفتہ وار سستے بازار اور سڑکیں ویران رہے، لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں بڑی اسکرینیں نصب کی گئیں، پاکستان کی کامیابی کیلیے ملک بھر میں لوگوں نے دعائیں اور منتیں مانگیں تاہم قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے اپنے روایتی کھیل کا مظاہرہ کرکے ایک بار پھر قوم کو مایوس کردیا۔ ورلڈ کپ مقابلوں میں مسلسل چھٹی شکست کی وجہ سے تماشائی قومی کرکٹرز سے خاصے نالاں ہیں اور انھوں نے شکست کی وجہ ٹیم مینجمنٹ کے غلط فیصلوں اور بیٹسمینوں کی جلد بازی میں وکٹیں گنوانے کو قرار دیا ہے۔
شائقین کا کہنا ہے کھلاڑیوں نے ایک بار پھر ناقص کھیل کا مظاہرہ کر کے ہمارے دل توڑ دیے ہیں، ہم نے اس آس کے ساتھ رات جاگ کر گزاری کہ اس بار گرین شرٹس بھارت کو ہرا کر تاریخ بدل دیں گے لیکن پاکستانی کھلاڑیوں نے جلد بازی میں اپنی وکٹیں گنوائیں۔شائقین کے مطابق سرفراز احمد کی صورت میں ریگولر وکٹ کیپر موجود تھا تو عمر اکمل کو گلوز کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی جبکہ یونس خان نے ماضی میں کبھی اوپننگ نہیں کی ، اس بار انھیں اوپنر بجھوا کر غلط فیصلہ کیا گیا ، ناراض شائقین کا کہنا تھا کہ ہمارا ورلڈ کپ بھارت کے خلاف میچ سے تھا، اب پاکستان اگلے میچ میں ویسٹ انڈیز کو ہرا بھی دیتا ہے تو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔