روس نے پاکستان کے موقف کی حمایت کردی
بہتر حکمت عملی کے تحت پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو وسعت دیتے ہوئے روس کی جانب جھکا ہے
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملے نہ صرف غیر قانونی اور غیر سود مند ہیں بلکہ یہ پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
KARACHI:
روس نے پاکستان پر امریکی ڈرون حملوں کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے ان کو پاکستان کی سالمیت و خود مختاری کے خلاف غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی علاقائی یک جہتی اور خود مختاری کا احترام ضروری ہے۔
امریکا دہشت گردی کی آڑ لے کر پاکستانی علاقوں پر ڈرون حملے کر رہا ہے۔ ان حملوں میں بقول امریکی حکام دہشت گرد ہلاک ہو رہے ہیں۔ اگر اس امریکی موقف کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو اسے اس حقیقت کو بھی ماننا پڑے گا کہ ان حملوں میں بڑی تعداد میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت ہو رہی ہے جس سے ان علاقوں میں نفرت اور انتقام کے جذبات ابھر رہے ہیںجو دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں' جس سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ پاکستان بارہا امریکا سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے مگر وہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی صورت ڈرون حملے بند نہیں کرے گا۔
ڈرون حملوں سے امریکا کو مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے یا نہیں ایک الگ بحث ہے مگر ان حملوں نے پاکستان کے مسائل میں شدید اضافہ کیا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اسلام آباد میں ہونے والی پاک روس وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ڈرون حملے غیر قانونی، نقصان دہ اور پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ خوش آیند بات یہ ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں کے بارے میں حنا ربانی کھر نے جو کچھ کہا وہ اس سے مکمل طور پر متفق ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملے نہ صرف غیر قانونی اور غیر سود مند ہیں بلکہ یہ پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے بڑا حوصلہ افزا امر ہے کہ روس نے ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستانی موقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا یہ موقف اس امر کا عندیہ ہے کہ مستقبل میں پاک روس تعلقات میں بہتری آئے گی۔ سرد جنگ کے دوران پاکستان کے امریکا کی جانب جھکائو کے باعث پاک روس تعلقات میں کبھی گرم جوشی پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ سرد مہری کی چادر میں لپٹے رہے۔
اب ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے لیے چیلنج بن چکے ہیں لہٰذا بہتر حکمت عملی کے تحت پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو وسعت دیتے ہوئے روس کی جانب جھکا ہے۔ روس کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ اس خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ روس اب بھی ایک بڑی قوت ہے اس کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کے لیے بھی افادیت کا باعث ہوں گے۔ اس وقت افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے تسلط کے خلاف وہاں مختلف گروہ برسر پیکار ہیں جس کے باعث وہاں بم دھماکوں کی آوازوں اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ کے باعث امن و امان کی حالت مخدوش ہے۔
افغانستان میں ہونے والی لڑائی کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں اور وہ بھی دہشت گردی کی لہر کی لپیٹ میں آیا ہے جس نے نہ صرف اس کی معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ امن و امان کے بھی سنگین مسائل جنم دیے ہیں۔ روس خود بھی دہشت گردی کے زخم چاٹ رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان' روس' افغانستان اور تاجکستان کے مابین 2 اکتوبر کو اسلام آباد میں سربراہی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا جو بوجوہ ملتوی ہو گئی۔ اس وقت پاکستانی آرمی چیف روس کا دورہ کر رہے ہیں جو پاک روس تعلقات میں بہتری کے در وا کرے گا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے بے شمار قربانیاں دیں مگر امریکا نے کڑ کڑ کہیں اور انڈے کہیں کے مصداق پاکستان پر بھارت کو ترجیح دیتے ہوئے اس پر نوازشات کی بارش کر دی اور پاکستان کو صرف خالی جھنڈی دکھا دی۔ امریکا اپنا روایتی مفاد پرستی کا کھیل کھیلتے ہوئے ڈرون حملوں کی آڑ میں ایک تیر سے دو شکار کر رہا ہے ایک جانب وہ پاکستان کو دبائو میں لا رہا تو دوسری جانب قبائلی علاقوں میں پاکستان کے خلاف نفرت کو جنم دے رہا ہے۔
وہ قبائلی جو پاکستان کے بازوئے شمشیرزن ہیں ڈرون حملوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے اور نیٹو سپلائی کے بندش کے بعد پاک امریکا تعلقات میں تنائو پیدا ہوا۔ پاکستان نے جب بھی امریکا سے ڈرون حملے بند کرنے کو کہا تو اس نے اس مطالبے کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے حملوں میں شدت پیدا کر کے اپنی طاقت کا سکہ جمانے کی کوشش کی۔ انھی امریکی پالیسیوں کے باعث پاکستان نے روس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا جسے روس نے خوشدلی سے تھام لیا ہے۔ عالمی سطح پر روس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، وہ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا حامل ملک ہے۔
وزیر خارجہ حنا ربانی نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روس کو عالمی اور علاقائی سطح پر امن و استحکام کا ایک اہم عنصر سمجھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاع سمیت تمام سطح پر روابط قائم ہیں۔ پاکستان میں قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔ خوش آیند امر یہ ہے کہ پاکستان اور روس دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات وسیع اور مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔
اس سے نہ صرف علاقائی مسائل حل کرنے میں آسانی پیدا ہو گی بلکہ دہشتگردی سے نمٹنے میں حائل مشکلات پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ امریکا کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کرنا چاہیے تاکہ پاکستان اور اس کی دوستی میں پیدا ہونے والا تنائو ختم ہو سکے۔
روس نے پاکستان پر امریکی ڈرون حملوں کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے ان کو پاکستان کی سالمیت و خود مختاری کے خلاف غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی علاقائی یک جہتی اور خود مختاری کا احترام ضروری ہے۔
امریکا دہشت گردی کی آڑ لے کر پاکستانی علاقوں پر ڈرون حملے کر رہا ہے۔ ان حملوں میں بقول امریکی حکام دہشت گرد ہلاک ہو رہے ہیں۔ اگر اس امریکی موقف کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو اسے اس حقیقت کو بھی ماننا پڑے گا کہ ان حملوں میں بڑی تعداد میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت ہو رہی ہے جس سے ان علاقوں میں نفرت اور انتقام کے جذبات ابھر رہے ہیںجو دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں' جس سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ پاکستان بارہا امریکا سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے مگر وہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی صورت ڈرون حملے بند نہیں کرے گا۔
ڈرون حملوں سے امریکا کو مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے یا نہیں ایک الگ بحث ہے مگر ان حملوں نے پاکستان کے مسائل میں شدید اضافہ کیا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اسلام آباد میں ہونے والی پاک روس وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ڈرون حملے غیر قانونی، نقصان دہ اور پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ خوش آیند بات یہ ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں کے بارے میں حنا ربانی کھر نے جو کچھ کہا وہ اس سے مکمل طور پر متفق ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملے نہ صرف غیر قانونی اور غیر سود مند ہیں بلکہ یہ پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے بڑا حوصلہ افزا امر ہے کہ روس نے ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستانی موقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا یہ موقف اس امر کا عندیہ ہے کہ مستقبل میں پاک روس تعلقات میں بہتری آئے گی۔ سرد جنگ کے دوران پاکستان کے امریکا کی جانب جھکائو کے باعث پاک روس تعلقات میں کبھی گرم جوشی پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ سرد مہری کی چادر میں لپٹے رہے۔
اب ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے لیے چیلنج بن چکے ہیں لہٰذا بہتر حکمت عملی کے تحت پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو وسعت دیتے ہوئے روس کی جانب جھکا ہے۔ روس کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ اس خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ روس اب بھی ایک بڑی قوت ہے اس کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کے لیے بھی افادیت کا باعث ہوں گے۔ اس وقت افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے تسلط کے خلاف وہاں مختلف گروہ برسر پیکار ہیں جس کے باعث وہاں بم دھماکوں کی آوازوں اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ کے باعث امن و امان کی حالت مخدوش ہے۔
افغانستان میں ہونے والی لڑائی کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں اور وہ بھی دہشت گردی کی لہر کی لپیٹ میں آیا ہے جس نے نہ صرف اس کی معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ امن و امان کے بھی سنگین مسائل جنم دیے ہیں۔ روس خود بھی دہشت گردی کے زخم چاٹ رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان' روس' افغانستان اور تاجکستان کے مابین 2 اکتوبر کو اسلام آباد میں سربراہی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا جو بوجوہ ملتوی ہو گئی۔ اس وقت پاکستانی آرمی چیف روس کا دورہ کر رہے ہیں جو پاک روس تعلقات میں بہتری کے در وا کرے گا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے بے شمار قربانیاں دیں مگر امریکا نے کڑ کڑ کہیں اور انڈے کہیں کے مصداق پاکستان پر بھارت کو ترجیح دیتے ہوئے اس پر نوازشات کی بارش کر دی اور پاکستان کو صرف خالی جھنڈی دکھا دی۔ امریکا اپنا روایتی مفاد پرستی کا کھیل کھیلتے ہوئے ڈرون حملوں کی آڑ میں ایک تیر سے دو شکار کر رہا ہے ایک جانب وہ پاکستان کو دبائو میں لا رہا تو دوسری جانب قبائلی علاقوں میں پاکستان کے خلاف نفرت کو جنم دے رہا ہے۔
وہ قبائلی جو پاکستان کے بازوئے شمشیرزن ہیں ڈرون حملوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے اور نیٹو سپلائی کے بندش کے بعد پاک امریکا تعلقات میں تنائو پیدا ہوا۔ پاکستان نے جب بھی امریکا سے ڈرون حملے بند کرنے کو کہا تو اس نے اس مطالبے کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے حملوں میں شدت پیدا کر کے اپنی طاقت کا سکہ جمانے کی کوشش کی۔ انھی امریکی پالیسیوں کے باعث پاکستان نے روس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا جسے روس نے خوشدلی سے تھام لیا ہے۔ عالمی سطح پر روس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، وہ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا حامل ملک ہے۔
وزیر خارجہ حنا ربانی نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روس کو عالمی اور علاقائی سطح پر امن و استحکام کا ایک اہم عنصر سمجھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاع سمیت تمام سطح پر روابط قائم ہیں۔ پاکستان میں قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔ خوش آیند امر یہ ہے کہ پاکستان اور روس دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات وسیع اور مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔
اس سے نہ صرف علاقائی مسائل حل کرنے میں آسانی پیدا ہو گی بلکہ دہشتگردی سے نمٹنے میں حائل مشکلات پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ امریکا کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کرنا چاہیے تاکہ پاکستان اور اس کی دوستی میں پیدا ہونے والا تنائو ختم ہو سکے۔