سیاست میں اخلاقیات کا فقدان
جاوید ہاشمی نے ہمیشہ نواز شریف اور ان کی سیاست کا بھرپور دفاع...
محمد سعید آرائیں
تحریکِ انصاف کے صدر اور سابق مسلم لیگی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے سابق سیاسی قائد میاں نواز شریف کے متعلق کہا ہے کہ وہ سیاست دان کم اور تاجر زیادہ ہیں جب کہ عمران خان اب کھلاڑی نہیں بلکہ تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ جاوید ہاشمی نے اپنی سیاسی زندگی کا بڑا اور اہم حصّہ نواز شریف کی قیادت میں ہونے والی سیاست میں گزارا وہ مسلم لیگ میں وزیر بھی رہے اور انھوں نے نواز شریف کی جلاوطنی یا جلاوطن کردیے جانے کے بعد جنرل پرویز مشرف کی آمریت میں سزائے قید کے دوران اذیت برداشت کی اور مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام سربراہ بھی رہے اور ہمیشہ نواز شریف اور ان کی سیاست کا بھرپور دفاع کیا اور اپنے سیاسی قائد سے وفاداری نبھائی۔
اس وفاداری کا انھیں کیا صلہ ملا یا وہ کیا چاہتے تھے جو انھیں نہیں ملا، مگر یہ حقیقت ہے کہ انھیں ان کی سیاست کے باعث ہر جگہ احترام سے دیکھا جاتا تھا اور انھیں نواز شریف سے یقینی طور پرکوئی تکلیف اور انتہائی دکھ پہنچا ہوگا کہ انھوں نے مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔ نواز شریف انھیں روکنے خود تو نہیں آئے مگر انھوں نے اپنی اہلیہ کو انھیں منانے ضرور بھیجا مگر شاید جاوید ہاشمی اتنے مایوس تھے کہ انھوں نے بات نہیں مانی۔ (ن) لیگ میں رہنا یا نہ رہنا جاوید ہاشمی کا حق تھا جو انھوں نے استعمال کرکے عمران خان کو اپنا نیا سیاسی قائد بنالیا مگر اب وہ اپنے سابق قائد کے خلاف جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں اور الزامات لگارہے ہیں، بہت سے لوگوں کو ایسی سیاست کی جاوید ہاشمی سے توقع نہیں تھی اور لوگ سمجھتے تھے کہ سیاست جیسی بھی سہی جاوید ہاشمی کو اپنی نئی سیاست میں شائستگی و اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ ہماری سیاست میں بلاشبہ اخلاقیات کا فقدان ہے اور یہ فقدان بڑھتا جارہا ہے۔ اس فقدان میں دوسرے اور تیسرے نمبر کے سیاست دان ہی نہیں بلکہ صفِ اوّل کے سیاست دان بھی شامل ہیں۔
آج نواز شریف، آصف علی زرداری، چوہدری برادران کو ایک دوسرے سے سخت شکایات ہیں۔ نواز شریف کے ساتھ مل کر سیاست کرنے والوں خاص طور پر عمران خان اور جماعت اسلامی کو نواز شریف سے زبان کا پابند اور اپنے موقف پر برقرار نہ رہنے کی شکایتیں ہیں جو سب جائز بھی ہوسکتی ہیں۔ ایسی شکایات کا ذکر ہر فریق کی طرف سے آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ جن چوہدری برادران سے آج کل نواز شریف بہت زیادہ خفا ہیں، ان ہی چوہدریوں نے کبھی گجرات میں نواز شریف کا ایسا فقید المثال استقبال کرایا تھا کہ نواز شریف کی گاڑی لوگوں نے اپنے کندھوں پر اٹھالی تھی۔ یہ وہی چوہدری شجاعت اور شیخ رشید ہیں کہ جن کے بغیر نواز شریف رہ نہیں سکتے تھے۔ 1989ء میں نواز شریف کراچی میں ایم کیو ایم کے جلسے میں ان دونوں کے ہمراہ شریک ہونے کے بعد اگلے روز میرے آبائی شہر شکارپور آئے تھے۔
اور دونوں کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کرکے نواز شریف نے ہم صحافیوں سے گفتگو کی تھی اور ہم سے لاہور آنے پر ملاقات کا وعدہ کیا تھا۔ جب نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو ہمیں لاہور میں اس وقت کے سیکریٹری اطلاعات پنجاب نے بتایا تھا کہ میاں صاحب اپنے ارکان اسمبلی کو ملاقات کے لیے ایک ماہ میں بہ مشکل دو منٹ دیتے ہیں اور ایک غیر ملکی صحافی ان سے ملاقات کے لیے ایک ہفتے سے انتظار کررہی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب نواز شریف سیاست دان سے زیادہ تاجر ہی لگتے تھے اور بعد میں انھیں مرحوم پیر پگارا نے کسی حد تک سیاست دان بننے پر مجبور کردیا تھا۔
نواز شریف نے کبھی نہیں سوچا کہ چوہدری برادران جنرل پرویز مشرف سے اور جاوید ہاشمی عمران خان سے کیوں ملنے پر مجبور ہوئے۔ یہ سیاسی اخلاقیات کا تقاضا تھا کہ وہ ایسا سوچتے۔ سیاسی دکھ سکھ میں ساتھ نبھانے والے اخلاقیات سے عاری نہیں ہوجاتے۔ کہتے ہیں سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا اور سیاست بے حس ہوتی ہے۔ اخلاقی برتری میں جنرل ضیاء الحق کو سب سے اچھا کہا جاتا ہے جب کہ جنرل پرویز کا اخلاق یہ تھا کہ انھوں نے ملک کی دو قد آور اور قابل احترام سیاسی شخصیات نواب زادہ نصر اﷲ خان اور مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات پر اظہارِ تعزیت تک نہیں کی تھی کیونکہ دونوں ان کے مخالف تھے جب کہ جنرل پرویز، خان ولی خان کی وفات پر ولی باغ چارسدہ تعزیت کرنے پہنچ گئے تھے کیونکہ ولی خان ان کے شدید مخالف نہیں رہے تھے۔
سابق فوجی صدر اور سقوطِ ڈھاکا کے ذمے دار جنرل یحییٰ کو فوج نے فوجی اعزاز سے دفنایا، مگر جنرل ایوب خان کی وفات پر ان کے بہت قریب رہنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے سابق صدر کے جنازے میں شرکت گوارا نہ کی تھی۔ حال ہی میں سابق صدر فاروق لغاری کے انتقال پر صدر آصف زرداری نے دِکھاوے کے لیے بھی تعزیت کا اظہار نہیں کیا کیونکہ مرحوم لغاری نے بے نظیر حکومت برطرف کی تھی۔ زندگیوں میں نہ سہی مگر مرنے پر پھر بھی یہ شکر ہے کہ ہماری سیاست میں ابھی تک کچھ اخلاق باقی ہے، اسی لیے نواز شریف چوہدری شجاعت کی والدہ کے انتقال پر ان کی لاہور کی رہایش گاہ چلے گئے تھے جب کہ حال ہی میں ایک تقریب میں نواز شریف اور عمران خان نے موجود ہوتے ہوئے آپس میں ہاتھ ملانا بھی ضروری نہیں سمجھا جب کہ شاہ محمود قریشی نواز شریف سے ملے مگر جاوید ہاشمی کو یہ بھی توفیق نہیں ہوئی۔
نواب اکبر بگٹی جنرل پرویز کے نزدیک غدّار سہی مگر محب وطن رہنما تھے، جن کے قتل کے بعد سے بلوچستان لہو لہو ہے۔ اکبر بگٹی کے قتل پر چوہدری شجاعت کا کردار افسوس ناک تھا مگر وہ اقتدار کے لیے جنرل پرویز کے ساتھ رہے اور آج وہ (ق) لیگ کو قاتل لیگ کہنے والے آصف زرداری کے ایک اہم حکومتی حلیف ہیں۔ سیاست میں مجبوریاں بھی ہیں اور مصلحتیں بھی مگر کوئی سیاست دان باکردار اور بے داغ نہیں مگر سیاست میں اخلاقیات کا پاس ضرور برقرار رہنا چاہیے اور جن کے ساتھ اچھا وقت گزارا گیا ہو، اسی وقت کے لحاظ میں ایسے بیانات سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ سیاست میں انتقام اور غصّے سے زیادہ شائستگی اور اخلاق ضروری ہے۔
اس وفاداری کا انھیں کیا صلہ ملا یا وہ کیا چاہتے تھے جو انھیں نہیں ملا، مگر یہ حقیقت ہے کہ انھیں ان کی سیاست کے باعث ہر جگہ احترام سے دیکھا جاتا تھا اور انھیں نواز شریف سے یقینی طور پرکوئی تکلیف اور انتہائی دکھ پہنچا ہوگا کہ انھوں نے مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی۔ نواز شریف انھیں روکنے خود تو نہیں آئے مگر انھوں نے اپنی اہلیہ کو انھیں منانے ضرور بھیجا مگر شاید جاوید ہاشمی اتنے مایوس تھے کہ انھوں نے بات نہیں مانی۔ (ن) لیگ میں رہنا یا نہ رہنا جاوید ہاشمی کا حق تھا جو انھوں نے استعمال کرکے عمران خان کو اپنا نیا سیاسی قائد بنالیا مگر اب وہ اپنے سابق قائد کے خلاف جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں اور الزامات لگارہے ہیں، بہت سے لوگوں کو ایسی سیاست کی جاوید ہاشمی سے توقع نہیں تھی اور لوگ سمجھتے تھے کہ سیاست جیسی بھی سہی جاوید ہاشمی کو اپنی نئی سیاست میں شائستگی و اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ ہماری سیاست میں بلاشبہ اخلاقیات کا فقدان ہے اور یہ فقدان بڑھتا جارہا ہے۔ اس فقدان میں دوسرے اور تیسرے نمبر کے سیاست دان ہی نہیں بلکہ صفِ اوّل کے سیاست دان بھی شامل ہیں۔
آج نواز شریف، آصف علی زرداری، چوہدری برادران کو ایک دوسرے سے سخت شکایات ہیں۔ نواز شریف کے ساتھ مل کر سیاست کرنے والوں خاص طور پر عمران خان اور جماعت اسلامی کو نواز شریف سے زبان کا پابند اور اپنے موقف پر برقرار نہ رہنے کی شکایتیں ہیں جو سب جائز بھی ہوسکتی ہیں۔ ایسی شکایات کا ذکر ہر فریق کی طرف سے آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ جن چوہدری برادران سے آج کل نواز شریف بہت زیادہ خفا ہیں، ان ہی چوہدریوں نے کبھی گجرات میں نواز شریف کا ایسا فقید المثال استقبال کرایا تھا کہ نواز شریف کی گاڑی لوگوں نے اپنے کندھوں پر اٹھالی تھی۔ یہ وہی چوہدری شجاعت اور شیخ رشید ہیں کہ جن کے بغیر نواز شریف رہ نہیں سکتے تھے۔ 1989ء میں نواز شریف کراچی میں ایم کیو ایم کے جلسے میں ان دونوں کے ہمراہ شریک ہونے کے بعد اگلے روز میرے آبائی شہر شکارپور آئے تھے۔
اور دونوں کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کرکے نواز شریف نے ہم صحافیوں سے گفتگو کی تھی اور ہم سے لاہور آنے پر ملاقات کا وعدہ کیا تھا۔ جب نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو ہمیں لاہور میں اس وقت کے سیکریٹری اطلاعات پنجاب نے بتایا تھا کہ میاں صاحب اپنے ارکان اسمبلی کو ملاقات کے لیے ایک ماہ میں بہ مشکل دو منٹ دیتے ہیں اور ایک غیر ملکی صحافی ان سے ملاقات کے لیے ایک ہفتے سے انتظار کررہی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب نواز شریف سیاست دان سے زیادہ تاجر ہی لگتے تھے اور بعد میں انھیں مرحوم پیر پگارا نے کسی حد تک سیاست دان بننے پر مجبور کردیا تھا۔
نواز شریف نے کبھی نہیں سوچا کہ چوہدری برادران جنرل پرویز مشرف سے اور جاوید ہاشمی عمران خان سے کیوں ملنے پر مجبور ہوئے۔ یہ سیاسی اخلاقیات کا تقاضا تھا کہ وہ ایسا سوچتے۔ سیاسی دکھ سکھ میں ساتھ نبھانے والے اخلاقیات سے عاری نہیں ہوجاتے۔ کہتے ہیں سیاست کے پہلو میں دل نہیں ہوتا اور سیاست بے حس ہوتی ہے۔ اخلاقی برتری میں جنرل ضیاء الحق کو سب سے اچھا کہا جاتا ہے جب کہ جنرل پرویز کا اخلاق یہ تھا کہ انھوں نے ملک کی دو قد آور اور قابل احترام سیاسی شخصیات نواب زادہ نصر اﷲ خان اور مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات پر اظہارِ تعزیت تک نہیں کی تھی کیونکہ دونوں ان کے مخالف تھے جب کہ جنرل پرویز، خان ولی خان کی وفات پر ولی باغ چارسدہ تعزیت کرنے پہنچ گئے تھے کیونکہ ولی خان ان کے شدید مخالف نہیں رہے تھے۔
سابق فوجی صدر اور سقوطِ ڈھاکا کے ذمے دار جنرل یحییٰ کو فوج نے فوجی اعزاز سے دفنایا، مگر جنرل ایوب خان کی وفات پر ان کے بہت قریب رہنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے سابق صدر کے جنازے میں شرکت گوارا نہ کی تھی۔ حال ہی میں سابق صدر فاروق لغاری کے انتقال پر صدر آصف زرداری نے دِکھاوے کے لیے بھی تعزیت کا اظہار نہیں کیا کیونکہ مرحوم لغاری نے بے نظیر حکومت برطرف کی تھی۔ زندگیوں میں نہ سہی مگر مرنے پر پھر بھی یہ شکر ہے کہ ہماری سیاست میں ابھی تک کچھ اخلاق باقی ہے، اسی لیے نواز شریف چوہدری شجاعت کی والدہ کے انتقال پر ان کی لاہور کی رہایش گاہ چلے گئے تھے جب کہ حال ہی میں ایک تقریب میں نواز شریف اور عمران خان نے موجود ہوتے ہوئے آپس میں ہاتھ ملانا بھی ضروری نہیں سمجھا جب کہ شاہ محمود قریشی نواز شریف سے ملے مگر جاوید ہاشمی کو یہ بھی توفیق نہیں ہوئی۔
نواب اکبر بگٹی جنرل پرویز کے نزدیک غدّار سہی مگر محب وطن رہنما تھے، جن کے قتل کے بعد سے بلوچستان لہو لہو ہے۔ اکبر بگٹی کے قتل پر چوہدری شجاعت کا کردار افسوس ناک تھا مگر وہ اقتدار کے لیے جنرل پرویز کے ساتھ رہے اور آج وہ (ق) لیگ کو قاتل لیگ کہنے والے آصف زرداری کے ایک اہم حکومتی حلیف ہیں۔ سیاست میں مجبوریاں بھی ہیں اور مصلحتیں بھی مگر کوئی سیاست دان باکردار اور بے داغ نہیں مگر سیاست میں اخلاقیات کا پاس ضرور برقرار رہنا چاہیے اور جن کے ساتھ اچھا وقت گزارا گیا ہو، اسی وقت کے لحاظ میں ایسے بیانات سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ سیاست میں انتقام اور غصّے سے زیادہ شائستگی اور اخلاق ضروری ہے۔