رسوائی یا عزت افزائی گرین شرٹس کی جان پر بن آئی
ورلڈکپ کے گروپ آف ڈیتھ میں ویسٹ انڈیز کیخلاف بقا کی جنگ لڑنا ہوگی
یونس خان کو برقرار یا ڈراپ کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگاْ۔ فوٹو: اے ایف پی
رسوائی یا عزت افزائی،گرین شرٹس کی جان پر بن آئی، ورلڈکپ کے گروپ آف ڈیتھ میں ویسٹ انڈیز کیخلاف بقا کی جنگ لڑنا ہوگی، میچ پاکستانی وقت کے مطابق جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب تین بجے شروع ہوگا۔
اولین معرکوں میں شکست خوردہ دونوں ٹیموں کیلیے آؤٹ آف فارم اور ناتجربہ کار کھلاڑی تشویش کا باعث ہیں،گرین شرٹس کو یونس خان کو ٹیم میں برقرار یا ڈراپ کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا،احمد شہزاد کیساتھ دوسرے اوپنر کا انتخاب بھی درد سر بن گیا، سرفراز احمد کو شامل کرنے کی صورت میں یاسر شاہ کو باہر بیٹھنا پڑسکتا ہے،کیریبیئن ٹیم کرس گیل کے بیٹ سے رنز اگلتے دیکھنے کی منتظر ہے،ان فارم لینڈل سمنز اور ڈیرن سیمی امیدوں کا مرکز ہونگے۔
پاکستانی بیٹنگ لائن کاکھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کیلیے ٹاپ آرڈر کو ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جمعرات کو بھی پلیئرز نے بھرپور پریکٹس کی۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈکپ کے اولین معرکے میں پاکستان کو بھارت سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، دوسری جانب ویسٹ انڈیزکی حالت بھی اچھی نہیں رہی اور اسے آئرلینڈ نے زیر کر لیا، پول بی کو گروپ آف ڈیتھ کہا جارہا ہے جس میں جنوبی افریقہ اور بھارت کے مابین اتوار کو میچ سے تعین ہوگاکہ کون سی ٹیم ٹاپ پر جگہ بناتی ہے۔
دیگر ٹیموں میں سے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا مقابلہ بقاکی جنگ ہوگا،گرین شرٹس کو آؤٹ آف فارم یونس خان کو ڈراپ کرنے یا بیٹنگ آرڈر تبدیل کرکے کھلانے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا،اوپنر کی جگہ خالی ہونے پر ناصر جمشید اور سرفراز احمد میں سے کسی ایک کو احمد شہزاد کیساتھ بھیجا جاسکتا ہے،ریگولر وکٹ کیپر کو شامل کرنے سے صہیب مقصود اور یاسر شاہ میں سے کسی کو باہر بیٹھنا ہوگا۔ جمعرات کو پریکٹس سیشن میں پاکستانی ٹیم نے ٹینس اور فٹبال سے وارم اپ ہونے کے بعد نیٹ میں خاصا وقت گزارا، بولنگ کوچ مشتاق احمد اس دوران ریفری کا کردار ادا کرتے رہے۔
کپتان مصباح الحق نے ہلکی پھلکی ورزش کو ترجیح دی، وقار یونس نے احمد شہزاد اور حارث سہیل کو خاص طور پر کیچنگ کی پریکٹس کرائی اور ہر اچھی کوشش پر داد بھی دیتے رہے، نیٹ میں ناصر جمشید کو تھوڑی دیر باؤنسرز کھیلنے کی پریکٹس کرانے کے بعد معاونت کی ذمہ داری سونپ دی گئی، اس سے تاثر یہی ابھرتا ہے کہ وہ کرائسٹ چرچ میں بھی میچ بنچ پر بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں،فیلڈنگ کوچ اور ٹرینر گرانٹ لیوڈن نے بھی سرفراز احمد پر کم اور عمر اکمل پر زیادہ توجہ دی جسکے بعد امکان یہی ہے کہ پاکستان نوجوان بیٹسمین کو دہری ذمہ داری کیلیے کہہ سکتا ہے۔
صہیب مقصود نے بھی نیٹ میں فاسٹ بولرز کا سامنا کرتے ہوئے ایک طویل سیشن کیا، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے انکے کور میں اسٹروکس کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے مشورے دیے۔ پاکستانی ٹاپ آرڈر کی طرف سے استقامت بیٹنگ کا کھویا ہوا اعتماد واپس لانے کیلیے اہم ہوگی، دوسری طرف ویسٹ انڈین بیٹنگ بھی اسی طرح کے مسائل کا شکار ہے، اوپنرز اچھی بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہے، جارح مزاج کرس گیل کا بیٹ بھی رنز اگلنا بھول گیا، البتہ لینڈل سمنز اور ڈیرن سیمی نے آئرلینڈ کیخلاف کارکردگی دکھا کر لوئر آرڈر پر یقین بڑھا دیا، پاکستان کیخلاف اچھا ریکارڈ رکھنے والے مارلون سموئلز سے بھی بلند توقعات وابستہ ہونگی، کیریبیئنز کیلیے بولرز کی لائن لینتھ بھی تشویش کا باعث ہے۔
پہلے معرکے میں نوآموز کپتان ہولڈر نے بولنگ میں بار بار تبدیلیاں کرنے کی حکمت عملی اپنائی جس سے کسی بھی بولر کو ردھم میں آنے کا موقع نہ ملا، ان کی ناتجربہ کاری کو ٹیم کی ایک بڑی کمزوری سمجھا جارہا ہے، پاکستانی کھلاڑی ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں تو بھارت کے ہاتھوں شکست کے زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھنے کے ساتھ کوارٹرفائنل کھیلنے کی امیدیں بھی زندہ رکھی جاسکتی ہیں۔
اولین معرکوں میں شکست خوردہ دونوں ٹیموں کیلیے آؤٹ آف فارم اور ناتجربہ کار کھلاڑی تشویش کا باعث ہیں،گرین شرٹس کو یونس خان کو ٹیم میں برقرار یا ڈراپ کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا،احمد شہزاد کیساتھ دوسرے اوپنر کا انتخاب بھی درد سر بن گیا، سرفراز احمد کو شامل کرنے کی صورت میں یاسر شاہ کو باہر بیٹھنا پڑسکتا ہے،کیریبیئن ٹیم کرس گیل کے بیٹ سے رنز اگلتے دیکھنے کی منتظر ہے،ان فارم لینڈل سمنز اور ڈیرن سیمی امیدوں کا مرکز ہونگے۔
پاکستانی بیٹنگ لائن کاکھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کیلیے ٹاپ آرڈر کو ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جمعرات کو بھی پلیئرز نے بھرپور پریکٹس کی۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈکپ کے اولین معرکے میں پاکستان کو بھارت سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، دوسری جانب ویسٹ انڈیزکی حالت بھی اچھی نہیں رہی اور اسے آئرلینڈ نے زیر کر لیا، پول بی کو گروپ آف ڈیتھ کہا جارہا ہے جس میں جنوبی افریقہ اور بھارت کے مابین اتوار کو میچ سے تعین ہوگاکہ کون سی ٹیم ٹاپ پر جگہ بناتی ہے۔
دیگر ٹیموں میں سے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا مقابلہ بقاکی جنگ ہوگا،گرین شرٹس کو آؤٹ آف فارم یونس خان کو ڈراپ کرنے یا بیٹنگ آرڈر تبدیل کرکے کھلانے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا،اوپنر کی جگہ خالی ہونے پر ناصر جمشید اور سرفراز احمد میں سے کسی ایک کو احمد شہزاد کیساتھ بھیجا جاسکتا ہے،ریگولر وکٹ کیپر کو شامل کرنے سے صہیب مقصود اور یاسر شاہ میں سے کسی کو باہر بیٹھنا ہوگا۔ جمعرات کو پریکٹس سیشن میں پاکستانی ٹیم نے ٹینس اور فٹبال سے وارم اپ ہونے کے بعد نیٹ میں خاصا وقت گزارا، بولنگ کوچ مشتاق احمد اس دوران ریفری کا کردار ادا کرتے رہے۔
کپتان مصباح الحق نے ہلکی پھلکی ورزش کو ترجیح دی، وقار یونس نے احمد شہزاد اور حارث سہیل کو خاص طور پر کیچنگ کی پریکٹس کرائی اور ہر اچھی کوشش پر داد بھی دیتے رہے، نیٹ میں ناصر جمشید کو تھوڑی دیر باؤنسرز کھیلنے کی پریکٹس کرانے کے بعد معاونت کی ذمہ داری سونپ دی گئی، اس سے تاثر یہی ابھرتا ہے کہ وہ کرائسٹ چرچ میں بھی میچ بنچ پر بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں،فیلڈنگ کوچ اور ٹرینر گرانٹ لیوڈن نے بھی سرفراز احمد پر کم اور عمر اکمل پر زیادہ توجہ دی جسکے بعد امکان یہی ہے کہ پاکستان نوجوان بیٹسمین کو دہری ذمہ داری کیلیے کہہ سکتا ہے۔
صہیب مقصود نے بھی نیٹ میں فاسٹ بولرز کا سامنا کرتے ہوئے ایک طویل سیشن کیا، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے انکے کور میں اسٹروکس کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے مشورے دیے۔ پاکستانی ٹاپ آرڈر کی طرف سے استقامت بیٹنگ کا کھویا ہوا اعتماد واپس لانے کیلیے اہم ہوگی، دوسری طرف ویسٹ انڈین بیٹنگ بھی اسی طرح کے مسائل کا شکار ہے، اوپنرز اچھی بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہے، جارح مزاج کرس گیل کا بیٹ بھی رنز اگلنا بھول گیا، البتہ لینڈل سمنز اور ڈیرن سیمی نے آئرلینڈ کیخلاف کارکردگی دکھا کر لوئر آرڈر پر یقین بڑھا دیا، پاکستان کیخلاف اچھا ریکارڈ رکھنے والے مارلون سموئلز سے بھی بلند توقعات وابستہ ہونگی، کیریبیئنز کیلیے بولرز کی لائن لینتھ بھی تشویش کا باعث ہے۔
پہلے معرکے میں نوآموز کپتان ہولڈر نے بولنگ میں بار بار تبدیلیاں کرنے کی حکمت عملی اپنائی جس سے کسی بھی بولر کو ردھم میں آنے کا موقع نہ ملا، ان کی ناتجربہ کاری کو ٹیم کی ایک بڑی کمزوری سمجھا جارہا ہے، پاکستانی کھلاڑی ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں تو بھارت کے ہاتھوں شکست کے زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھنے کے ساتھ کوارٹرفائنل کھیلنے کی امیدیں بھی زندہ رکھی جاسکتی ہیں۔