دہشت گردی پر مزید فوکس کرنے کی ضرورت
بلاشبہ ملکی سالمیت ، جمہوری نظام اور معیشت کے استحکام کے لیے منی پاکستان کو امن کی ضرورت ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ عسکری و سیاسی قیادت کا کراچی ایپکس اجلاس نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور فوکس دہشت گردی کا دی اینڈ ہی ہونا چاہیے، فوٹو : فائل
KARACHI:
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں، ہمیں یہ جنگ مشترکہ طور پر جیتنی ہے، ملکی سلامتی کا انحصار قومی ایکشن پلان پر ہے جو کسی حکومت یا سیاسی جماعت کا نہیں پوری قوم کا ہے۔ یہ بات انھوں نے پیر کو کراچی میں آمد کے بعد مختلف بریفنگز ، سندھ و کراچی کی سیاسی صورتحال پر بحث اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے گورنر ہاؤس میں منعقدہ صوبائی ایپکس کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔
اجلاس میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، سابق صدرآصف علی زرداری ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر سمیت سینئر پولیس اور سول حکام نے شرکت کی ۔
آرمی چیف جنرل راحیل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک باتیں کیں، ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن کی بحالی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، مستقل امن کے لیے انھوں نے سیاسی رہنماؤں سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ، جب کہ افغان مہاجرین اور دیگر تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، کراچی کے حساس علاقوں میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے ساتھ ساتھ نئی حکمت عملی کے تحت کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے اس معروضی استدلال پر غور ہونا چاہیے کہ پولیس کو با اختیار بنا کر سیاسی چھتری تلے سے نکالا جائے، اور تقرر و تبادلوں میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہ کی جائے۔
بلاشبہ ملکی سالمیت ، جمہوری نظام اور معیشت کے استحکام کے لیے منی پاکستان کو امن کی ضرورت ہے، اور ملک کے اقتصادی مرکز کو لاحق خطرات اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عمل ہوجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گردی کی دیوار نہ گرے اور آخری دہشت گرد اپنے اپنے انجام کو نہ پہنچے ۔ قبل ازیں وزیراعظم نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہفتے کو فائرنگ سے زخمی ہونے والے شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر شاہد نواز ملک کے علاج کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اسلام آباد کے اہم اور حساس مقامات بالخصوص اسکولوں اور اسپتالوں کی سیکیورٹی سخت کریں ۔
وزیراعظم کی کراچی میں اس سے قبل بھی مسلسل آمد اس بات کا واضح عندیہ ہے کہ دہشت گردی قوم کے لیے ناقابل قبول ہے، اور اس عفریت سے پاکستان کو پاک کرنے کے لیے مکمل یکسوئی اور سنجیدگی کے ساتھ عسکری اور سیاسی قیادت عوامی امنگوں کی ترجمانی کررہی ہے اور قومی ایکشن پلان کی روشنی میں ٹھوس اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ تاہم زمینی حقائق کا تقاضہ ہے کہ کراچی سمیت اندرون سندھ اور بلوچستان پر مزید فوکس کیا جائے اور وہاں انتہا پسند عناصر صورتحال کو ایک نیا اندوہ ناک رخ دینے کی جن گھناؤنی حکمت عملی اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہیں انھیں کیفر کردار تک پہنچانا شرط ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے کالعدم تنظیموں کی کارروائیاں روکنے، کراچی پولیس کی کمزور کارکردگی پر جو سوال اٹھائے ہیں وہ بھی انتہائی اہم ہیں، وزیراعظم کا یہ کہنا کہ کراچی میں شر پسند فعال جب کہ کراچی پولیس غیرفعال ہے ، اپنے پیغام کے حوالہ سے چشم کشا ہے۔
تاہم کراچی پولیس کی حوصلہ مندی کے کلی استرداد کے بجائے آیندہ حکمت عملی کے تحت فورسزکو مشترکہ کارروائی کے لیے مزید فری ہینڈ دیا جائے۔ وزیراعظم نے بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں مزدوروں کے جلنے کو دلخراش سانحہ قرار دیتے ہوئے اس کے اصل ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا جو عزم ، اور چالان تاخیر سے پیش کرنے پر جس برہمی کا اظہار کیا ہے اسے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ بلاشبہ کوئٹہ میں فورسز کی کارروائی بلاشبہ قابل تعریف رہی ، گزشتہ روز کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے اہم کمانڈر اور سانحہ شکار پور کے ماسٹر مایند عثمان عرف سیف اللہ ساتھی سمیت ہلاک کردیا گیا، جب کہ 2 دہشتگرد زخمی حالت میں گرفتار کرلیے گئے ، انٹیلی جنس ذرایع کے مطابق عثمان عرف سیف اللہ ہزارہ برادری کی ٹارکٹ کلنگ میں ملوث تھا ، اس کے رابطے القاعدہ اور افغان طالبان سے بھی تھے ۔
دہشت گردی کی ایک واردات اوچ کے علاقے میں ہوئی جس میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگیا ،نصیرآباد کے علاقے نوتال میں نامعلوم تخریب کاروںنے دھماکا خیز مواد سے 220کے وی ہائی ٹرانسمیشن لائن کے دو ٹاورز کو تباہ کردیا جس سے اوچ پاور سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 20سے زائد اضلاع کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ۔ ادھر نصیر آباد کے علاقے میں بجلی کے کھمبوں کو اڑانے کی ذمے داری کالعدم تنظیم بلوچ ری پبلیکن آرمی نے قبول کی ہے۔ ان وارداتوں سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی فروسز کا مزید حساس علاقوں میں تعینات کیا جانا چاہیے، اور غیر ملک ہاتھ کو بلوچستان سے نکال باہر کرنے کے لیے ایکشن پلان پر عملدرآمد کو صد فی صد یقینی بنایا جائے۔ حکام سندھ کے اندرونی شہروں اور اور خاص طور پر شکارپور، سکھر اور خیرپور میں امن کی بحالی اور فرقہ وارانہ عناصر کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کریں۔
یہ بات ان سطروں میں پہلے بھی کہی جاچکی ہے کہ دہشت گرد مذہبی فرقہ وارانہ فتنہ سامانی کے نئے اہداف کی تلاش میں امن و محبت کی دھرتی سندھ میں انارکی پھیلا رہے ہیں، چنانچہ شکار پور سانحہ کے فال آؤٹ پر نظر رکھی جائے، متاثرین کے غموں کا ازالہ ہونا چاہیے،ان اطلاعات کا نوٹس لیا جائے کہ سانحہ شکارپور میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار نہ کرنے اور شکارپور کو فوج کے حوالے نہ کرنے کے خلاف شہدا کمیٹی کی جانب سے احتجاج جاری ہے اور مظاہرین نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی کے باہر دھرنا دینے کے لیے لانگ مارچ کا آغاز کردیا، جو17 فروری کو کراچی پہنچ کر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینا چاہتے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ عسکری و سیاسی قیادت کا کراچی ایپکس اجلاس نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور فوکس دہشت گردی کا دی اینڈ ہی ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں، ہمیں یہ جنگ مشترکہ طور پر جیتنی ہے، ملکی سلامتی کا انحصار قومی ایکشن پلان پر ہے جو کسی حکومت یا سیاسی جماعت کا نہیں پوری قوم کا ہے۔ یہ بات انھوں نے پیر کو کراچی میں آمد کے بعد مختلف بریفنگز ، سندھ و کراچی کی سیاسی صورتحال پر بحث اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے گورنر ہاؤس میں منعقدہ صوبائی ایپکس کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔
اجلاس میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، سابق صدرآصف علی زرداری ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر سمیت سینئر پولیس اور سول حکام نے شرکت کی ۔
آرمی چیف جنرل راحیل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک باتیں کیں، ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن کی بحالی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، مستقل امن کے لیے انھوں نے سیاسی رہنماؤں سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ، جب کہ افغان مہاجرین اور دیگر تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، کراچی کے حساس علاقوں میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے ساتھ ساتھ نئی حکمت عملی کے تحت کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے اس معروضی استدلال پر غور ہونا چاہیے کہ پولیس کو با اختیار بنا کر سیاسی چھتری تلے سے نکالا جائے، اور تقرر و تبادلوں میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہ کی جائے۔
بلاشبہ ملکی سالمیت ، جمہوری نظام اور معیشت کے استحکام کے لیے منی پاکستان کو امن کی ضرورت ہے، اور ملک کے اقتصادی مرکز کو لاحق خطرات اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عمل ہوجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گردی کی دیوار نہ گرے اور آخری دہشت گرد اپنے اپنے انجام کو نہ پہنچے ۔ قبل ازیں وزیراعظم نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہفتے کو فائرنگ سے زخمی ہونے والے شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر شاہد نواز ملک کے علاج کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اسلام آباد کے اہم اور حساس مقامات بالخصوص اسکولوں اور اسپتالوں کی سیکیورٹی سخت کریں ۔
وزیراعظم کی کراچی میں اس سے قبل بھی مسلسل آمد اس بات کا واضح عندیہ ہے کہ دہشت گردی قوم کے لیے ناقابل قبول ہے، اور اس عفریت سے پاکستان کو پاک کرنے کے لیے مکمل یکسوئی اور سنجیدگی کے ساتھ عسکری اور سیاسی قیادت عوامی امنگوں کی ترجمانی کررہی ہے اور قومی ایکشن پلان کی روشنی میں ٹھوس اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ تاہم زمینی حقائق کا تقاضہ ہے کہ کراچی سمیت اندرون سندھ اور بلوچستان پر مزید فوکس کیا جائے اور وہاں انتہا پسند عناصر صورتحال کو ایک نیا اندوہ ناک رخ دینے کی جن گھناؤنی حکمت عملی اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہیں انھیں کیفر کردار تک پہنچانا شرط ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے کالعدم تنظیموں کی کارروائیاں روکنے، کراچی پولیس کی کمزور کارکردگی پر جو سوال اٹھائے ہیں وہ بھی انتہائی اہم ہیں، وزیراعظم کا یہ کہنا کہ کراچی میں شر پسند فعال جب کہ کراچی پولیس غیرفعال ہے ، اپنے پیغام کے حوالہ سے چشم کشا ہے۔
تاہم کراچی پولیس کی حوصلہ مندی کے کلی استرداد کے بجائے آیندہ حکمت عملی کے تحت فورسزکو مشترکہ کارروائی کے لیے مزید فری ہینڈ دیا جائے۔ وزیراعظم نے بلدیہ گارمنٹس فیکٹری میں مزدوروں کے جلنے کو دلخراش سانحہ قرار دیتے ہوئے اس کے اصل ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا جو عزم ، اور چالان تاخیر سے پیش کرنے پر جس برہمی کا اظہار کیا ہے اسے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ بلاشبہ کوئٹہ میں فورسز کی کارروائی بلاشبہ قابل تعریف رہی ، گزشتہ روز کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے اہم کمانڈر اور سانحہ شکار پور کے ماسٹر مایند عثمان عرف سیف اللہ ساتھی سمیت ہلاک کردیا گیا، جب کہ 2 دہشتگرد زخمی حالت میں گرفتار کرلیے گئے ، انٹیلی جنس ذرایع کے مطابق عثمان عرف سیف اللہ ہزارہ برادری کی ٹارکٹ کلنگ میں ملوث تھا ، اس کے رابطے القاعدہ اور افغان طالبان سے بھی تھے ۔
دہشت گردی کی ایک واردات اوچ کے علاقے میں ہوئی جس میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگیا ،نصیرآباد کے علاقے نوتال میں نامعلوم تخریب کاروںنے دھماکا خیز مواد سے 220کے وی ہائی ٹرانسمیشن لائن کے دو ٹاورز کو تباہ کردیا جس سے اوچ پاور سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 20سے زائد اضلاع کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ۔ ادھر نصیر آباد کے علاقے میں بجلی کے کھمبوں کو اڑانے کی ذمے داری کالعدم تنظیم بلوچ ری پبلیکن آرمی نے قبول کی ہے۔ ان وارداتوں سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی فروسز کا مزید حساس علاقوں میں تعینات کیا جانا چاہیے، اور غیر ملک ہاتھ کو بلوچستان سے نکال باہر کرنے کے لیے ایکشن پلان پر عملدرآمد کو صد فی صد یقینی بنایا جائے۔ حکام سندھ کے اندرونی شہروں اور اور خاص طور پر شکارپور، سکھر اور خیرپور میں امن کی بحالی اور فرقہ وارانہ عناصر کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ کریں۔
یہ بات ان سطروں میں پہلے بھی کہی جاچکی ہے کہ دہشت گرد مذہبی فرقہ وارانہ فتنہ سامانی کے نئے اہداف کی تلاش میں امن و محبت کی دھرتی سندھ میں انارکی پھیلا رہے ہیں، چنانچہ شکار پور سانحہ کے فال آؤٹ پر نظر رکھی جائے، متاثرین کے غموں کا ازالہ ہونا چاہیے،ان اطلاعات کا نوٹس لیا جائے کہ سانحہ شکارپور میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار نہ کرنے اور شکارپور کو فوج کے حوالے نہ کرنے کے خلاف شہدا کمیٹی کی جانب سے احتجاج جاری ہے اور مظاہرین نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی کے باہر دھرنا دینے کے لیے لانگ مارچ کا آغاز کردیا، جو17 فروری کو کراچی پہنچ کر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینا چاہتے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ عسکری و سیاسی قیادت کا کراچی ایپکس اجلاس نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور فوکس دہشت گردی کا دی اینڈ ہی ہونا چاہیے۔