ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوگلو کا پاکستان دورہ

چین کی طرح ترکی کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا جو پاکستان کے دیرینہ دوست ہیں۔

فوٹو: فائل

KARACHI:
اسلامی ملک ترکی کے وزیراعظم احمد داود اوگلو اپنی کابینہ کے ارکان اوردیگرسینئر حکام پرمشتمل وفد کے ہمراہ دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں موجود ہیں اور ان سطور کی اشاعت تک ان کا دورہ اختتامی مراحل میں ہوگا۔

توقع ہے کہ دورے کے اختتام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان، توانائی، بینکنگ و فنانس، تجارت، ٹرانسپورٹ ،کمیونیکیشن ، تعلیم ٹورازم اور کلچر سمیت دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون و سرمایہ کاری کے معاہدوں و مفاہمت کی یاداشت کے سمجھوتوں پر دستخط بھی ہونگے۔

چین کی طرح ترکی کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا جو پاکستان کے دیرینہ دوست برادر اسلامی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ہر موقع پر ساتھ دینے کے حوالے سے آزمائے ہوئے ہیں ۔ چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے کیلئے پینتالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے نہ صرف معاہدے کئے ہیں بلکہ ان معاہدوں پر عملدرآمد کیلئے فالو اپ اجلاس بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور متعدد منصوبوں کے فنانشل کلوز بھی مکمل ہونے کو ہیں اور ابھی پاکستان کا ایک اعلی سطح کا وفد فالو اپ میٹنگز کیلئے چین میں موجود ہے تو دوسری جانب دوسرے اہم دوست ملک ترکی کے وزیراعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ پاکستان میں موجود ہیں۔

منگل کی صُبح پاکستان آمد پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے نورخان ایئر بیس پر ان کا استقبال کیا۔ ترک وزیراعظم کے وفد میںاہم تجارتی شخصیات بھی شامل ہیں ۔ اگست 2014 میں وزیراعظم بننے کے بعد سے ان کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے، اس سے پہلے وہ ترک وزیرخارجہ کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں ۔ پاکستان پہنچنے کے بعد ترکی کے وزیراعظم نے وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں، ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو کی باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں کیا گیا۔

ترکی کے وزیراعظم منگل کی صبح وزراء اور کاروباری شخصیات پر مشتمل اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پہنچے تو وزیراعظم محمد نواز شریف نے ان کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا۔ مُسلح افواج کے ایک چاق و چوبند دستے نے ترکی کے وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا، اس موقع پر پاکستان اور ترکی کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

ترکی کے وزیراعظم نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا، ترک وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران وزیراعظم محمد نوازشریف کے ہمراہ پاک ترک اسٹرٹیجک کوآپریشن کونسل کے چوتھے اجلاس کی صدارت کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان، ترکی بزنس فورم کے اجلاس کی صدارت کی ہے جبکہ ان کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان طرفہ تعاون و سرمایہ کاری کے حوالے سے چھ ورکنگ گروپس کے اجلاس بھی ہوئے، اس سے پہلے بھی ترکی اور پاکستان کے درمیان مثالی تعاون و تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط و مستحکم ہو رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کے دورہ بھارت کے بعد سے خطے کی سیاسی، سفارتی اور تجارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے جس کی واضح و زندہ مثال لاہور میں میٹرو بس سروس کی کامیابی کے بعد اسلام آباد، راولپنڈی میں میٹرو بس سروس شروع کرنے کا منصوبہ ہے جو اب تکمیل کے ا ٓخری مراحل میں ہے ، یہ منصوبہ بھی کسی شاہکار سے کم نہیں ہے جبکہ پہلے سے ترکی کے نجی شعبہ کے تعاون سے پاکستان میں متوسط طبقے کو رہائشی سہولیات کی فراہمی کیلئے لو کاسٹ ہاوسنگ، توانائی، میونسپل سروسز، ویسٹ مینجمنٹ، پبلک ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، ووکیشنل اینڈ سکل ڈویلپمنٹ سمیت دیگر شعبوں مں اہم پیشرفت ہو رہی ہے۔


تاہم بین الاقوامی امور کے ماہرین امریکی صدر کے دورہ بھارت کو مستقبل میں خطے میں کسی بڑی معرکہ آرائی سے تعبیر کر رہے ہیں اور انہی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر کے نئی دہلی میں دیئے جانے والے بیان کے بعد سے ممالک میں نئی صف بندیاں اور اتحاد کی کوششیں بھی زور پکڑ گئی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اقتصای تعاون کے حوالے سے بھی نئے رشتے و روابط استوار ہو رہے ہیں۔

سرکاری اطلاعات ہیں کہ پچیس فروری سے مالدیپ کے نائب صدر بھی اعلی سطح کے وفد کے ہمراہ دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں اور ان کے دورے کے دوران پاکستان کی جانب سے مالدیپ کو ٹیکس پالیسی کی تیاری، ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور بین الاقوامی ٹیکسیشن میں تعاون کی فراہمی پر بات ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ پر بھی بات ہوگی ۔ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں بھارت کے ملوث ہونے کا پردہ دنیا پر چاک ہونے کے بعد عالمی برادری کے ساتھ ساتھ خود بھارت کو بھی کچھ احساس ہونے لگا ہے کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرکے گزارہ مشکل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ وہ جلد بھارتی سیکرٹری خارجہ کو پاکستان بھجوائیں گے ۔ مطلب یہ مذاکرات کا جو سلسلہ بغیر کسی وجہ کے بدنیتی کی بنیاد پر انڈیا نے مُنقطع کیا اب بحال کرنے کیلئے آغاز بھی خود کرنے پر مجبور ہو رہا ہے مگر پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ مذاکرات ہونگے مگر برابری کی بنیاد پر ہونگے کیونکہ بھارت کو اب یہ معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستان خطے کو مستقل امن و خوشحالی کا تحفہ دینے کیلئے نہ صرف دہشت گردی بلکہ دہشت گردوں کا صفایا کرنے لئے پُرعزم ہے۔

یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھُی نہیں ہے کہ پاکستان کی غیور و بہادر فورج اور پاکستانی قوم جب کسی کام کی ٹھان لیتی ہے تو پھر اسے مکمل کرکے ہی دم لیتی ہے، امریکہ بہادر ہو یا بھارت ہو سوویت یونین کی مثال ان کے سامنے ہے اس لئے اگر کوئی پاکستانی قوم کو انڈر اسٹیمیٹ کرتا ہے تو وہ کسی بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہے کیونکہ امریکی صدر کے دورہ بھارت کے بعد سے اس سے علاقے میں جو نئی سیاست شروع ہوگی اس میں بھی پاکستان ہی کی پوزیشن بھارت سے زیادہ بڑھ جائے گی اس لئے بہتر داخلی اقتصادی حالت یا امریکہ کی آشیر باد کے زعم میں وہ مذاکرات عمل کے امکانی نتائج کو موخر نہ کرے کیونکہ مودی سرکار کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ تمام علاقائی خصوصاً پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تنازعات کو برقرار رکھ کر وہ تنہا ترقی نہیں کرسکتا۔

جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کا استحکام اور خوشحالی ایک دوسرے خصوصاً پاک بھارت مذاکرات کی کامیابی سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت جن سنگین مسائل سے دو چار ہے ان کے ڈانڈے بھی کسی حد تک غیر ملکی اور خصوصاً ہمسایہ ملک بھارت سے جاملتے ہیں۔ پاکستان کو جن سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ان میں دہشت گردی اور توانائی کا بحران سر فہرست ہیں اور دہشت گردی و بدامنی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پاکستان دنیا کے سامنے پیش کرچکا ہے مگر پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی والدہ محترمہ دنیا سے رخصت ہوئیں اور جنرل راحیل شریف نے ملک و قوم سے کمٹمنٹ اور عزم و استقلال اورپروفیشنلزم ازم کی انتہاء کردی کہ والدہ کی وفات کے دو دن بعد کراچی میں امن و امان کے حوالے سے اعلی سطح کے اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچ گئے اور منگل کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترک وزیراعظم سے ملاقات کرنے کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کے ہمراہ کابل پہنچ گئے۔

آرمی چیف کا ڈی جی آئی ایس آئی کے ہمراہ دورہ کابل انتہائی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دہشت گردی کی لعنت اور توانائی بحران یہ دو ایسے مسائل ہیں جس کے منفی اثرات براہ راست ملکی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں اور ملک کی عسکری و سیاسی قیادت ان کے حل کیلئے کوشاں ہے۔ ایک طرف عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پُرعزم ہے تو دوسری جانب سیاسی قیادت توانائی بحران کے خاتمے کیلئے کوشاں ہے، اس کام کی نگرانی براہ راست وزیراعظم نواز شریف خود کر رہے ہیں۔

اگرچہ ان مسائل کے حل کیلئے بہت کچھ کیا جا رہا ہے مگر بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے، اقتصادی سمت کے درست تعین کیلئے موجودہ حکومت کو بارش کا پہلا قطرہ بننا ہوگا اورکاغذوں ، نعروں ، پالیسیوں و سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر عمل کرکے دکھانے کی ضروت ہے جاذب سرمایہ پالیسیوں سے اجتناب کے ساتھ جاذب زمین اور جاذب لیبر پالسیاں اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دونوں وسائل وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

 

Load Next Story