کراچی میں امن ایک آزمائش
جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کراچی میں رینجرز آپریشن سے دیرپا امن اور استحکام کی فضا پیدا ہوئی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں امن کے لیے کراچی کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کراچی سے جرائم مافیا کے خاتمے کے لیے سخت سے سخت فیصلے ہونے چاہئیں۔ فوٹو : فائل
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ ملکی ترقی اور معیشت میں کراچی کا بہت بڑا کردار ہے۔ کراچی میں امن کا مطلب پاکستان کی خوشحالی ہے۔ کسی امتیازکے بغیر تمام مجرموں کے خلاف لسانی، سیاسی، مذہبی اور فرقہ وارنہ وابستگی سے بالاتر ہوکر خلوص نیت اور شفافیت کے ساتھ کارروائیاں کرنا ہوں گی ۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کراچی میں رینجرز آپریشن سے دیرپا امن اور استحکام کی فضا پیدا ہوئی ہے۔
قیام امن کے لیے ان اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہے۔ سیاسی مصلحت سے غیر سیاسی نتائج نہیں نکل سکتے۔ جرائم سے غیر سیاسی انداز میں نمٹنا ہوگا ۔ پولیس میں تقرریاں اور تعیناتیاں اپیکس کمیٹی کے ذریعے کی جائیں جب کہ کراچی میں پولیس فورس کو غیر سیاسی اور مؤثر قوت بنانا ہوگا۔ وہ پیر کو وزیراعظم کی زیر صدارت سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔
کراچی کی سیاسی و سماجی صورتحال کا جو تجزیہ جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز پیش کیا ہے وہ منی پاکستان کے درد انگیز اور تلخ حقائق سے متعلق ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اہل وطن ملک کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کی بدحالی ، بد امنی ، بھتہ خوری اور قتل و غارت کا نقشہ دیکھ سکتے ہیں، ایک عسکری سپہ سالار کی حیثیت میں اور وہ بھی ایک منتخب وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کے دوران انھوں نے کراچی کو امن دلانے کی مثبت اور تعمیری کوششوں میں جس حمایت اور اقدامات کا ذکر کیا ہے وہ لائق توجہ ہیں ۔ اب سامنے وہ ناگزیر پیش قدمی ہے جس کے بغیر کراچی سے دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ ، سیاسی و مذہبی کشیدگی اور کشمکش کا خاتمہ ممکن نہیں۔
اس لیے کہ کراچی میں کوئی خود کو محفوط نہیں سمجھتا ، انڈسٹری اور کاروبار دیگر شہروں اور بیرون ملک منتقل ہورہے ہیں، پولیس بے دست و پا بنی ہوئی ہے کیونکہ وہ سیاست دانوں اور وی آئی پیز کے تحفظ پر مامور ہے، مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی سرکوبی کے لیے ظاہر ہے ایک کمیٹڈ ، دباؤ سے آزاد اور پروفیشنل پولیس فورس کی ضرورت ہوتی ہے،تاہم اگر مذکورہ ارشادات کی روشنی میں حکومت سندھ مجوزہ اقدامات کو یقینی بنانا چاہے تو یہی پولیس پانسہ پلٹ سکتی ہے اور رینجرز ، پولیس اور انٹیلی جنس مشترکہ نیٹ ورک منی پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے مشکل ٹاسک کو مکمل کرسکتا ہے۔
اس کے لیے لازم ہے کہ پولیس غیر سیاسی ہو اور سیاسی بھرتیوں ، تقرریوں اور تبادلوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ جنرل راحیل نے کور ہیڈکوارٹر اور سندھ رینجرز کے ہیڈکوارٹر کے دورے میں اس مقصد کو واضح کیا اور کہا کہ کراچی میں امن یقینی بنانے کے لیے آپریشن کی حمایت میں کسی بھی حد تک جائیں گے۔ یہ محض انتباہ نہیں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا عہد نامہ ہے۔ ادھر آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے ٹویٹر پر بتایا گیا کہ آرمی چیف نے رینجرز، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے کراچی آپریشن میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو سراہا۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے آرمی چیف کو کراچی میں سیکیورٹی کی صورتحال اور آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
کور کمانڈر نوید مختار نے کراچی کی صورتحال اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے وزیراعظم اور آرمی چیف کو بریفنگ دی جب کہ رینجرز ہیڈکوارٹرز کے دورے میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے آرمی چیف کو سیکیورٹی صورتحال اور کراچی آپریشن پر بریفنگ دی۔ یوں عسکری قیادت کا عزم پوری قوم کی امنگوں کی ترجمانی بن گیا ہے اور وزیراعظم نے اس پر صاد کیا ہے، وزیراعظم نے کارروائی تیز کرنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو بھی متحرک رہنے کے لیے کہا اور اب گیند قائم علی شاہ کی کورٹ میں ہے کہ وہ ایکشن لیں، وزیراعظم کی جانب سے آئی جی سندھ کو ہدایت کی گئی کہ بلدیہ سانحہ کے مقدمے کی تفتیش اور چالان کو جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔
سب کو احساس ہے کہ سانحہ بلدیہ ایک سنگین واقعہ ہے، متاثرین انصاف کے منتظر ہیں، اس سانحے میں جو فرد، جماعت یا عناصر ملوث ہوئے، انھیں قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ''اس نے کہا ، میں نے دیکھا'' کی ہرزہ سرائی یا داستان گوئی کے پلڑے میں ڈالنے کے بجائے سوختہ نصیب مزدوروں کے لواحقین کو انصاف دلایا جائے اور اصل ملزمان کوقانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے ۔ یہ سندھ حکومت کے لیے ہی نہیں پورے ملکی نظام عدل کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں امن کے لیے کراچی کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کراچی سے جرائم مافیا کے خاتمے کے لیے سخت سے سخت فیصلے ہونے چاہئیں ۔
اسی ضمن میں چیف سیکریٹری نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ دہشتگردی کے 64مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں گے۔ یہ کارروائی جلد مکمل کی جائے ، دہشت گرد عناصر حکومتی تساہل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں، ایک عقابی نگاہ رکھنے والے انتظامی میکنزم اور سیکیورٹی حکمت عملی کی ضرورت ہے، دہشت گرد بے خوفی سے واردات کرتے ہیں ۔ پیر کو بھی شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ میں عوام کو نظر آنے والے فیصلے کیے جائیں، چاہے وہ ایپکس کمیٹی کی منظوری سے ہوں یا اس کے لیے حکومت سندھ نے جس سیل کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کے مابین شفاف رابطہ اور اتفاق رائے سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ایک اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرنے سانحہ بلدیہ میں پولیس کی جانب سے گواہوں کی فہرست بدلنے پر استعفیٰ دیدیا ہے ، خاتون افسر کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی معاونت پر مامور تھیں جب کہ تفتیشی افسر نے بنیادی معلومات مہیا نہیں کیں، ایسے کئی تکنیکی مسائل اوردشوار مراحل مزید در پیش ہونگے جنہیں عبور کرکے سندھ اور کراچی میں امن کی بحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنایا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر کہا ہے کہ قوم نتائج دیکھنا چاہتی ہے اور کچھ نہیں۔
قیام امن کے لیے ان اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہے۔ سیاسی مصلحت سے غیر سیاسی نتائج نہیں نکل سکتے۔ جرائم سے غیر سیاسی انداز میں نمٹنا ہوگا ۔ پولیس میں تقرریاں اور تعیناتیاں اپیکس کمیٹی کے ذریعے کی جائیں جب کہ کراچی میں پولیس فورس کو غیر سیاسی اور مؤثر قوت بنانا ہوگا۔ وہ پیر کو وزیراعظم کی زیر صدارت سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔
کراچی کی سیاسی و سماجی صورتحال کا جو تجزیہ جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز پیش کیا ہے وہ منی پاکستان کے درد انگیز اور تلخ حقائق سے متعلق ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اہل وطن ملک کے سب سے بڑے شہر اور اقتصادی مرکز کی بدحالی ، بد امنی ، بھتہ خوری اور قتل و غارت کا نقشہ دیکھ سکتے ہیں، ایک عسکری سپہ سالار کی حیثیت میں اور وہ بھی ایک منتخب وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کے دوران انھوں نے کراچی کو امن دلانے کی مثبت اور تعمیری کوششوں میں جس حمایت اور اقدامات کا ذکر کیا ہے وہ لائق توجہ ہیں ۔ اب سامنے وہ ناگزیر پیش قدمی ہے جس کے بغیر کراچی سے دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ ، سیاسی و مذہبی کشیدگی اور کشمکش کا خاتمہ ممکن نہیں۔
اس لیے کہ کراچی میں کوئی خود کو محفوط نہیں سمجھتا ، انڈسٹری اور کاروبار دیگر شہروں اور بیرون ملک منتقل ہورہے ہیں، پولیس بے دست و پا بنی ہوئی ہے کیونکہ وہ سیاست دانوں اور وی آئی پیز کے تحفظ پر مامور ہے، مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی سرکوبی کے لیے ظاہر ہے ایک کمیٹڈ ، دباؤ سے آزاد اور پروفیشنل پولیس فورس کی ضرورت ہوتی ہے،تاہم اگر مذکورہ ارشادات کی روشنی میں حکومت سندھ مجوزہ اقدامات کو یقینی بنانا چاہے تو یہی پولیس پانسہ پلٹ سکتی ہے اور رینجرز ، پولیس اور انٹیلی جنس مشترکہ نیٹ ورک منی پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے مشکل ٹاسک کو مکمل کرسکتا ہے۔
اس کے لیے لازم ہے کہ پولیس غیر سیاسی ہو اور سیاسی بھرتیوں ، تقرریوں اور تبادلوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ جنرل راحیل نے کور ہیڈکوارٹر اور سندھ رینجرز کے ہیڈکوارٹر کے دورے میں اس مقصد کو واضح کیا اور کہا کہ کراچی میں امن یقینی بنانے کے لیے آپریشن کی حمایت میں کسی بھی حد تک جائیں گے۔ یہ محض انتباہ نہیں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا عہد نامہ ہے۔ ادھر آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے ٹویٹر پر بتایا گیا کہ آرمی چیف نے رینجرز، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے کراچی آپریشن میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو سراہا۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے آرمی چیف کو کراچی میں سیکیورٹی کی صورتحال اور آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
کور کمانڈر نوید مختار نے کراچی کی صورتحال اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے وزیراعظم اور آرمی چیف کو بریفنگ دی جب کہ رینجرز ہیڈکوارٹرز کے دورے میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے آرمی چیف کو سیکیورٹی صورتحال اور کراچی آپریشن پر بریفنگ دی۔ یوں عسکری قیادت کا عزم پوری قوم کی امنگوں کی ترجمانی بن گیا ہے اور وزیراعظم نے اس پر صاد کیا ہے، وزیراعظم نے کارروائی تیز کرنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو بھی متحرک رہنے کے لیے کہا اور اب گیند قائم علی شاہ کی کورٹ میں ہے کہ وہ ایکشن لیں، وزیراعظم کی جانب سے آئی جی سندھ کو ہدایت کی گئی کہ بلدیہ سانحہ کے مقدمے کی تفتیش اور چالان کو جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔
سب کو احساس ہے کہ سانحہ بلدیہ ایک سنگین واقعہ ہے، متاثرین انصاف کے منتظر ہیں، اس سانحے میں جو فرد، جماعت یا عناصر ملوث ہوئے، انھیں قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ''اس نے کہا ، میں نے دیکھا'' کی ہرزہ سرائی یا داستان گوئی کے پلڑے میں ڈالنے کے بجائے سوختہ نصیب مزدوروں کے لواحقین کو انصاف دلایا جائے اور اصل ملزمان کوقانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے ۔ یہ سندھ حکومت کے لیے ہی نہیں پورے ملکی نظام عدل کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں امن کے لیے کراچی کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کراچی سے جرائم مافیا کے خاتمے کے لیے سخت سے سخت فیصلے ہونے چاہئیں ۔
اسی ضمن میں چیف سیکریٹری نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ دہشتگردی کے 64مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں گے۔ یہ کارروائی جلد مکمل کی جائے ، دہشت گرد عناصر حکومتی تساہل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں، ایک عقابی نگاہ رکھنے والے انتظامی میکنزم اور سیکیورٹی حکمت عملی کی ضرورت ہے، دہشت گرد بے خوفی سے واردات کرتے ہیں ۔ پیر کو بھی شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ میں عوام کو نظر آنے والے فیصلے کیے جائیں، چاہے وہ ایپکس کمیٹی کی منظوری سے ہوں یا اس کے لیے حکومت سندھ نے جس سیل کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کے مابین شفاف رابطہ اور اتفاق رائے سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ایک اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرنے سانحہ بلدیہ میں پولیس کی جانب سے گواہوں کی فہرست بدلنے پر استعفیٰ دیدیا ہے ، خاتون افسر کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی معاونت پر مامور تھیں جب کہ تفتیشی افسر نے بنیادی معلومات مہیا نہیں کیں، ایسے کئی تکنیکی مسائل اوردشوار مراحل مزید در پیش ہونگے جنہیں عبور کرکے سندھ اور کراچی میں امن کی بحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنایا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر کہا ہے کہ قوم نتائج دیکھنا چاہتی ہے اور کچھ نہیں۔