امریکی ڈرون اتحادیوں کو فروخت کرنے کی اجازت

ڈرون حملوں سے عام لوگوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوتی ہیں جن کے لیے کولیٹرل ڈیمج کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ نائن الیون واقعہ میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن اس کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا پاکستان کو کرنا پڑا، فوٹو : فائل

DAVOS:
امریکا نے انسداد دہشتگردی کی عالمی جنگ کے لیے بغیر پائلٹ اڑنے والے اپنے میزائل بردار ڈرون طیارے اتحادی ممالک کو فروخت کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ واضح رہے امریکا ریموٹ کنٹرول سے اڑائے جانے والے یہ ڈرون طیارے افغانستان، پاکستان، یمن، صومالیہ، شام اور عراق میں دہشتگردوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے' ان پر بہت زیادہ تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کہ ڈرون حملوں سے عام لوگوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوتی ہیں جن کے لیے کولیٹرل ڈیمج کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

پاکستانی سرزمین پر ڈرون طیاروں کے پے در پے حملوں کے بعد حکومت پاکستان کی طرف سے امریکا سے بار ہا مطالبہ کیا گیا کہ ڈرون ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کی جائے مگر امریکا نے کوئی جواب نہ دیا البتہ یہ دعوی ضرور کیا کہ پاکستانی علاقوں میں ڈرون کا استعمال حکومت پاکستان کی ایما پر ہی کیا جاتا ہے۔ تاہم اب امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ امریکا نے بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں کی اپنے اتحادی ممالک کو فروخت کرنے کے قواعد میں نرمی کر دی ہے اور نئی برآمدی پالیسی مسلح ڈرونز کی فروخت میں سہولت فراہم کریگی۔


واضح رہے یہ ڈرون سودے حکومتوں کے درمیان غیر ملکی سودوں کے پروگرام کے ذریعے ہونگے البتہ ڈرون ٹیکنالوجی خریدنے کے خواہشمند ملک کو اس کے حتمی استعمال کی نگرانی اور دیگر سیکیورٹی شرائط پر بھی آمادہ ہونا ہو گا اور اس عہد نامے پر بھی دستخط کرنا ہوں گے کہ ڈرون کسی بھی ماورائے قانون نگرانی یا مقامی آبادی کے خلاف استعمال نہیں ہو گا بلکہ صرف بین الاقوامی طور پر منظور شدہ فوجی آپریشنز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ان ملکوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جو ڈرون کی خریداری میں دلچسپی لے سکتے ہیں البتہ ڈرون طیاروں کے ممکنہ خریداروں میں اٹلی، ترکی اور خلیجی ممالک سر فہرست ہونگے۔

اس سے قبل امریکا نے ڈرون طیارے صرف برطانیہ کو فراہم کیے ہیں۔ دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ نائن الیون واقعہ میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن اس کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا پاکستان کو کرنا پڑا۔ اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف پیس سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ہم آج بھی تیس لاکھ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کر رہے ہیں البتہ اب پاکستان پر پہلے سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
Load Next Story