قوم کو حساب کون دے گا

اس میچ میں کئی ایسے ’’اتفاقات‘‘ ہوئے جنھیں دیکھ کر لوگ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ایسا بھارت سے میچ میں ہی کیوں ہوتا ہے؟

skhaliq@express.com.pk

''اس بار تو پاکستان ہی جیتے گا''

میں جب گھر پہنچا تو گرین شرٹ میں ملبوس چھوٹے بھائی نے مجھ سے یہ الفاظ کہے،

کیوں بھئی ٹیم میں ایسی کیا خاص بات ہے، میں نے سوال کیا

بس میرا دل کہہ رہا ہے، ''ہم ہیں پاکستان ہم تو جیتیں گے'' گنگناتے ہوئے بھائی نے جواب دیا

اچھا یہ چپس کے پیکٹس اور اتنی کولڈ ڈرنکس کیوں لائے ہو، میری اس بات پر جواب ملا کہ ''ہم دوستوں نے ساتھ بیٹھ کر میچ سے لطف اندوز ہونے کا پلان بنایا ہے، یہ اہتمام اسی لیے ہے''

یہ صرف ایک گھر کی بات نہیں تھی پاکستان بھر میں ہزاروں افراد نے ایسا کیا،ملک سے باہر جہاں جہاں پاکستانی آباد ہیں وہاں بھی یہی مناظرتھے، پرتھ میں مقیم میرے دوست ذیشان عباسی کئی ساتھیوں کے ہمراہ خاص طور پر میچ دیکھنے ایڈیلیڈ گئے، اپنے حالات میں بہتری کی دعائیں چھوڑ کر لوگوں نے ٹیم کی فتح کیلیے دعا کی، مگر جواب میں گرین شرٹس نے ایک بار پھر ان کا مان توڑ دیا، مجھ جیسے کرکٹ سے منسلک لوگ تو پہلے سے ہی یہ جانتے تھے کہ ایسا ہو گا اس لیے زیادہ غم نہیں مگر عام شائقین جس دکھ سے گذرے اس کا ذمہ دار کون ہے؟


اس میچ میں کئی ایسے ''اتفاقات'' ہوئے جنھیں دیکھ کر لوگ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ایسا بھارت سے میچ میں ہی کیوں ہوتا ہے؟2011ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں سچن ٹنڈولکر کے کئی کیچز ڈراپ ہوئے تو وہ بڑی اننگز کھیل گئے، اب ویرات کوہلی کے ساتھ ایسا ہوا،آسٹریلیا میں4 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں 8 کی اوسط سے 24 رنز بنانے والے کوہلی پاکستان کے سامنے آتے ہی شیر بن گئے اور سنچری داغ دی، عمر اکمل نے اپنے بھائی کامران کی کمی محسوس نہ ہونے دی اور انھیں چانس دیا، اس سے قبل بھی ایک کیچ چھوٹ چکا تھا،اتنے اہم میچ میں ریگولر وکٹ کیپر سرفراز احمد کی جگہ عمر سے وکٹ کیپنگ کس نے کرائی اس کی تحقیقات ہونی چاہیئں۔

کل ہی میں نے اپنے مضمون میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اگر انھوں نے کوہلی کا کیچ چھوڑ دیا تو ٹیم مشکل میں پڑ جائے گی اور ایسا ہی ہوا،لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے چیف سلیکٹر معین خان کو بورڈ نے کس لیے آسٹریلیا بھیجا؟ناصر جمشید کو کھلانا نہیں تھا تو اتنی دور سے کیوں بلایا؟جب سرفراز کو بطور تیسرا اوپنر منتخب کیا گیا تھا تو یونس کہاں سے آ گئے؟ ایک کھلاڑی جس سے بالکل رنز نہیں ہو رہے وہ نئی گیند کے سامنے کیا کرے گا؟

یہ کسی نے کیوں نہ سوچا، اپنے ہم زلف کے بھارتی ہوٹل میں کھلاڑیوں کو کھلانے پلانے والے وقار یونس نے کیا حکمت عملی بنائی؟ اگر ٹیم کو ہارنا ہی تھا تو وہ کس بات کے14لاکھ روپے لے رہے ہیں، ان کے آنے سے پیس اٹیک نے کیا کارنامہ انجام دے دیا؟اگر 300رنز ہی بننے تھے تو سہیل خان کی 5 وکٹوں کا کیا قوم اچار ڈالے، عرفان کو ہمیں کیا باسکٹ بال کھلانی ہے جو لمبے قد کے قصیدے پڑھتے رہے اور وہ میچ میں5اوورز بعد ہی ان فٹ نظر آئے،احمد شہزاد نے کوہلی کی نقالی کا کبھی کوئی موقع نہیں چھوڑا، کاش بیٹنگ میں بھی ان کی طرح سنچری بناتے، جہاں 6 اسپیشلسٹ بیٹسمین نہیں چلے وہاں ساتواں کیا کر سکتا تھا، ایک بولر کم کھلا کر حارث سہیل پر انحصار کا فیصلہ بھی مہنگا ثابت ہوا۔

یونس خان زبردستی ٹیم میں آئے اب بالکل فلاپ ہیں اب ان کے حمایتی کیا کہیں گے؟ عمر اکمل کاش اپنے ڈراپ کیچ کا بیٹنگ میں ہی ازالہ کر دیتے، صہیب کو بھی نجانے واپسی کی کیا جلدی لگی ہوئی تھی، مصباح کے ساتھ تو اکثر یہی ہوتا ہے کہ وہ بڑی اننگز کھیلیں اور ٹیم ہار جاتی ہے، کاش وہ جاویدمیانداد کی طرح جتوا کر واپس آیا کرتے، ٹیم کے ساتھ 12رکنی مینجمنٹ بھی گئی ہے، ہر شعبے کا الگ کوچ ہے، یہ سب ڈیلی الاؤنس لینے کے سوا کیا کر رہے ہیں؟ کیا کسی میں اتنی شرم ہے کہ بھارت سے بدترین شکست کے بعد عہدہ چھوڑ دے؟

چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے یونس کو ٹیم میں شامل کرایا،معین خان کو بطور چیف سلیکٹر ورلڈکپ میں بھیج کر نئی مثال قائم کی، اب شکست کی ذمہ داری بھی قبول کریں، جیتنے پر کریڈٹ لینے سب آ جاتے ہیں اب کیوں خاموش ہیں؟ تقریباً 3ماہ آسٹریلیا میں قیام کے دوران بھارتی ٹیم نے پہلا انٹرنیشنل میچ جیتا، پاکستان نے آؤٹ آف فارم کھلاڑیوں کو فارم میں لانے اور غیرمعروف پلیئرز کو اسٹارز بنانے کی روایت بھی برقرار رکھی، محمد شامی نے گذشتہ 4 میچز میں 2 وکٹیں لی تھیں اب ایک میں ہی 4 پلیئرز کو ٹھکانے لگا دیا، سریش رائنا گذشتہ ایونٹ میں 53 اور شیکھر دھون 49 رنز ہی بنا سکے تھے، اب ایک ہی اننگز میں اس سے زیادہ اسکور کر دیا، یہ سب کچھ کیسے ہوا؟

اب کمزور ٹیموں کو ہرا کر کہا جائے گا کہ ٹیم فتوحات کی راہ پر گامزن ہو گی اور اس شکست کا حساب کون دے گا؟ دکھ ہارنے کا نہیں لیکن جس انداز سے ٹیم نے ہتھیار ڈالے اسے دیکھ کر یہ بات دل میں آتی ہے کہ ہم سے اچھی تو زمبابوین سائیڈ تھی جس نے جنوبی افریقہ کو ٹف ٹائم تو دیا، قوم بھی اب دن میں خواب دیکھنا چھوڑ دے، اس ٹیم میں جتنا دم خم تھا وہ نظر آ گیا، اب کہیں یہ سوچ کر اپنے دل تو تسلی نہ دینے لگے گا کہ 1992میں بھی تو بھارت سے ہارے مگر پھر چیمپئن بنے کیونکہ اب وہ زمانہ نہ پہلے جیسے پلیئرز موجود ہیں۔
Load Next Story