ڈیئر برادر پاک ترک دوستی زندہ باد

پاکستان کی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ترکی کے اقدامات لائق تحسین ہیں

پاکستان کی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ترکی کے اقدامات لائق تحسین ہیں۔ ڈیزائن: جمال خورشید

PESHAWAR:
ترک وزیراعظم احمد داؤد اوگلو کی پاکستان آمد اور تجارتی واقتصادی تعاون بڑھانے کے متعدد معاہدوں پر دستخط کے عمل کو ہم دوستی کا تجدید عہد وفا کہہ سکتے ہیں ۔ پاکستان کو دوسرا گھر قرار دینا بھی چاہت اور اپنائیت کا احساس دلاتا ہے ، کیونکہ پاکستان اور ترکی تاریخی، ثقافتی اور تمدنی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ۔2005 ء میں آنے والے زلزلے کے موقعے پر سب سے زیادہ مالی اورعملی تعاون ترکی نے ہی کیا تھا ۔ترکی نے دہشتگردی کے باعث پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینے میں بھی لازوال کردار ادا کیا ہے۔

ترک وزیراعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم احمد داؤد اوگلو کی اپنے دوسرے گھر پاکستان آمد پر ہمیں خوشی ہوئی ہے، ہم ہر قسم کی دہشت گردی اور اسلامو فوبیا کی مذمت کرتے ہیں۔ ترکی کے وزیراعظم نے فاٹا کے بے گھر افراد کی بحالی، واپسی اور متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے 2 کروڑ ڈالرکی اضافی امداد کا اعلان کیا اور اگلے 2 سال کے دوران دوطرفہ تجارت کاحجم 3 ارب ڈالرتک بڑھانے کی نوید سنائی، ریلوے، شہری ہوا بازی، سمندری اور فضائی رابطے مزید بڑھانے پر بھی زور دیا۔ پاکستان کی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ترکی کے اقدامات لائق تحسین ہیں۔ صدرمملکت ممنون حسین نے بھی پاکستانی قوم کے معزز مہمان کومان دیتے ہوئے ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز''نشان پاکستان''عطا کیا۔


آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ترک وزیراعظم سے خصوصی ملاقات کی۔ اس ضمن میں ایک اورخوش آیند خبر بھی آئی ہے کہ پاکستان اور ترک بحری افواج کے درمیان دوطرفہ بحری مشق کا آغاز ہو رہا ہے جو کہ مشق ہاربر اورسی فیز پر مشتمل ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو فروغ دینا اور پیشہ ورانہ مفاہمت پیدا کرنا ہے۔ پاکستان اورترکی کا دہشتگردی کے خلاف موقف یکساں ہے۔

مغرب کو جو اسلام فوبیا ہوگیا اس کے خاتمے کا عزم کرنا، پاک بھارت تنازعات کا حل، افغانستان سے دہشتگرد گروہوں کے خاتمے اور مسئلہ کشمیر پرحمایت کا اعادہ اس بات کے غماز ہیں کہ ترکی پاکستان کا سچا ،پکا اور وفادار دوست ہے، اسی لیے تو ترک وزیراعظم نے نوازشریف کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران انھیں ڈئیر برادر کہہ کر پکارا اور واضح طور پر پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا۔ پاک ترک دوستی زندہ باد کا نعرہ بلند کیا جو اظہار یکجہتی تھا اپنے دوست ملک اور اس کے عوام کے ساتھ۔
Load Next Story