کوہلی پاکستان کیخلاف ورلڈ کپ میں سنچری اسکور کرنے والے پہلے بھارتی کھلاڑی بن گئے
بھارتی اسپنر روی چندرن ایشون 36 برس بعد 3 اوورز میڈن کرانے میں کامیاب
سہیل خان نے 55 رنز کے عوض 5 وکٹیں لیں۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
ویرات کوہلی پاکستان کیخلاف ورلڈ کپ میں سنچری اسکور کرنے والے پہلے بھارتی کھلاڑی بن گئے، اس سے قبل باہمی مقابلوں میں یہ منفرد اعزاز سابق پاکستانی اوپنر سعید انور کو حاصل تھا۔
انھوں نے 2003 کے میگاایونٹ میں سنچورین کے مقام پر 101 کی اننگز کھیلی تھی، ویرات کی یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں 22 ویں سنچری شمار ہوئی، کوہلی نے 107 رنز بنائے، اس سے قبل پاکستان کے خلاف ورلڈ کپ میں سب سے بڑی انفرادی اننگز کا ریکارڈ سچن ٹنڈولکر کے پاس تھا، انھوں نے 2003 میں سنچورین میں 98 رنز بنائے تھے، کوہلی نے151 اننگز میں 22 سنچریاں اسکور کیں، اس سے قبل سچن ٹنڈولکر نے 213 اننگز میں اتنی سنچریاں بنائی تھیں۔
سہیل خان نے 55 رنز کے عوض 5 وکٹیں لیں۔ یہ کسی بھی پاکستانی بولر کی جانب سے ورلڈ کپ میں پانچ یا اس سے زائد وکٹیں لینے کا ساتواں موقع ہے۔ وہ اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میچ میں یہ کارنامہ انجام دینے والے پاکستان کے پہلے اور مجموعی طور پر نویں بولر ہیں۔ سہیل کی ایوریج 11 رہی جبکہ باقی بولرز نے صرف ایک وکٹ کے بدلے مل کر 243 رنز دیئے۔
اس میچ سے قبل بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف ورلڈ کپ میں صرف ایک سنچری شراکت ہوئی تھی مگر اتوار کو دو سنچری شراکتیں ہوئیں۔ شیکھر دھون اور ویرات کوہلی نے دوسری وکٹ کیلیے 129 رنز بناکر ٹنڈولکر اور کیف کا سنچورین میں بنائی گئی 102 کی شراکت کا ریکارڈ توڑا، اس کے بعد کوہلی نے رائنا کے ساتھ تیسری وکٹ کیلیے 110 رنز کی ساجھے داری بنائی، یہ تیسرا موقع ہے جب بھارت کی جانب سے ایک ورلڈ کپ میچ میں دو سنچری شراکتیں ہوئیں، اس سے قبل جنوبی افریقہ کیخلاف 2011 اور 2007 میں برمودا سے میچ میں ایسا ہوچکا۔
اس سے قبل پاکستان نے ورلڈ کپ میں صرف دو مرتبہ 300 یا اس سے زائد رنز دیے، آخری مرتبہ ایسا نیوزی لینڈ کے خلاف 2011 میں ہوا تھا، سب سے زیادہ 310 رنز 2003 میں آسٹریلیا کو دیے تھے۔ 1979 میں آخری مرتبہ ایک بھارتی اسپنر ایس وینکٹ رگھوان نے ورلڈ کپ میں تین میڈن اوورز کرائے تھے، اب ایشون نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔
انھوں نے 2003 کے میگاایونٹ میں سنچورین کے مقام پر 101 کی اننگز کھیلی تھی، ویرات کی یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں 22 ویں سنچری شمار ہوئی، کوہلی نے 107 رنز بنائے، اس سے قبل پاکستان کے خلاف ورلڈ کپ میں سب سے بڑی انفرادی اننگز کا ریکارڈ سچن ٹنڈولکر کے پاس تھا، انھوں نے 2003 میں سنچورین میں 98 رنز بنائے تھے، کوہلی نے151 اننگز میں 22 سنچریاں اسکور کیں، اس سے قبل سچن ٹنڈولکر نے 213 اننگز میں اتنی سنچریاں بنائی تھیں۔
سہیل خان نے 55 رنز کے عوض 5 وکٹیں لیں۔ یہ کسی بھی پاکستانی بولر کی جانب سے ورلڈ کپ میں پانچ یا اس سے زائد وکٹیں لینے کا ساتواں موقع ہے۔ وہ اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میچ میں یہ کارنامہ انجام دینے والے پاکستان کے پہلے اور مجموعی طور پر نویں بولر ہیں۔ سہیل کی ایوریج 11 رہی جبکہ باقی بولرز نے صرف ایک وکٹ کے بدلے مل کر 243 رنز دیئے۔
اس میچ سے قبل بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف ورلڈ کپ میں صرف ایک سنچری شراکت ہوئی تھی مگر اتوار کو دو سنچری شراکتیں ہوئیں۔ شیکھر دھون اور ویرات کوہلی نے دوسری وکٹ کیلیے 129 رنز بناکر ٹنڈولکر اور کیف کا سنچورین میں بنائی گئی 102 کی شراکت کا ریکارڈ توڑا، اس کے بعد کوہلی نے رائنا کے ساتھ تیسری وکٹ کیلیے 110 رنز کی ساجھے داری بنائی، یہ تیسرا موقع ہے جب بھارت کی جانب سے ایک ورلڈ کپ میچ میں دو سنچری شراکتیں ہوئیں، اس سے قبل جنوبی افریقہ کیخلاف 2011 اور 2007 میں برمودا سے میچ میں ایسا ہوچکا۔
اس سے قبل پاکستان نے ورلڈ کپ میں صرف دو مرتبہ 300 یا اس سے زائد رنز دیے، آخری مرتبہ ایسا نیوزی لینڈ کے خلاف 2011 میں ہوا تھا، سب سے زیادہ 310 رنز 2003 میں آسٹریلیا کو دیے تھے۔ 1979 میں آخری مرتبہ ایک بھارتی اسپنر ایس وینکٹ رگھوان نے ورلڈ کپ میں تین میڈن اوورز کرائے تھے، اب ایشون نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔