منموہن سنگھ کی بے جا ناراضی

پاک بھارت تعلقات میں جو بہتری ہورہی ہے، وہ پائیدار اسی وقت ہوگی جب کشمیر کا تنازعہ حل ہوجائے گا

بھارتی وزیر اعظم سردار منموہن سنگھ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
مقام صد ہزار حیرت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سات دہائیوں سے جاری تحریک آزادی کو بھارتی وزیراعظم سردار منموہن سنگھ ایک معمولی مسئلہ کہہ رہے ہیں اور ہمارے صدر آصف زرداری کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس مسئلے کا ذکر کرنے پر ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے صدر زرداری کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو چاہیے تھا، دنیا کو بتاتا کہ اس نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سردار منموہن سنگھ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے مگر پاکستان نے بھارت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے ملک میں شدت پسندی کے ڈھانچے کو منہدم کر کے بھارت مخالف کارروائیاں روک دے گا۔


سردار جی نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر زرداری کے بیان پر حیرت ہوئی ہے کہ انھوں نے دہشتگردی کے ''سب سے بڑے'' مسئلہ کا ذکر کرنے کے بجائے (مقبوضہ کشمیر کے) ''معمولی'' مسئلہ پر خطاب کر دیا۔ بھارتی وزیراعظم کو غالباً یاد نہیں رہا کہ کشمیر کا تنازعہ بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیری باشندوں کو استصواب رائے کا حق دینے کی قرار دادیں بھی منظور ہوئی تھیں۔

اگر بھارت انصاف کرتا تو مقبوضہ ریاست میں آزادی کی تحریک از خود ختم ہو جاتی مگر وہ اب تک جاری ہے اور وہاں آئے دن نوجوانوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے بعد میں جن کی لاشیں ویرانوں سے ملتی ہیں یا انھیں اجتماعی قبروں میں دفن کردیا جاتاہے۔ادھر امریکا نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل کریں۔ واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

واضح رہے نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے ذکر پر پاک بھارت نمایندوں کے مابین لفظی جنگ چھڑ گئی تھی جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان امریکی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ معاملہ سمجھتا ہے اور دونوں ملکوں کو اسے مذاکرات کے ذریعے پر امن طور پر حل کرنا چاہیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری دنیا کشمیر کو ایک متنازعہ مسئلہ سمجھتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں جو بہتری ہورہی ہے، وہ پائیدار اسی وقت ہوگی جب کشمیر کا تنازعہ حل ہوجائے گا۔بھارتی وزیراعظم کو بھی یقیناً اس حقیقت کا ادراک ہوگا،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اس تنازعہ کے حل کی طرف توجہ دیں۔
Load Next Story